یونیورسٹی میں ملازمت سے سفارتکاری تک: جدہ قونصلیٹ میں ڈپٹی قونصل جنرل فارینہ ارشد سے ملیے
بدھ 28 اکتوبر 2026 23:57
خالد خورشید -اردو نیوز، جدہ
پاکستان قونصلیٹ جدہ وزارت خارجہ کا بیرون ملک سب سے بڑا مشن ہے اور ریجن مں موجود اٹھارہ لاکھ پاکستانیوں کو قونصلر خدمات فراہم کر رہا ہے۔
جدہ قونصلیٹ میں 2018 میں پہلی خاتون سفارتکار فوزیہ فیاض کو بطور قونصلر تعینات کیا گیا۔ اس کے بعد قونصلیٹ میں خواتین سفارتکاروں کے تقرر کی راہ ہموار ہوئی۔ اب قونصلیٹ میں ڈپٹی قونصل جنرل سمیت چار اہم پوزیشنوں پر خواتین سفارتکار فرائض انجام دے رہی ہیں۔
ڈپٹی قونصل جنرل فارینہ ارشد ایک کیریئر سفارتکارہیں۔ وزارت خارجہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر چائنا، یورپ، بنگلہ دیش میں سیکنڈ سیکرٹری، جنیوا اور اوآئی سی میں پاکستان کے مستقل مشن میں اہم ذمہ داریوں کے بعد اب پاکستان قونصلیٹ جدہ میں نئی پوسٹنگ ہے۔
بزنس ایڈمنٹسریشن میں ماسٹر کے بعد فارن سروس جوائن کرنے والی فارینہ ارشد نے سی ایس ایس کی تیاری ایک نجی یونیورسٹی میں نائن ٹو فائیو جاب کرتے ہوئے کی اور یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ فارن سروس جوائن کرنا ہمیشہ سے ان کی پہلی ترجیح رہی۔
اپنے کیریئر میں تجربات سے سیکھنے اور اپنے کام میں مزید بہتری لانے پر یقین رکھتی ہیں۔ سعودی عرب میں بطور سفارتکار تعیناتی اور نئی ذمہ داریوں کے حوالے سے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کی۔
بطور خاتون سفارتکار تعیناتی کے حوالے سے انہوں نے کہا ’بہت سے لوگوں نے شروع میں مجھ سے کہا سعودی عرب میں کام کرنا مشکل ہوگا۔ حالات سازگار نہیں ہیں لیکن جب میں یہاں آئی اور خود دیکھا تو پتہ چلا اس طرح کی کوئی بات نہیں تھی۔‘
ان کا کہنا تھا ’مملکت میں بہت سی خواتین واک آف لائف میں نظر آتی ہیں۔ جب آپ ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو خواتین ہی ویلکم کر رہی ہوتی ہیں۔ امیگریشن آفیسرز خواتین ہوتی ہیں۔ مجھے تو کام کے حوالے سے خواتین سفارتکاروں کے لیے یہاں ایسا کوئی بھی چیلنج نظر نہیں آیا۔ اب بہت سے دوسرے سفارتخانوں میں خواتین اہلکار اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ سری لنکا، ملائتشیا، انڈونیشیا سمیت بہت سے سفارتخانوں میں اس وقت خواتین تعینات ہیں۔‘

قونصلیٹ میں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا ’سعودی عرب میں پاکستاتی ورکرز یہاں کام کرتے ہیں۔ عمرہ زائرین بھی یہاں آتے ہیں۔ ان کے بہت سے مسائل ہیں۔ ہمارا کام ان کے مسائل سے ڈیل کرنا ہے۔‘
’اگرانہیں کوئی چیلنج ہے تو اس کے حل میں مدد فراہم کرنی ہے۔ کسی کی فلائٹ میں تاخیر ہوگئی یا پاسپورٹ کھو گیا۔ ویزا ایکسپائر ہوگیا یا کوئی یہاں پھنس گیا ہے اس طرح کے مسائل سے ہم ڈیل کرتے ہیں پھر پاکستانی ورکرزکے آجر کے ساتھ کوئی معاملات ہیں یا واپسی کا مسئلہ ہے۔ جنرل ایشوز میں پاکستانی کسی مشکل کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان سب معاملات سے ڈیل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘

جدہ میں کمیونٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’پاکستانی کمیونٹی یہاں بہت ریسپیکٹ فل ہے۔ ہر لحاظ سے ہمارے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ ذاتی طور پر مجھے ایسا لگا کہ جیسے پاکستان میں ہی ہوں۔‘
’جیسے پاکستان میں خواتین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ زیادہ عزت دی جاتی ہے۔ ہماری کمیونٹی کے لوگ بھی اسی طرح ڈیل کرتے ہیں۔ پاکستان میں جس طرح کام کیا۔ اسی طرح جدہ میں بھی کام کر رہے ہیں۔ مجھے تو کوئی فرق نہیں لگا۔‘
سعودی عرب میں پوسٹنگ پر احساسات کے حوالے سے فارینہ ارشد نے کہا ’جب بھی کسی مسلم سفارتکار کی یہاں پوسٹنگ ہوتی ہے وہ اسے بلیسنگ سمجھتا ہے کیونکہ حرمین کے قریب رہنا بہت بڑی بات ہے۔ جب آپ کا دل چاہے حرمین جا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جو دنیا میں اور کہیں نہیں ہے۔‘

’دوسرے ملک سے بھی آپ یہاں عمرے اور وزٹ کے لیے آسکتے ہیں لیکن جیسے دل پریشان ہے یا ویسے ہی دل چاہ رہا ہے کہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے چلے جائیں تو آپ فوری طور پر جا سکتے ہیں۔ ایسا دنیا میں اور کہیں نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ آپ جدہ میں تعینات ہوں اور جب دل چاہے اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے چلے جائیں۔
سفارتی میدان میں سعودی خواتین کی کامیابیوں کے حوالے سے کہا ’او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مشن میں تعیناتی کے دوران وہاں بہت سی خواتین سفارتکاروں سے ملاقات رہی۔ سعودی مشن اور فارن آفس میں بہت سی خواتین ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں خواتین سفارتکار جس طرح ایکٹیو ہیں سعودی خواتین بھی سفارتکاری کے میدان میں فعال ہیں اور خدمات انجام دے رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’پاکستانی سفارتکار سعودی عرب کو دوسرا گھر نہیں، اپنا گھر ہی سمجھتے ہیں۔ ہمیں ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لگتا ہے جیسے اپنے ہوم سٹیشن پر ہیں۔ اگرچہ فیملی دور ہوتی ہے لیکن یہ گھر جیسی ہی فیلنگ ہے۔‘
’موجودہ حالات میں بھی بطور سفارتکار خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ سعودی حکومت یہاں موجود تارکین، کمیونٹی اور سفارتکاروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام بھی کررہی ہے۔ اس طرح کا کوئی مسئلہ ہم یہاں نہیں ایکسپیرئنس کرتے۔‘
پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے کہنا تھا ’دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ سے بہت اچھے رہے ہیں اور یہ تعلقات مزید ترقی کریں گے۔‘
