حنا جاوید قتل کیس کی ازسرِنو تحقیقات کا فیصلہ، ’ایسا سنگین جُرم ایک شخص کا کام نہیں‘
جمعرات 29 اکتوبر 2026 19:30
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حنا جاوید قتل کیس کی ازسرِنو تفتیش کروانے کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران بریفنگ میں محسن نقوی نے بتایا کہ اس کیس میں جوڈیشل کمیشن کے بجائے پنجاب پولیس کے کسی قابل اور سینیئر افسر کے ذریعے دوبارہ انکوائری کروانا زیادہ مناسب حل ہوگا۔
قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیرِ داخلہ کی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ تفتیش کی حتمی رپورٹ آنے تک یہ کیس قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے پر رہے گا۔
اب تک کے شواہد ملازم کے خلاف ہیں:کمیٹی کو بریفنگ
راولپنڈی پولیس کے سینیئر افسران اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو آگاہ کیا کہ اب تک کی پیش رفت کے مطابق شواہد گھر کے ملازم کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور شوہر کا براہِ راست ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا۔
تاہم پولیس کی اس بریفنگ پر کمیٹی ارکان اور مقتولہ کے اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
معاملے پر پائی جانے والی تشویش کے پیشِ نظر وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پنجاب پولیس کی ایک نئی ٹیم کے ذریعے دوبارہ تفتیش کی تجویز دی جس پر کمیٹی نے اتفاق کیا۔
محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ میں جوڈیشل کمیشن کے خلاف نہیں ہوں، لیکن جب دوسرا قانونی راستہ موجود ہے تو اس کیس میں پنجاب کے کسی اعلیٰ اور قابل افسر کو تعینات کر کے دوبارہ تفتیش کرا لیتے ہیں۔ اس طرح فریقین کو مطمئن کیا جا سکے گا اور مناسب ریلیف مل جائے گا۔
قتل کرنے کے بعد زیادتی
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپاء کی جانب سے حنا جاوید قتل کیس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ 20 اگست کو پیش آنے والے اس دردناک واقعے کے بعد جب اسے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شوہر کی شمولیت سے جوڑا گیا تو وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی۔
سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ ملازم ذیشان نے اب تک پانچ مرتبہ اپنے بیانات بدلے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم نے مقتولہ کو قتل کرنے کے بعد نعش کے ساتھ زیادتی کی کوشش بھی کی، جبکہ موقعے سے آلۂ قتل بشمول الیکٹرک وائر اور بیڈ شیٹ قبضے میں لے لی گئی۔
سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق خصوصی کمیٹی نے راولپنڈی پہنچ کر حنا جاوید کے اہل خانہ اور اڈیالہ جیل میں قید ملزمان سے تفصیلی تفتیش کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اصلی گناہ گار کو سزا ملے اور کسی معصوم کو نقصان نہ پہنچے۔
بریفنگ کے دوران انہوں نے تفتیشی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گھر کے ملازم نے حنا جاوید کو قتل کرنے کے بعد ان کی نعش کے ساتھ زیادتی کی۔
پولیس نے پہلے ہی دن جائے وقوعہ سے آلۂ قتل یعنی بیڈ شیٹ، رسی اور الیکٹرک وائر کو قبضے میں لے لیا تھا، جبکہ ملزم کی گردن پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے۔
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ حنا جاوید کے قتل سے تین دن قبل سامنے والے اپارٹمنٹ سے چوری ہونے والا پستول بھی اسی ملازم سے برآمد ہوا ہے۔
ڈی این اے رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ مقتولہ کے جسم سے ملازم جبکہ تین جگہوں پر ان کے شوہر کا ڈی این اے میچ ہوا۔
شوہر کے ڈی این اے کی موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ اس نکتے پر ماہرین سے بہت تفصیلی اور باریک بینی سے تفتیش کی گئی۔
ماہرین کی رائے کے مطابق مقتولہ کی گردن سے شوہر کا ڈی این اے اس لیے ملا کیونکہ گلا دبانے کے لیے جو بیڈ شیٹ استعمال کی گئی تھی، ڈی این اے اس بیڈ شیٹ کے ذریعے منتقل ہوا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مقتولہ کے جسم اور کپڑوں سے ملزم ذیشان کا ڈی این اے 15 جگہوں جبکہ شوہر فیصل اصغر کا ڈی این اے تین مقامات سے میچ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق شوہر کا ڈی این اے گلا دبانے کے لیے استعمال کی گئی بیڈ شیٹ کے ذریعے منتقل ہوا۔
ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ تفتیش کے دوران گھر کا ملازم جنسی انحراف اور نامناسب نفسیاتی رجحانات کا حامل پایا گیا۔
بریفنگ کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتولہ کا شوہر اور ملزم ملازم جیل کے ایک ہی سیل میں بند ہیں، جس پر کمیٹی ارکان نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
بریفنگ کے دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی سیف اللہ نے بتایا کہ ملازم ذیشان گھر کے نچلے حصے میں مقیم تھا، جہاں حنا جاوید کا کمرہ بھی واقع تھا۔
اُن کے مطابق مقتولہ کے شوہر اور سُسر پہلی منزل پر موجود تھے اور ملزم نے مقتولہ کی تمام تصاویر اپنے موبائل میں منتقل کر رکھی تھیں۔
آغا رفیع اللہ نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی بات پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا شرم کریں، یہ کس طرح کی تحقیقات کی ہیں آپ نے؟ آپ ایک مقتولہ کا نام ملازم کے ساتھ کیسے جوڑ سکتے ہیں؟
ایس ایس پی لیول کا افسر ایوان میں ایسی بات کیسے کر سکتا ہے، میں اس بیانیے کو کسی طور تسلیم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے دیگر ارکان اور چیئرمین کمیٹی نے بھی کیس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے اور ہدایت کی کہ ملزم کو معصوم قرار دیے بغیر تمام پہلوؤں کا غیر جان بدارانہ جائزہ لیا جائے۔
’مقتولہ حنا جاوید کی بہن کا پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار‘
اجلاس کے دوران مقتولہ حنا جاوید کی بہن نے پولیس کی اب تک کی تفتیش کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موقعِ واردات پر نعش کی ضروری تصاویر نہیں لی گئیں اور شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حنا جاوید کی گردن ٹُوٹی ہوئی تھی اور ان پر جس قدر شدید تشدد کیا گیا، وہ کسی ایک شخص کا کام نہیں ہو سکتا، محض جنسی فرسٹریشن کا شکار کوئی فرد اس حد تک تشدد نہیں کر سکتا۔‘
انہوں نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور واقعے کی اصل سی سی ٹی وی فوٹیج اہلِ خانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔