Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغان فورسز کی ’بلااشتعال‘ گولہ باری سے جنوبی وزیرستان میں شہری ہلاک، ’بھرپور جواب دیا گیا‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کئی ماہ سے کشیدہ ہیں اور متعدد جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے حکام نے کہا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے سرحدی علاقے میں ’اشتعال انگیزی‘ کی گئی ہے جس کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغانی فوج نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور ایک گھر پر گولہ گرنے سے ایک شہری ہلاک اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے جواب میں پاکستان کی فوجی نے فوری کارروائی کی اور افغان فوجیوں کی متعدد چیک پوسٹوں کو تباہ کیا۔
جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے واقعے کے بارے میں ٹویٹ کی گئی ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ ’27 اکتوبر کی رات کو افغان طالبان کی حکومت نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں بازار اور شہریوں کے گھروں پر بلااشتعال فائرنگ کی، ایک شہری مارٹر گولہ لگنے سے ہلاک ہو گیا پانچ افراد زخمی ہوئے اور کئی دکانوں کو نقصان پہنچا۔‘
اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’سرحد پرموجود پاکستانی فورس کی جانب سے موثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

Caption

گورنر خیبر پختونخوا کریم کنڈی کی مذمت

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے گورنر جنوبی وزیرستان کی پوسٹ پر لکھا کہ ’افغان طالبان حکومت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستان اپنے عوام پر حملے اور اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی کبھی برداشت نہیں کرے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور کسی کو بھی عوام کے لیے خطرہ بننے یا ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شیئر: