اسرائیل الیکشن، نیتن یاہو کا اتحاد آگے مگر اکثریت حاصل نہ کر سکا، ’ووٹ چوری‘ کے دعوے
اسرائیل الیکشن، نیتن یاہو کا اتحاد آگے مگر اکثریت حاصل نہ کر سکا، ’ووٹ چوری‘ کے دعوے
جمعہ 30 اکتوبر 2026 9:08
اسرائیل میں منگل کو ہونے والے الیکشن کے حتمی اور سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جمعے کی جاری ہونے والے سرکاری نتائج کے مطابق اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کا اتحاد، اپوزیشن کے مقابلے میں آگے تو رہا لیکن پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اس دوران ان کی جماعت لیکوڈ کی جانب سے ’ووٹ چوری‘ کے غیر مصدقہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے پی کی رپورٹس کے مطابق سینٹرل الیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے اتحاد نے 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں 53 نشستیں حاصل کیں، جن میں سے 27 نشستوں کے ساتھ لیکوڈ سب سے بڑی جماعت رہی۔
دوسری جانب ان کے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں جبکہ عرب جماعتوں نے باقی 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
ان نتائج کو نیتن یاہو کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے پارلیمان میں ان کے پاس 68 نشستیں تھیں۔
رپورٹس کے مطابق اب ملک کو ممکنہ طور اتحادیوں کے درمیان ایک مشکل قسم کے مذاکرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
منگل کو ہونے والے انتخابات کے بعد ابتدائی جائزوں میں نتین یاہو کی ناکامی کے امکان سامنے آتے ہی لیکوڈ پارٹی کی جانب عرب جماعتوں پر انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات لگانا شروع کیا اور بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ انہوںنے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے بیرون مدد کا استعمال کیا۔
جمعرات کو ایک اشتعال انگیز بیان میں نیتن یاہو کی جماعت نے اعلان کیا کہ ’اسرائیل میں انتخابات چوری کر لیے گئے ہیں۔‘
یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اس مبینہ مداخلت کا مقصد پارلیمنٹ پر بیرونی قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے اور دائیں بازو کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔
الزامات میں اسرائیلی میڈیا پر پھیلائی گئی یہ بات بھی شامل تھی کہ قطر نے عرب جماعتوں کو ووٹ خریدنے کے لیے فنڈز فراہم کیے۔ متعلقہ جماعتوں اور قطر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے کیمپ پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔
نیتن یاہو بدستور اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں ممکنہ اتحادوں پر غور کر رہی ہیں اور حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت اکٹھی کرنے کی کوشش میں ہیں۔
انتخابات میں مداخلت کی تحقیقات سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ
اسرائیل میں انتخابی عمل میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کا معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب سپریم کورٹ کے جج اور الیکشن کمیٹی کے سربراہ نوم سولبرگ نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے داخلی سکیورٹی ادارے شن بیٹ کو خط لکھا۔
سولبرگ نے خط میں کہا کہ وہ ان الزامات کی تصدیق نہیں کر سکتے تاہم معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات ضروری ہیں۔
دوسری جانب شن بیٹ نے تصدیق کی کہ وہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی پوری برادری کو شک کی نظر سے دیکھنا یا اسے ذمہ دار ٹھہرانا نہیں، جس نے جمہوری اور قانونی طریقے سے ووٹ دیا۔
اسی طرح مرکزی الیکشن کمیٹی نے بھی انتخابی نتائج کی شفافیت سے متعلق خدشات دور کرنے کی کوشش کی۔
اس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے حوالے سے گردش کرنے والی بعض اطلاعات بے بنیاد ہیں۔
اس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تحقیقات سے صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیجے گئے حتمی انتخابی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی یہ کسی مخصوص آبادی سے متعلق ہیں۔ کمیٹی نے شن بیٹ سے ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے موجودہ صورتحال کو ملک کے لیے ایک حساس وقت قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
عرب جماعتوں نے 120 رُکنی اسرائیلی پارلیمان کی مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے خبردار کیا کہ جمہوری حق استعمال کرکے ووٹ دینے والی کسی پوری برادری کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان الزامات کے باعث اسرائیل کے عرب شہریوں میں خاص طور پر بے چینی پائی جاتی ہے، جو ملک کی تقریباً 20 فیصد آبادی ہیں اور ان کی اکثریت فلسطینی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔
منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی جماعت نے عرب جماعتوں کے خلاف مہم چلائی اور انہیں اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ناقدین کے مطابق یہ حکمت عملی ملک کی عرب آبادی کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش تھی۔
نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی حکومت کے خلاف پائی جانے والی عوامی ناراضی میں سیاسی جماعتوں پر تنقید نے اضافہ کیا اور بڑی تعداد میں عرب شہریوں نے ان کے خلاف ووٹ ڈالے۔
نئی حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا اہم کردار
انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتوں کو نئی حکومت بنانے کی کوششوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
عرب جماعتوں، جن میں راعم اور جوائنٹ لسٹ شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔
یہ نشستیں اس وقت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں جب آئزن کوٹ کا اپوزیشن اتحاد پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
آئزن کوٹ نے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے امکان کو مسترد نہیں کیا تاہم ایسا اتحاد سیاسی طور پر حساس ہو گا۔
2021 سے پہلے کسی عرب جماعت نے اسرائیلی حکومت میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ 2021 میں راعم جماعت مختصر عرصے کے لیے ایک مخلوط حکومت کا حصہ بنی تھی۔
عرب جماعتیں حکومت میں شامل ہوئے بغیر بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتی ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے اہم عہدوں کے لیے اپوزیشن امیدواروں کی حمایت اور قانون سازی کے معاملات میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نامزد امیدوار کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
اگر متعدد کوششوں کے باوجود سیاسی جماعتوں میں اتفاق نہ ہو سکا تو اسرائیل کو اگلے سال کے آغاز میں دوبارہ عام انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔