’صحت مند سمندری ماحول‘: گوادر کے پانیوں میں سینکڑوں ڈولفنز کی آمد
’صحت مند سمندری ماحول‘: گوادر کے پانیوں میں سینکڑوں ڈولفنز کی آمد
منگل 27 اکتوبر 2026 11:47
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے ویسٹ بے میں ماہی گیروں نے 500 سے زیادہ ڈولفن کا ایک بڑا غول دیکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ان کی موجودگی علاقے کے صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہی گیر کشتی کے کپتان امیر داد خان نے بتایا کہ انہوں نے آج صبح اپنی کشتی کے قریب ڈولفنوں کے ایک بڑے گروپ کو چھلانگیں لگاتے اور اجتماعی انداز میں تیرتے ہوئے دیکھا۔
سمندری حیات کے ماہر اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق یہ انڈو پیسیفک باٹل نوز ڈولفنز تھیں جنہیں سائنسی نام ٹرسی اوپس اوڈینکس کہا جاتا ہے۔ یہ نسل بحرِ ہند اور مغربی بحرالکاہل کے گرم پانیوں میں پائی جاتی ہے جن میں پاکستان کے ساحلی علاقے بھی شامل ہیں۔
یہ ڈولفنز عموماً ساحلی پانیوں میں رہتی ہیں تاہم کبھی کبھار جھیل نما آبی علاقوں اور دریائے سندھ کے دہانوں تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔ یہ سماجی اور ذہین سمجھی جاتی ہیں اور اکثر بڑے غول کی صورت میں سفر کرتی ہیں۔
گوادر کے کم گہرے پانیوں میں اتنے بڑے غول کا کھیلتے کودتے اور بلند چھلانگیں لگاتے نظر آنا بلوچستان کے ساحل خصوصاً گوادر کے لیے ایک امید افزا علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
محمد معظم خان کے مطابق گوادر کے ویسٹ بے میں انڈو پیسیفک باٹل نوز ڈولفنز کے اس بڑے جھنڈ کی موجودگی ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ساحلی اور گہرے سمندری پانیوں میں حیاتیاتی تنوع اور صحت مند ماحولیات کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈولفنز اکثر بڑے غول کی صورت میں سفر کرتی ہیں (فوٹو: سکرین گریب)
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان ملک کے ساحلی اور گہرے سمندری پانیوں میں ’سیٹیشیئنز‘ کی نگرانی کرتا ہے۔ ان میں ڈولفنز، وہیلز اور پورپوائزز شامل ہیں۔
محمد معظم خان نے بتایا کہ ادارہ اب تک ایسی 26 اقسام کا ریکارڈ مرتب کر چکا ہے جن میں ساحلی ڈولفنز، گہرے سمندر کی ڈولفنز، دانتوں والی اور بیلین وہیلز، اور سپرم وہیلز شامل ہیں۔
ان کے بقول ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ماہی گیروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ماہی گیری کی سرگرمیوں اور ’سیٹیشیئنز‘ کے درمیان تصادم کم کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے سمندری پانیوں میں ڈولفنز اور وہیلز کی اہم آبادیوں کے تحفظ میں مدد ملی ہے۔