بیریئر ہٹانے کا مقدمہ: ایمان مزاری اور شوہر ہادی چٹھہ کو 10، 10 برس کی سزا
جمعرات 29 اکتوبر 2026 12:40
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد فیصلہ سنایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو کار سرکار میں مداخلت میں مقدمے میں 10، 10 برس کی سزا سنا دی گئی ہے۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کے جج طاہر عباس سپرا نے جمعرات کو اڈیالہ جیل میں مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ریاستی امور میں مداخلت کے الزامات سے متعلق ہے۔
جوڑے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے سکیورٹی کے لیے لگائے بیریئر کو ہٹانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے سکیورٹی خطرات پیدا ہوئے، اس کے بعد تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عدالت کی جانب سے اس کیس میں عاطف محمود کو سٹیٹ کونسل مقرر کیا گیا تھا انہوں نے گواہان پر جرح کی۔
استغاثہ کی جانب سے مقدمے میں مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے گئے تھے جبکہ ملزمان پر سات اکتوبر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
عدالت نے مختلف دفعات کے تحت دونوں ملزمان پر 50 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق تین مختلف انفرادی دفعات کے تحت ایمان مزاری اور شوہر ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 13 سال قید کی سزا بنتی ہے تاہم دفعہ 182 کے تحت ملنے والے فائدے کے باعث انہیں دس، دس برس قید کی سزا کاٹنا ہو گی۔
خیال رہے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پہلے سے ہی متنازع ٹویٹس کے ایک کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت 17، 17 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جو ان کو رواں برس جنوری میں سنائی گئی تھی۔
اگست 2026 میں سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کر لی تھی، جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے ہی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
