افغانستان میں موسیقی پر مکمل پابندی کے باوجود متعدد فنکار خطرات کے باوجود اپنی روایات کو زندہ رکھنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب کابل کی گلیوں، چائے خانوں، ریستورانوں اور خاص طور پر راجدھانی کے روایتی موسیقی کے مرکز کوچہ خرابات کی تنگ راہداریوں میں نغموں کی گونج سنائی دیتی تھی۔
لیکن وہ دن اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2022 سے افغانستان بھر میں موسیقی بجانے اور سننے پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد ہے۔
مزید پڑھیں
اگست 2021 میں اقتدار میں آنے والی طالبان حکومت نے مذہبی ترانوں (یعنی بغیر سازوں کے حمد و ثنا) کے علاوہ ہر قسم کی موسیقی پر قدغن لگا رکھی ہے۔ اس پابندی پر عملدرآمد ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کی وزارت کے ذریعے کرایا جاتا ہے۔
وزارت کے ترجمان سیف الاسلام خیبر کہتے ہیں’اسلام میں موسیقی ممنوع ہے۔ یہ شیطان کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے اور اکثر دیگر برائیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ کسی کو بھی موسیقی سننے، گانے ریکارڈ کرنے یا دھنیں بنانے کی اجازت نہیں ہے۔‘
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بیش تر معروف فنکار اور موسیقار ملک چھوڑ گئے۔ جو باقی رہ گئے، انہوں نے اپنے سازوں کو حکام کے ہاتھوں توڑے جانے سے بچانے کے لیے یا تو بیرونِ ملک بھیج دیا یا گھروں میں چھپا دیا۔
کابل کے قدیم شہر کے تاریخی محلے کوچہ خرابات کی دکانیں جہاں کبھی ساز بکتے تھے، اب راشن، کپڑوں اور عام گھریلو سامان کی دکانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
افغانستان بھر میں فنکار راتوں رات اپنے روزگار سے محروم ہو گئے۔
لیکن جن کے خون میں نسل در نسل موسیقی دوڑ رہی ہے، ان کے لیے سازوں سے دور رہنا ممکن نہیں۔ وہ کبھی کبھار بند کمروں میں چپکے سے اپنے ساز نکالتے ہیں۔ دروازے پر ایک دستک ان کے لیے تباہی کا پیغام لا سکتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ بجاتے ہیں۔
’جب تک زندہ ہوں، رباب خاموش نہیں ہوگا‘
ایک تنگ گلی میں واقع چھوٹے سے مکان میں ایک موسیقار نے لکڑی کے تراشیدہ تین ’رباب‘ نکالے۔ رباب افغان ثقافت اور موسیقی کا روح رواں مانا جاتا ہے۔
انہوں نے رباب کو گود میں رکھا اور جیسے ہی تاروں کو چھوا، اس کی گرم اور مدھر آواز نے چھوٹے سے کمرے کو معطر کر دیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا ’جب تک میں زندہ ہوں، رباب بجاتا رہوں گا۔ شاید مجھے یہ کام چھپ کر کرنا پڑے لیکن میں رباب کو خاموش نہیں ہونے دوں گا۔ یہ ہماری ثقافت ہے، افغانستان کی روایت ہے، اور میں اسے زندہ رکھنے کے لیے لڑوں گا۔‘
کابل کے ایک دوسرے کونے میں ایک گلوکار نے بھی اسی عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا ’فی الوقت موسیقی کھلے عام نہیں ہو سکتی لیکن کوئی اسے ہمارے دلوں سے مٹا نہیں سکتا۔ ہم چھپ کر یا اپنے خوابوں میں گاتے رہیں گے۔‘
طالبان کے آنے سے پہلے یہ گلوکار بڑے کنسرٹس اور شادی بیاہ کی تقاریب میں فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے تمام ساز رباب، ہارمونیم، بانسری، طبلہ اور کی بورڈ ایک ترپال کے نیچے چھپا رکھے ہیں۔

گلوکار نے نم دیدہ آنکھوں سے بتایا ’جس دن میں نے اپنے سازوں کو گھر لا کر ترپال سے ڈھانپا، مجھے لگا جیسے میں خود اس کپڑے کے نیچے زندہ دفن ہو گیا ہوں۔ موسیقی نے مجھے زندگی اور پہچان دی تھی۔ موسیقی کے بغیر ایک فنکار روح کے بغیر جسم کی مانند ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات وہ اپنے چھپائے گئے سازوں کے سامنے کھڑے ہو کر روتے ہیں اور ان سے معافی مانگتے ہیں کہ وہ اب انہیں بجا نہیں سکتے۔
فن سے فاقوں تک
رباب بجانے والے فنکار ایک سکول میں موسیقی پڑھاتے تھے اور ان کی روایتی سازوں کی دکان بھی تھی۔ یہ ان کا خاندانی کاروبار تھا۔
حالات بدلے تو انہوں نے کچھ ساز بیرونِ ملک بھیجے اور باقی چھپا دیے۔ دکان بند ہو گئی۔
کاروبار کی تالہ بندی ان کے خاندان کے لیے بڑا صدمہ تھی۔ ان کے والد اس صدمے کو برداشت نہ کر سکے اور کچھ ہی عرصے بعد دل کے دورے سے انتقال کر گئے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں وہ روزانہ قریباً 10 ہزار افغانی (قریباً 150 ڈالر) کما لیتے تھے لیکن اب وہ بطور مزدور بمشکل 100 افغانی (ڈیڑھ ڈالر) کما پاتے ہیں۔ بیوی بچوں کا پیٹ پالنا شدید مشکل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب کچھ گلوکار دو سال تک بے روزگار رہنے کے بعد اپنے دوستوں کی مدد سے ایک چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔
زیرِ زمین محفلیں بھی اب خطرہ بن گئیں
پابندی کے ابتدائی دنوں میں کچھ خفیہ محفلیں سجتی تھیں جن میں ان دونوں فنکاروں نے بھی شرکت کی لیکن اب حالات انتہائی سخت ہو چکے ہیں۔
گلوکار کا کہنا ہے ’دن بہ دن حالات خراب ہوتے گئے اور نگرانی کرنے والے ہماری تلاش میں رہنے لگے۔‘ وہ پچھلے چار سال سے کسی خفیہ محفل میں نہیں گئے۔ ’خطرہ بہت زیادہ ہے، میرے چھوٹے بچے ہیں اور میں جیل نہیں جانا چاہتا۔‘













