عرب جوائنٹ لسٹ نے جمعرات کو کہا کہ ’اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور اُن کے سیاسی اتحاد کی جانب سے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات دراصل اُس خوف کا اظہار ہیں جو انہیں عرب برادری کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت سے لاحق ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق، جوائنٹ لسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’نیتن یاہو اور اُن کے فسطائی اتحاد کی جانب سے عرب عوام کے مینڈیٹ کے خلاف جاری اشتعال انگیز مہم اُن کے خوف کو بے نقاب کرتی ہے۔‘ جماعت نے نیتن یاہو مخالف حزبِ اختلاف کے اتحاد پر زور دیا کہ وہ ’اِن جھوٹے الزامات کو دہرانا بند کرے۔‘
جمعرات کو نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد نے بیرونی ذرائع سے رقوم ملنے کے غیرثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر عرب رہنماؤں پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اِس مہم کا مقصد اُن جماعتوں کو غیر مؤثر بنانا ہے جو غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج کے بعد نئی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
حماس حملے کے بعد اسرائیل میں پہلے انتخابات کے لیے ووٹنگNode ID: 909822
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اِس معاملے میں پوری عرب اسرائیلی برادری کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے۔ اس برادری نے انتخابات میں غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔
اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے۔ اِن انتخابات میں نہ تو نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم حزبِ اختلاف کا اتحاد پارلیمان (کنیسٹ) میں اکثریت حاصل کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
نیتن یاہو کے کیمپ کے الزامات انتخابی عمل کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر سکتے ہیں جنہیں ایک اہم عرب جماعت مسترد کر چکی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے پر ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں عرب شہریوں کی شرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اُن فلسطینیوں کی نسل میں سے ہیں جو سال 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد وہیں رہ گئے تھے۔
عرب برادری میں غم و غصہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر سمیت بعض حکام نے مطالبہ کیا کہ عرب شہریوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے جیسا اسرائیل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے ساتھ کرتا آیا ہے۔

نیتن یاہو کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد بن گویر نے تو یہاں تک مطالبہ کر دیا کہ اسرائیل فوری طور پر عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کے احکامات جاری کرے۔
عرب جماعت رام کے سربراہ منصور عباس نے کہا کہ وہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی اعتدال پسند اسلامی جماعت کا اِن الزامات سے ’کوئی تعلق نہیں۔‘
عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر اِس قدر ووٹ حاصل کیے ہیں کہ وہ حزبِ اختلاف کے اتحاد کو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت تک پہنچا سکتی ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کی مسلسل تنقید کے بعد آئزنکوٹ اس تعاون کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ نیتن یاہو نے اپنے دائیں بازو کے یہودی ووٹروں کو خبردار کیا تھا کہ ’حزبِ اختلاف کو ووٹ دینے کا مطلب عربوں کو اقتدار میں لانا ہوگا۔‘
’سیاسی زلزلہ‘
سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج نوعام سولبرگ، جو مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ بھی ہیں، نے اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شین بیت سے مطالبہ کیا کہ وہ اِن الزامات کی تحقیقات کرے جن کے مطابق رام جماعت کو قطر سے رقوم موصول ہوئی ہیں۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے کہا کہ ’رام گیٹ سکینڈل ایک سیاسی زلزلہ ہے۔ اسرائیل کے انتخابات چوری کر لیے گئے ہیں۔‘
حکومتی عہدیدار اِن الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ دوسری جانب بائیں بازو کے امیدوار یائر گولان نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد جان بوجھ کر تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے نیتن یاہو خود بھی قطر سے متعلق الزامات کی زد میں رہے ہیں۔ گزشتہ سال اُن کے دو معاونین کو اِس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے خلیجی ریاست قطر سے رقوم وصول کی تھیں۔
قطر نے اسرائیل کے انتخابی عمل میں مداخلت کے تازہ الزامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا ہے۔













