پاسپورٹ اور نادرا سروسز: پاکستان قونصلیٹ جدہ میں نیا اپوائنٹمنٹ سسٹم کتنا کامیاب؟
پاکستان قونصلیٹ جدہ پاکستانی وزارت خارجہ کا بیرون ملک سب سے بڑا مِشن ہے۔ مملکت کے ویسٹرن ریجن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ریجن میں قریباً 18 لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو قونصلر خدمات کی فراہم ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
جدہ قونصلیٹ کی پرانی بلڈنگ میں پاسپورٹ اور نادرا سروسز کے لیے لوگوں کی طویل قطاریں صبح سے لگنا شروع ہوجاتی تھیں۔ دور دراز سے آنے والے رات کو پہنچ کر قونصلیٹ کے باہر ڈیرے ڈال لیتے تاکہ صبح انہیں ٹوکن پہلے مل سکے۔
16 مارچ کو قونصلیٹ کی نئی عمارت میں منتقلی کے بعد کمیونٹی کو فراہم کی جانے والی سروسز میں کوالٹی چینج دیکھنے میں آیا۔ مختلف سفارتخانوں میں اپوائنٹمنٹ سسٹم کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینے کے بعد یکم اکتوبر سے نیا اپائنمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا۔
اس سسٹم کے ایک ماہ ہونے پر ملنے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر یہ جائزہ لینے کی کوشش کی کہ نیا اپوائنٹمنٹ سسٹم کتنا موثر رہا۔ وقت کی بچت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا۔ رش کم ہوا یا اب بھی برقرار ہے۔ یہ سوالات قونصل جنرل کے سامنے رکھے۔
قونصل جنرل مصطفی ربانی نے اردو نیوز کو بتایا ’جب نئی بلڈنگ میں منتقل ہوئے تو ریلائز کیا ہمارے پاس سپیس اب زیادہ ہے اور لوگ باعزت طریقے سے بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم نے سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے ایک ماہ تک جائزہ لیا۔ ہم نے دیکھا کہ صبح کے وقت زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایک وقت میں 700 سے 800 لوگ پہنچ جاتے تھے۔ لوگوں کو بعض کیسزمیں پانچ گھنٹے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔‘
ایک ہفتے کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو یومیہ اوسطا 600 پلس سے زیادہ پاسپورٹ پراسز ہو رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا ایک دن 900 پاسپورٹ تک پراسز کیے جبکہ کسی ایک دن محض 257 پاسپورٹ پراسز ہوئے۔ڈیٹا کا مکمل جائزہ لینےکے بعد اپائنمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگوں کا ویٹنگ ٹائم کم سے کم ہوسکے اور وہ قونصلیٹ پہنچنے کے 30 منٹ کے اندر اپنا کام کرکے چلے جائیں۔

اپوائنٹمنٹ کے لیے تین بنیادی فیچرز
نئے اپوائنٹمنٹ سسٹم میں کسی فرد کی شناخت کے تین بنیادی فیچرز ہیں۔ نام، آئی ڈی کارڈ اور فون نمبر، یہ لازمی ہیں۔ لوگ قونصلیٹ کی ویب سائٹ پر صرف تین معلومات درج کرتے ہیں۔ ٹائم سلیکٹ کرتے ہیں اور انہیں اپنی اپوائنٹمنٹ کنفرمیشن ایس ایم ایس پر آجاتی ہے۔
اس سسٹم میں ای میل کا بھی آپشن ہے لیکن لازمی نہیں ہے۔ اس سسٹم میں پاسپورٹ کے ایوریج یومیہ اپوائنٹمنٹ 610 ہیں جبکہ 25 انتہائی ضروری کیسز کے لیے ہیں۔ اسی طرح نادر کے 249 اپوائنٹمنٹ رکھے ہیں۔

پہلے دن ہی رزلٹ نظر آیا
یکم اکتوبر سے نیا اپوائنٹمنٹ سسٹم شروع کیا۔ پہلے دن توقع کر رہے تھے سو ڈیڑھ سو افراد اپائنمنٹ لیں گے لیکن پہلے دن ہی ہمیں رزلٹ نظر آیا۔ پاسپورٹ کے 610 میں سے 512 جبکہ نادرا کے 239 میں سے 180 اپوائنٹمنٹ بک تھے۔ اب ہمارے اپوائنٹمنٹ گنجائش کے مطابق مکمل بک جا رہے ہیں۔ تقریبا ایک دو فیصد نو شو ہوتے ہیں۔ اس میں اگر ہمارے پاس کوئی دور دراز علاقے سے کوئی نو شو آیا ہوا تو ہم اسی وقت اپوائنٹمنٹ دے کر انہیں بھی ایڈجسٹ کرلیتے ہیں۔
روزانہ 1600 سے 2000 افراد کو قونصلر سروسز
قونصل جنرل کا کہنا تھا فیڈ بیک بہت مثبت ہے۔ خصوصا لوگ دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو آسانی ہوئی ہے۔ لوگ اب اپوائنٹمنٹ لے کر اپنے وقت پر پہنچتے ہیں۔ کراؤڈ کم ہوگیا لیکن پاسپورٹ اتنے ہی پراسز ہو رہے ہیں کیونکہ لوگ اپنے مقررہ ٹائم پر آتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا اپوائنٹمنٹ سسٹم کے بعد بھی ہم اتنا ہی سرو کر رہے ہیں جتنا پہلے کر رہے تھے۔ اپوائنٹمنٹ صرف پاسپورٹ اور نادرا کے لیے ہیں دیگر قونصلر سروسز اس کے علاوہ ہیں۔ اگر ایوریج نکالیں تو 1600 سے 2000 افراد کو قونصلیٹ میں سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔

نئے اپوائنٹمنٹ سسٹم میں سکیورٹی فیچرز
اپوائنٹمنٹ سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے سے کہنا تھا اس میں کل 61 سکیورٹی فیچرز ہیں۔ اس سسٹم کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ خصوصا نمبرز چیک کرتے ہیں۔ ایک نمبر بار بار تو نہیں استعمال کیا جا رہا۔ اگر ہمیں لگے یا سسٹم یہ پتہ لگائے کہ ایک ہی موبائل سے بار بار اپوائنٹمنٹ ہو رہے ہیں تو وہ عارضی طور پر بلاک ہو جاتا ہے۔ موبائل پرائمری ٹیکسٹ کنفرمیشن ہے۔
ای میل کے کیس میں یہ تھا کہ لوگ نئے ای میل بنا کر اپوائنٹمنٹ بلاک کرسکتے تھے۔ اس کے ساتھ آئی پی ایڈریس بھی ٹریک کر رہے ہیں دیگر سکیورٹی فیچرز بہت زیادہ ہیں تاکہ اس کا مس یوز نہ ہو سکے۔

اپوائنٹمنٹ کا وقت نکلنے پر کیا کریں
مصطفی ربانی کا کہنا تھا دور دراز سے آنے والے ایسے افراد جو وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اگر ان کے اپوائنٹمنٹ کا وقت نکل جائے تو انہیں بھی ایڈجسٹ کرتے ہیں۔
تاہم ایمرجنسی کا معاملہ پاسپورٹ اور نادرا کارڈ میں نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ایکسپائری کا پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ کوشش کی جائے ایکسپائری سے پہلے تجدید کرالیں پھر بھی اگر ایمرجنسی میں سفر کی ضرورت ہے تو اس کے دیگر آپشن بھی موجود ہیں۔
اگر کسی کو مشکل درپیش ہے تو قونصلر آفیسرز موجود ہیں۔ ہماری دو ایمرجنسی لائن ہیں۔ اس پر مسیج بھیجا جا سکتا ہے۔

اپوائنٹمنٹ کیسے بک کریں
کیو آر کوڈ، قونصلیٹ جنرل جدہ کی ویب سائٹ اور پورٹل appointment.parepjeddah.org کے ذریعے اپنی مطلوبہ سروس کے لیے دستیاب تاریخ اور وقت کا انتخاب کرکے اپوائنٹمنٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اپوائنٹمنٹ بک ہونے کے بعد درخواست گزار کو ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع اور ٹریکنگ آئی ڈی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
قونصلیٹ کا کہنا ہے اس نئے نظام کا مقصد خدمات کو زیادہ منظم کرنا، انتظار کا وقت کم کرنا اور کمیونٹی کے لیے خدمات کو آسان بنانا ہے۔
