’تہران میں صلح کی کوشش ہو رہی تھی، معاہدہ نہیں‘، خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر جوابی تنقید
جمعرات 29 اکتوبر 2026 11:46
قومی اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے درمیان جملوں کے تبادلے کے بعد یہ واقعہ سیاسی حلقوں کا بڑا موضوع بنا ہوا ہے۔
جمعرات کو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے طنز کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا بلکہ آرمی چیف وہاں خطے میں امن کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے گئے تھے۔‘
اس سے قبل بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع کو نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ’دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، میٹنگ ہو رہی ہے لیکن وزیر دفاع اور وزیر خارجہ یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کیا وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے؟‘
جے یو آئی سربراہ نے وزیر دفاع کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں کہا ’اپنا عزت و احترام۔۔۔ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘ جس پر ایوان میں قہقہے گونجنے لگے۔
مولانا فضل الرحمان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ تہران میں پاکستان کے دفاع یا کسی دفاعی معاہدے سے متعلق بات چیت نہیں ہو رہی تھی۔
ان کے مطابق ’آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن قائم کرنے، فریقین کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے اور ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے۔‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں خطے میں امن کی صورت حال مزید واضح ہو جائے گی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تہران میں ہونے والی سرگرمیاں وزارت دفاع کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پہلے ہی موجود ہیں، جبکہ قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے ساتھ بھی دفاعی معاہدوں سے متعلق پیش رفت ہوئی ہے۔‘
خواجہ آصف نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عالمی سطح پر پاکستان اور آرمی چیف کی امن کوششوں کا اعتراف کریں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ملکی سیاسی تاریخ میں ایک مقام ہے اور ان کے والد بھی ایک اہم شخصیت تھے، تاہم سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے وسیع القلبی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
جے یو آئی سربراہ کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید کرتے وقت اپنے ماضی کے فیصلوں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا ’مولانا فضل الرحمان ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کا حصہ رہے اور طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں بتانا چاہیے کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔‘
’مولانا نے کس تناظر میں ایران میں مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش کی تھی۔‘
وزیر دفاع نے خود احتسابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے خود ماضی میں جنرل ضیا الحق کے دور کی حمایت کی تھی تاہم بعد کے حالات کے تناظر میں اپنے اس موقف پر معذرت بھی کر چکے ہیں۔
اپنے ماضی کے ایک اور موقف کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی 2004 کی مشہور تقریر کو اس وقت کے سیاسی اور آئینی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے جبکہ موجودہ پارلیمنٹ انتخابی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔
