Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں کی جانب سے یمن میں کیمیائی ہتھیاروں کا مبینہ استعمال، ’اقوام متحدہ تحقیقات کرائے‘

یمن کے شہر تعز کے مقامی حکام نے حوثیوں کی جانب سے ممنوعہ کیمیائی مواد والے گولے اور راکٹس داغے جانے کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لڑائی میں شدت کی وجہ سے یہ شہر محصور ہو کر گہا ہے اور انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تعز گورنریٹ کے میڈیا آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں حکام کا کہنا تھا کہ انہیں مختلف محاذوں، خاص طور پر ’الاقرود‘ اور ’کہلان‘ کے علاقوں سے مسلسل ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ حوثی فورسز نے ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جن میں ممکنہ طور پر ممنوعہ گیسز اور دیگر زہریلے مادے شامل تھے۔
یہ الزامات ایسے واقعات کے سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا کہ گولہ باری کے بعد عام شہریوں اور مزاحمی فورس کے ارکان کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور وہ نیم بے ہوش ہوئے۔
حکام کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان مادروں کی نشاندہی اور اس امر کے تعین یہی مادے متذکرہ علامات کا باعث بنے ہیں، کے لیے فوری طور پر تکنیکی تحقیقات کرائی جائیں۔
انہوں نے سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرنے، شواہد اکٹھے کرنے اور طبی ریکارڈز نیز گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کو فوری طور پر روانہ کریں۔
بیان میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایک آزادانہ تحقیقات کی حمایت کریں اور اگر ممنوعہ مادوں کے استعمال کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے میں مدد کریں۔
یمن کے نائب وزیر خارجہ مصطفیٰ نعمان نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا پر الزام لگایا کہ وہ ’تباہ حال شہر تعز کی جانب اپنی پیش قدمی کو تیز کرنے کے لیے ہر قسم کے غیر قانونی ہتھیار‘ استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکام اور یمنی حکومت مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہر کا محاصرہ ختم کیا جائے اور ان الزامات کی جانچ پڑتال اور زہریلے مادوں کے مبینہ استعمال کے بارے میں رپورٹ دینے کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم تعینات کی جائے۔
ان کے مطابق ’ایسے ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور اس سے شہر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔‘
اسی طرح یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ان الزامات کو ایک ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ان ہتھیاروں میں کون سے مادے استعمال کیے گئے ہیں۔
تعز شہر میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے جہاں حوثی ملیشیا نے شہر کا محاصرہ مزید سخت کر یا ہے اور رسد کے اہم راستے بھی بند کر دیے گئے۔
اقوام متحدہ نے پچھلے ہفتے خبردار کیا تھا کہ شہر میں داخل ہونے والی اہم سڑکیں بند ہونے سے آٹھ لاکھ افراد خوراک کے سامان سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ ہسپتالوں کے عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور رہائشیوں کے پاس پانی کی بھی قلت ہے۔
لڑائی کی اس تازہ لہر کی وجہ سے ہزاروں یمنی شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جو پہلے سے ہی بدامنی کی وجہ سے مشکلات میں تھے۔
تعز کے حکام نے شہریوں کو خطرات میں ڈالنے والی صورت حال کا ذمہ دار حوثیوں کے حملوں کو قرار دیا ہے۔ ان کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا اور مطالبہ بھی کیا کہ شہری علاقوں پر مزید حملے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

شیئر: