والد کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز مواد شیئر کرنے والا ملزم ایبٹ آباد سے گرفتار
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایبٹ آباد میں ایک کارروائی کرتے ہوئے فیس بک پر اپنے ہی والد کی مبینہ تضحیک کرنے اور توہین آمیز مواد پھیلانے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپنے والد کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز مواد اور الفاظ پوسٹ کیے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ ’ملزم کی جانب سے والد کی تصویر کے نیچے ’ڈاگز‘ لکھ کر تضحیک آمیز ایموجیز کا استعمال بھی کیا گیا۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ملزم کے زیرِ استعمال موبائل فون برآمد کر لیا گیا ہے جس سے وہ فیس بک اکاؤنٹ بھی مل گیا ہے جہاں یہ مواد شیئر کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق ملزم کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے واضح کیا ہے کہ ’آن لائن ہراسگی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف ادارے کی پالیسی ’زیرو ٹالرنس‘ پر مبنی ہے اور اس طرح کے مکروہ فعل میں ملوث عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
اس سے قبل ستمبر 2026 میں پاکستان میں ایک واقعہ سامنے آیا تھا جب بہاولپور کے ایک 17 سالہ طالب علم نے مصنوعی ذہانت سے اپنے والد کو زہر دے کر قتل کرنے کا طریقہ پوچھا تھا جس کے بعد امریکی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی نشاندہی پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اسے گرفتار کر لیا۔
