’دنیا حیران ہوتی ہے‘، وزیر داخلہ کا بلیو پاسپورٹس کی تعداد 25 ہزار تک لانے کا عندیہ
جمعرات 29 اکتوبر 2026 17:05
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزارتِ داخلہ سے تمام 49 ہزار بلیو پاسپورٹس کا تفصیلی ڈیٹا طلب کر لیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آئے ہیں کہ پاکستان اپنے ’بلیو پاسپورٹس‘ کی تعداد کم کر کے 25 ہزار تک لائے تاکہ گرین پاسپورٹ کی قدر میں بہتری اور پاکستانیوں کے لیے عالمی سطح پر ویزا فری سفری سہولیات ممکن بنائی جا سکیں۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے بلیو پاسپورٹ کی مدتِ معیاد بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا جس پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔
اس موقعے پر وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس وقت جاری شدہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد 49 سے 50 ہزار کے قریب ہے اور دنیا حیران ہوتی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آفیشل پاسپورٹس کیسے جاری کیے گئے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ ماضی میں یہ تعداد 75 ہزار تک پہنچ چکی تھی جسے اب کم کر کے 49 ہزار کیا گیا ہے جبکہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اب حکومت کی کوشش ہے کہ اس تعداد کو مزید گھٹا کر 25 ہزار تک لایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ کی خصوصی ٹیمیں ملک بھر میں سفری آسانیوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہیں جس کے مثبت نتائج اب گرین پاسپورٹ کی بہتر ہوتی قدر کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے واضح کیا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو تین سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس تأثر کی نفی کی کہ سب سے زیادہ پاسپورٹس ارکانِ پارلیمنٹ کے پاس ہیں۔
’گرین پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ کو متاثر کر رہی ہے‘
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا ’میں بتا نہیں سکتا کہ بلیو پاسپورٹ کی بے جا تقسیم کو روکنے کے لیے میں کہاں کہاں بند باندھ رہا ہوں۔ ہمیں ہر صورت پاکستانی پاسپورٹ کی وقار اور بہتری کے لیے یہ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔‘
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بالخصوص خلیجی ممالک نے اتنی بڑی تعداد میں آفیشل پاسپورٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس سے ویزا فری معاہدے اور عام گرین پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ متاثر ہو رہی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پاسپورٹ کی رینکنگ اور ریٹنگ جتنی بہتر ہوگی، ہماری اتنی ہی عزت ہوگی۔ بے تحاشا بلیو پاسپورٹس کے اجراء سے گرین پاسپورٹ کی رینکنگ کو نقصان ہو رہا ہے۔
’ارکانِ پارلیمنٹ کے بلیو پاسپورٹ ختم نہیں کیے جا رہے‘
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ حکومت ارکانِ پارلیمنٹ کے بلیو پاسپورٹ کی مراعات ختم نہیں کر رہی، بلکہ کنٹرول قائم کرنے کے لیے 10 سال کے بجائے ایک سے تین سال کی مدت کے لیے پاسپورٹ جاری اور ان کی تجدید کر رہی ہے۔
ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے بھی تصدیق کی کہ مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری کیٹیگریز میں شامل ہونے کے لیے بلیو پاسپورٹس کی تعداد کم کرنا انتہائی ضروری تھا۔
تاہم دوسری جانب وزارتِ داخلہ کے ان اقدامات پر قائمہ کمیٹی کے ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ’پاسپورٹ ایکٹ 5 سے 10 سال کا پاسپورٹ بنانے کا کہتا ہے، تو وزارت کے رولز قانون سے اوپر کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب آپ ہر دو سال بعد تجدید کر رہے ہیں تو اس سے پاسپورٹس کی تعداد کم نہیں ہو رہی، بلکہ ہر سال ارکان کو اجازت کے لیے وزارت کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا۔‘
کمیٹی کے دیگر ارکان نبیل گبول اور چوہدری نصیر احمد عباس نے بھی بیوروکریسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ گریڈ 18 کے افسران اور ان کے اہل خانہ کو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں جن پر پابندی لگنی چاہیے جبکہ عوام کے منتخب نمائندوں کو اس رعایت کے لیے وزارت کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بلیو (آفیشل) پاسپورٹ اعلیٰ سرکاری حکام، ارکانِ پارلیمان، ججز اور بیوروکریسی کو قومی اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ عام گرین پاسپورٹ کے برعکس یہ پاسپورٹ حاملِ فرد کو بین الاقوامی سفر میں خصوصی پروٹوکول، آسان ویزا پراسیسنگ اور متعدد ممالک میں بغیر ویزا سفری سہولیات فراہم کرتا ہے۔
’بلیو پاسپورٹ کس کس کو جاری ہوئے، ڈیٹا طلب‘
اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حکومت کے بنائے گئے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے وزارتِ داخلہ سے تمام 49 ہزار بلیو پاسپورٹس کا تفصیلی ڈیٹا طلب کر لیا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان میں سے کتنے پاسپورٹ ارکانِ پارلیمنٹ اور کتنے بیوروکریٹس کو جاری کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ارکانِ پارلیمان اور ان کے اہل خانہ کو بلیو پاسپورٹ کی فراہمی کا معاملہ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر زیرِ بحث آیا ہے۔ محض ایک ہفتہ قبل ہی ملک کی پارلیمان نے ایک بل منظور کیا تھا جس کے تحت نہ صرف موجودہ بلکہ سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کی رعایت منظور کی گئی تھی۔
