Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’العلا کا بہتر تعارف‘، 50 نوجوانوں کو موثر گفتگو کے گُر سکھانے کا پروگرام

العلا مملکت کے اہم ترین ثقافتی مراکز میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے (فوٹو: رائل کمیشن آف العلا)
العلا کے 50 نوجوان مرد و خواتین کو بات چیت کرنے، پریزنٹیشن اور کہانی سنانے کی تربیت دی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد مقامی افراد کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر العلا کا تعارف بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق کفاء ایسوسی ایشن فار یوتھ ڈویلپمنٹ 30 اکتوبر سے تین نومبر تک بوصلۃ المعنیٰ اور سعودی سپیکرز کی شراکت داری میں اور متعدد مالی معاونین کے تعاون سے العلا ایمبیسیڈرز سعودی سپیکرز پروگرام کا اہتمام کرے گی۔
پانچ دنوں کے دوران ماہرین ذاتی پہچان بنانے، ڈیجیٹل موجودگی قائم کرنے، آواز کی ادائیگی اور کہانیاں سنانے کی مہارتیں بہتر کرنے، اور سامعین کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مختلف صورتحال سے نمٹنے کے بارے میں سیشنز چلائیں گے۔
عملی مشقیں العلا کے ثقافتی اور سیاحتی تجربات پر مبنی ہوں گی جس سے شرکاء کو اپنے ارد گرد کے ماحول سے جڑے موضوعات کے ذریعے اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع ملیں گے۔
اس پروگرام کا مقصد العلا کے بارے میں پریزینٹنگ، تقریبات کے انعقاد اور مواد کی تیاری کے شعبوں کے لیے مقامی صلاحیتوں کو تیار کرنا ہے۔ شرکا کو اس قابل بھی بنایا جائے گا کہ وہ گورنریٹ کے اندر اور باہر قومی تقریبات میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
یہ انیشیٹیو تربیت، تقریبات کے انعقاد، کمیونٹی کی شمولیت اور میڈیا کے شعبوں میں حصہ لینے والی تنظیموں کے تجربے کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔
اس کا اختتام عملی چیلنجز اور ایک تقریب کے ساتھ ہوگا جو العلا کے گورنر راشد بن عبداللہ القحطانی کی سرپرستی اور موجودگی میں منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر تقریر، پریزینٹنگ اور سامعین کو العلا سے روشناس کرانے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو انعامات دیے جائیں گے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گورنریٹ بین الاقوامی کانفرنسوں اور فیسٹیول کے میلے کی میزبانی کے اپنے کردار کو وسعت دے رہا ہے جس سے سیاحتی گائیڈز کے ساتھ ساتھ مقامی مقررین، تقریبات کے میزبانوں اور کانٹینٹ کری ایٹرز کی مانگ پیدا ہو رہی ہے۔
یہ پروگرام العلا کے ورثے کو لوگوں تک پہنچانے اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں سے رابطہ قائم کرنے میں مقامی لوگوں کو بڑا کردار دینے کی کوششوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
العلا مملکت کے اہم ترین ثقافتی مراکز میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔ العلا کے شاہی کمیشن کو جولائی 2017 میں اس کی ترقی کی نگرانی اور اس کے ورثے کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا تھا جس کے تحت حجر کا مقام بھی آتا ہے جو 2008 میں سعودی عرب کا پہلا یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ بنا۔

عملی مشقیں العلا کے ثقافتی اور سیاحتی تجربات پر مبنی ہوں گی (فوٹو: رائل کمیشن فار العلا)

اپریل 2021 میں شروع کیے گئے ’جرنی تھرو ٹائم‘ منصوبے کے تحت علاقے کی ترقی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے 2035 تک کا لائحۂ عمل طے کیا گیا ہے۔
یہ پروگرام سعودی وژن 2030 کے ان اہداف کے عین مطابق ہے جن کا مقصد غیر منافع بخش شعبے کو مضبوط بنانا اور قومی پیداوار میں اس کا حصہ بڑھانا ہے تاکہ کمیونٹی کی تنظیمیں مقامی ترقی میں بڑا کردار ادا کر سکیں۔

 

شیئر: