ایرانی سپریم لیڈر کی سکیورٹی امور کے سربراہ محسن رضائی سے ملاقات، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال
ایرانی سپریم لیڈر کی سکیورٹی امور کے سربراہ محسن رضائی سے ملاقات، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال
منگل 27 اکتوبر 2026 15:49
یہ سپریم لیڈر اور محسن رضائی کے درمیان ایسی پہلی ملاقات ہے جس کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے (فائل فوٹو: ارنا)
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے سکیورٹی امور کے سربراہ محسن رضائی سے ملاقات کی ہے، جس میں علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر نے منگل کو اِس ملاقات کی اطلاع دی۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک عوام کے سامنے آکر کوئی بیان نہیں دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو مارچ میں اپنے والد اور طویل عرصے تک ایران پر حکمرانی کرنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای کا جانشین منتخب کیا گیا تھا۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو وسطی تہران میں امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں سینئر فوجی کمانڈروں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔ بتایا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد سے صرف تحریری پیغامات کے ذریعے ہی اپنا مؤقف سامنے رکھا ہے۔ اِن میں سے بعض پیغامات اُن کی جانب سے ہاتھ سے لکھے گئے خطوط کی صورت میں شائع کیے گئے جسے اُن کی تحریر قرار دیا گیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کے بیان کے مطابق، سپریم لیڈر اور محسن رضائی کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے جس کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ ملاقات میں ’ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے‘ اور ’آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے قومی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ‘ پر گفتگو ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اِس بات پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور ایسی صورتِ حال سے نکلنے کے لیے، جس میں نہ جنگ ہو اور نہ امن، ملک کی قیادت کی جانب سے طے کردہ شرائط پر عمل کرتے ہوئے ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔
اِس ملاقات کا اعلان محسن رضائی کی سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے ایک روز بعد کیا گیا۔ اِن تینوں ممالک نے حال ہی میں باہمی دفاع کے لیے مکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای اور محسن رضائی کی ملاقات کب اور کہاں ہوئی، اِس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنی اجازت کے بغیر اِس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو اکثر نشانہ بناتا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں ایران کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے بھی حال ہی میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے (فائل فوٹو: تہران ٹائمز)
بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں، اور خاص طور پر جون میں ہونے والے اُس معاہدے کے ناکام ہونے کے بعد، جس میں تنازع کے مستقل حل تک پہنچنے کا لائحۂ عمل طے کیا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں ایرانی حکام نے بھی سپریم لیڈر سے اپنی ملاقاتوں کی اطلاعات دی ہیں۔ اِن میں عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں، جنہوں نے بتایا کہ اُنہوں نے حال ہی میں سپریم لیڈر سے غیر معمولی ملاقاتیں کی ہیں۔