اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے نگران وزیرِاعظم کے طور پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ یہودی ووٹرز کی توقع سے کہیں زیادہ حمایت نے ان کے مخالفین کے لیے انہیں اقتدار سے ہٹانے کے امکانات محدود کر دیے ہیں، اگرچہ ان کے دائیں بازو کے اتحاد کی پارلیمان میں اکثریت ختم ہو گئی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو تقریباً 86 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیل کے تین بڑے نشریاتی اداروں نے پیش گوئی کی کہ نیتن یاہو کے دائیں بازو، انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (پارلیمان) میں 53 نشستیں ملیں گی جبکہ ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں
عرب اسرائیلیوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کو ریکارڈ 19 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس صورتِ حال میں آئزنکوٹ کے لیے ان جماعتوں کی وسیع حمایت کے بغیر اقتدار تک پہنچنے کا کوئی حقیقت پسندانہ راستہ دکھائی نہیں دیتا تاہم بہت سے یہودی سیاسی رہنما ایسی حمایت کو مسترد کرتے ہیں۔
ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے باعث نتائج میں اب بھی تبدیلی آ سکتی ہے لیکن نیتن یاہو مخالف جماعتوں پر مشتمل آئزنکوٹ کا اتحاد، جس میں مرکز سے بائیں بازو اور سخت گیر دائیں بازو تک کی جماعتیں شامل ہیں، انتخاب سے قبل ہونے والے ان جائزوں سے پیچھے رہ گیا ہے جن میں سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کے دوران نیتن یاہو نگران وزیرِاعظم برقرار رہیں گے اور ممکنہ طور پر اگلے سال ہونے والے انتخابات تک اسی حیثیت میں کام کرتے رہیں گے۔ اگرچہ نگران حکومت کو بعض معاملات میں پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اس کے پاس ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق فیصلوں سمیت اہم اختیارات برقرار رہتے ہیں۔
اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو گائے لوری نے کہا کہ قانونی طور پر نگران حکومت کے اختیارات ایک باقاعدہ حکومت کے برابر ہوتے ہیں تاہم اسے بعض معاملات میں ’احتیاط برتنے کی ذمہ داری‘ کا بھی سامنا ہوتا ہے اور کچھ شعبوں میں اس کی صوابدید محدود ہوتی ہے۔
سلامتی کے معاملے پر سیاسی کشمکش میں شدت
نیتن یاہو نے بدھ کو رات تین بجے کے بعد (گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات ایک بجے) اپنی جماعت لیکوڈ کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ’ایک مضبوط، دائیں بازو کی قومی حکومت‘ تشکیل دینے پر زور دیا۔
انہوں نے اسرائیل کی فوجی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور اپنے اتحادی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے پاس ایران کو درپیش خطرہ، جسے وہ ایرانی خطرہ قرار دیتے ہیں، ’ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک منفرد تاریخی موقع‘ موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی ووٹرز پر زور دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھیں تاکہ دونوں رہنما ایران میں ’کام مکمل کر سکیں‘۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو نے ’بہت اچھی کارکردگی‘ دکھائی ہے اور دعویٰ کیا کہ ان کی حمایت نے نیتن یاہو کی کامیابی میں ’بہت مدد کی۔‘
اسرائیل میں زیادہ ٹرن آؤٹ کے ساتھ ہونے والے انتخابات کو مشرقِ وسطیٰ کے بعض دیگر حصوں میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔
تہران میں ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر والے بینرز ایرانیوں کو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کی یاد دلا رہے تھے جن کے نتیجے میں جنگ شروع ہوئی تھی۔ ان بینرز کے دائیں جانب حزب اللہ کے مقتول رہنما حسن نصراللہ کا پوسٹر بھی تھا، جو لبنان میں نیتن یاہو کے حکم پر کیے گئے حملے میں مارے گئے تھے۔
50 سالہ ایرانی شہری عبداللہ کریمی نے کہا کہ ’مجھے واقعی حملے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔‘
مصر میں بھی مایوسی واضح تھی۔ مصر 1979 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے والا پہلا عرب ملک تھا۔
62 سالہ وکیل عثمان سلیم نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ نیتن یاہو کی شکست اسرائیل کو انتہائی دائیں بازو کی سیاست سے دور لے جائے گی، لیکن ان کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔

آئزنکوٹ نے تسلیم کیا کہ نیتن یاہو نگران وزیرِاعظم برقرار رہیں گے تاہم خبردار کیا کہ وہ سلامتی کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں سلامتی کے اداروں اور سول سروس کے سربراہان سے اپیل کرتا ہوں کہ نیتن یاہو ایک نگران وزیرِاعظم ہیں، جن کے پاس نہ عوامی مینڈیٹ ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد۔ کسی بھی دباؤ یا آپ کو اپنے فرائض سے ہٹانے کی کوشش کے سامنے ثابت قدم رہیں۔‘
نیتن یاہو کے دفتر نے اس سے قبل ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دفتر نے بدھ کو تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
پارلیمانی اکثریت سے محروم نگران حکومت کے امکان نے اسرائیلی مالیاتی منڈیوں پر دباؤ ڈالا۔ شیکل کی قدر تقریباً 1.6 فیصد گر کر ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3.10 شیکل رہ گئی، جبکہ تل ابیب کے اہم اسٹاک انڈیکس تین فیصد سے زیادہ نیچے آ گئے۔
اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کی جانب فیصلہ کن جھکاؤ
انتخابی نتائج نے نیتن یاہو کے برسوں پر محیط سیاسی غلبے کے دوران اسرائیلی یہودیوں میں دائیں بازو کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کو نمایاں کیا ہے۔ اسرائیل کی تاریخ کے پہلے نصف حصے میں غالب رہنے والا مرکز سے بائیں بازو کا سیاسی دھڑا اب سکڑ کر ایک چھوٹے سے گروہ تک محدود ہو گیا ہے۔
تقریباً تمام یہودی جماعتیں اب ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی نیتن یاہو کی مخالفت سے اتفاق کرتی ہیں۔ 1990 کی دہائی سے بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ امن کوششوں کی بنیاد یہی دو ریاستی حل رہا ہے۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل میں پہلے عام انتخابات تھے۔ اس روز حماس کی قیادت میں جنگجوؤں کے حملوں میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد اسرائیل غزہ، لبنان اور ایران میں جنگوں میں الجھ گیا۔













