اسرائیل میں انتخابات: نیتن یاہو اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، اپوزیشن اور عرب جماعتوں کی 67 نشستیں
اسرائیل میں عام انتخابات کے نتائج نے سیاسی صورتِ حال کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جہاں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں جانب سے حکومت بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بدھ کو امید ظاہر کی کہ ملک میں دوبارہ الیکشنز کرانے کی نوبت نہیں آئے گی۔
7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیل میں منگل کو ہونے والے پہلے عام انتخابات میں 85 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر بنیامین نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد معمولی برتری کے باوجود پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
طویل ترین عرصے تک اسرائیل کے وزیراعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر حکموت سازی کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں اور انہیں انتہائی دائیں بازو اور انتہائی قدامت پسند پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کے وسیع اتحاد کی قیادت کرنے والے سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ نے بھی نئی حکومت بنانے کے لیے اپنی کوششیں شروع کردی ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کو 120 رُکنی پارلیمان میں 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ آئزن کوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں مل سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے کم سے کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
تاہم اسرائیلی عرب جماعتوں نے ان الیکشنز میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور ان کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
عرب جماعتوں کی حمایت میں اضافہ
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ انتخابات کے بعد تمام جماعتوں کو مل کر کوشش کرنی چاہیے کہ ملک میں دوبارہ انتخابات نہ کرانا پڑیں۔ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی امیدوار کو نامزد کر سکتے ہیں۔
بائیں بازو کی عرب اکثریتی جماعت جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے کہا کہ اسرائیلی عوام نے نئی قیادت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جو بھی پارٹی بنیامین نیتن یاہو کی جگہ نئی حکومت بنانا چاہتی ہے، اسے عرب جماعتوں سے بات چیت کرنا ہوگی۔
