اسرائیلی انتخابات میں سخت مقابلہ، نیتن یاہو اور حریف کے مینڈینٹ حاصل ہونے کے دعوے
رپورٹ کے مطابق انتخابات میں گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ ووٹرز نے حصہ لیا (فوٹو: اے پی)
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ دونوں نے مینڈیٹ حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی حکومت بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات میں دونوں ہی واضح برتری حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو ہونے والے انتخابات میں گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ ووٹرز نے حصہ لیا اور سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو کی متنازع حکومت کے بارے میں اپنی رائے دی۔
نیتن یاہو نے اسرائیل کی سیاست کو دائیں بازو کی طرف مزید موڑا اور حماس کے حملے کے جواب میں کئی جنگیں شروع کیں۔
ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق سابق فوجی سربراہ اور سیاست میں نئے آنے والے گادی آئزن کوٹ کا اپوزیشن اتحاد اور نیتن یاہو کا سخت گیر دائیں بازو کا اتحاد قریباً برابر ہی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہا۔
انتخابات میں سب سے زیادہ فائدہ عرب اسرائیلی جماعتوں کو ہوا، جن کے ووٹرز نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ نیتن یاہو مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ عرب اقلیت کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت اسرائیل کی یہودی قوم پرستانہ شناخت کو کمزور کر سکتی ہے۔
بدھ کی صبح قریباً تین بجے یروشلم میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے ’دائیں بازو کی مضبوط حکومت‘ بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’یہودی اور صہیونی اکثریت کو متحد‘ ہونا چاہیے۔
77 سالہ وزیراعظم نے مختصر خطاب کیا اور براہ راست اپنی کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا۔
انہوں نے ان رہنماؤں کا ذکر بھی کیا جن کو اسرائیل نے ان کے حکم پر ہلاک کیا اور ایسا اشارہ بھی دیا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران پر تیسری بار بمباری کرنے کے لیے تیار ہیں جو کہ ان کے قریبی اتحادی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ جیسے اتحادی کی موجودگی میں اسرائیل کے پاس یہ منفرد موقع ہے کہ وہ ایران سے لاحق خطرات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔
دوسری جانب گادی آئزن کوٹ نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کو خبردار کیا جن کے بارے میں مبصرین خیال ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ جنگ کا سہارا لے کر تمام بڑی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ حکومت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
گادی آئزن نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی ہمت نہ کریں۔‘
اسرائیل کے سکیورٹی اداروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہے، نیتن یاہو کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کو ایسا وزیراعظم قرار دیا جو عوامی مینڈینٹ رکھتے ہیں اور نہ ہی عوامی اعتماد رکھتے ہیں۔
’عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا‘
گادی آئزن کے سکیورٹی سے متعلق کئی نظریات نیتن یاہو سے ملتے جلتے ہیں۔ وہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی بھی حمایت کر چکے ہیں، جن کے نتیجے میں غزہ کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔
تاہم انہوں نے اسرائیل میں تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے اور مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ان آبادکاروں پر فلسطینیوں پر حملوں کے الزامات ہیں لیکن انہیں عموماً سزا سے بچنے کا موقع ملتا رہا ہے۔
انتخابات میں تقریباً 78 فیصد ووٹرز نے حصہ لیا، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ آئزن کوٹ نے کہا کہ دوبارہ انتخابات کرانا غلطی ہوگی اور وہ جلد از جلد حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔
ان کے مطابق ’عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے ایک باعزت رہنما کو عوام کی جانب سے عدم اعتماد کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے آج ہی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دینا چاہیے۔‘