حکام کے مطابق مرکزی سپین میں ایک تیز رفتار ٹرین کھڑی ہوئی دوسری ٹرین سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اس سال سپین میں پیش آنے والا دوسرا بڑا ٹرین حادثہ ہے۔
سپین کے ریلوے سسٹم آپریٹر ’اے ڈی آئی ایف‘ نے بتایا کہ یہ حادثہ بدھ کی صبح صوبہ طلیطلہ (تولیڈو) میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد میڈرڈ، سیوداد ریال اور اندلس کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
-
اوڈیشہ ٹرین حادثہ: باپ کو ’مرا ہوا‘ بیٹا زندہ کیسے ملا؟Node ID: 770421
-
انڈین ریاست آسام میں مسافر ٹرین کی ٹکر سے سات ہاتھی ہلاکNode ID: 898554
علاقائی ترجمان پادیلا نے قومی نشریاتی ادارے ’ٹی وی ای‘ کو بتایا کہ یہ حادثہ سیکڑوں مسافروں کو لے جانے والی ان دو تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان ہوا جو دارالحکومت میڈرڈ سے جنوب مغربی سپین کے شہر سیویل کی طرف ایک ہی سمت میں جا رہی تھیں۔
ایک ٹرین نے پیچھے سے دوسری کھڑی ٹرین کو ٹکر ماری جس سے اس کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی اصل وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
یہ حادثہ اردا اور لوس یبینیس کے قصبوں کے درمیان کھیتوں سے گھِرے ایک ہموار علاقے میں پیش آیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ ایک بوگی دھات کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو گئی اور ملبہ ایک ڈھلوان پر دور دور تک پھیل گیا۔

سپین کی وزیر صحت مونیکا گارشیا نے ٹی وی ای کو بتایا کہ امدادی کارکن شدید متاثرہ دو بوگیوں سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو علاقے کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا ’یہ بہت تیز رفتار ٹکر تھی، اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ یہ ایک بڑی سانحہ ثابت ہو گا۔‘
حادثے میں سپین کی سرکاری کمپنی رینفے اور نجی کمپنی ایریو کی ٹرینیں شامل تھیں۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رینفے کی ٹرین نے ایریو کی ٹرین کو پیچھے سے ٹکر ماری۔ واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں ہونے والے خوفناک حادثے میں بھی انہی دونوں کمپنیوں کی ٹرینیں شامل تھیں۔
پادیلا کے مطابق رینفے کی ٹرین میں 397 اور ایریو کی ٹرین میں 147 مسافر سوار تھے۔
اطالوی ملکیت والی کمپنی ’ایریو‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ’اپنے سکیورٹی پروٹوکول کو فعال کر دیا ہے اور وہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔‘

قریب واقع قصبے ’اردا‘ کے میئر مانوئل گالان نے ٹی وی ای کو بتایا کہ سول پروٹیکشن حکام نے ان کی بلدیہ سے زخمی مسافروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک سپورٹس پویلین تیار کرنے کو کہا ہے۔
امدادی سرگرمیوں میں فائر فائٹرز، پولیس اور دیگر ہنگامی خدمات کی مدد کے لیے ملٹری ایمرجنسی بریگیڈ کو بھی حادثے کی جگہ پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کی صورتحال پر توجہ دینے کے لیے کی تمام مصروفیات منسوخ کر دی ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ وہ ’طلیطلہ میں ہونے والے اس شدید ٹرین حادثے پر انتہائی غمزدہ ہیں۔‘
سانچیز جنہیں اگلے ماہ قومی انتخابات کا سامنا ہے، نے مزید لکھا ’ہنگامی خدمات کے ادارے متاثرہ مسافروں کی مدد کے لیے موقع پر کام کر رہے ہیں۔ میری تمام تر ہمدردیاں متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘
کاسٹیلا لا مانچا کے علاقائی صدر ایمیلیانو گارشیا پیج نے بھی ایکس پر لکھا کہ وہ حادثے کی جگہ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
رواں برس جنوری میں بھی جنوبی سپین میں ایک ٹرین کے پٹری سے اتر کر سامنے سے آنے والی ٹرین سے ٹکرانے کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ حادثہ 2013 کے بعد اسپین کا سب سے مہلک ٹرین حادثہ تھا جس میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔












