Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب ووٹرز نے اسرائیل کے سیاسی منظرنامے کو کیسے تبدیل کیا؟

اسرائیل میں رواں ہفتے ہونے والے انتخابات میں عرب ووٹرز کی شرکت تقریباً 80 فیصد رہی (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے انتخابات اگرچہ کسی واضح فاتح کے بغیر ختم ہوئے، لیکن ایک نتیجے نے مقابلے میں شامل دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
تازہ ترین گنتی کے مطابق، نہ تو بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد تقریباً 53 نشستوں کے ساتھ اور نہ ہی گادی آئزنکوٹ کا دھڑا تقریباً 48  نشستیں حاصل کرکے حکومت بنانے کے لیے درکار کم از کم 61 نشستوں کا ہدف حاصل کرسکا۔ تاہم، عرب جماعتوں نے جوائنٹ لسٹ اور یونائٹڈ لسٹ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے 120 رُکنی اسرائیلی پارلیمان کی مجموعی طور پر تاریخی 19 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
یہ اسرائیل کی تاریخ میں عرب نمائندگی کی سب سے بڑی تعداد ہوگی۔ اِس وقت عرب جماعتوں کے پاس 10 نشستیں ہیں، جب کہ سال 2020 میں اِنہوں نے 15 نشستیں جیتی تھیں۔ حتمی نتائج جو بھی ہوں، عرب جماعتیں اِن انتخابات میں سب سے بڑا غیرمتوقع نتیجہ دینے والی قوت بن کر اُبھری ہیں اور ممکنہ طور پر اگلی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔
اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کاروں نے ایک وقت میں اسرائیلی عام انتخابات میں عرب ووٹرز کی مسلسل گِرتی ہوئی شرکت کو ایسا رجحان قرار دیا تھا جس کا پلٹنا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ سال 1999 میں عرب ووٹرز کا ٹرن آئوٹ تقریباً 75 فیصد تھا، جو سال 2021 میں کم ہوکر 44.6 فیصد رہ گیا، تاہم سال 2022 میں یہ بڑھ کر 53.2  فیصد ہوگیا۔ رواں ہفتے انتخابات میں عرب ووٹرز کی شرکت تقریباً 80  فیصد رہی، جو ملک بھر میں ووٹنگ کی مجموعی شرح یعنی 77.7 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اِن اعداد و شمار نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اسرائیل کے فلسطینی شہری ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔
عرب ووٹرز کی اِس غیرمعمولی سیاسی سرگرمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلی اور براہِ راست وجہ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے خلاف غصہ ہے، جسے نظریاتی طور پر عرب مخالف سمجھا جاتا ہے۔ اِس حکومت کے نسل پرست، انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزرا کھلے عام عرب برادری کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے ہیں۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، اسرائیل کے 54 فیصد فلسطینی شہریوں نے بڑھتے ہوئے جرائم کو ووٹ دینے کے اپنے فیصلے میں سب سے اہم مسئلہ قرار دیا تھا۔

گاڈی آئزنکوٹ کے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے مزید 13 نشستوں کی ضرورت ہے (فوٹو: اے پی)

دوسرا ممکنہ سبب نیتن یاہو کے انتخابی دن کے طرزِ عمل کے خلاف فوری ردِعمل ہے۔ نیتن یاہو نے انتخابی دن خوف پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کے فلسطینی شہری بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنوں کا رُخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان پر انتخابات چرانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، لیکوڈ اور مذہبی صہیونیت کی جماعتوں نے عرب اکثریتی علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں پر تقریباً دو ہزار کارکن بھیجے۔ عرب جماعتوں کا کہنا ہے کہ اِس اقدام کا مقصد ووٹروں کو خوف زدہ کرنا تھا۔
تیسری ممکنہ وجہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی ملک گیر کوشش ہے، جس میں خصوصاً دائیں بازو اور اعتدال پسند دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ بائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی سلامتی میں ہونے والی سنگین ناکامی اور اِس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے اِس کوشش کو مزید تقویت دی۔ اسرائیل کے بہت سے فلسطینی شہریوں کے پاس بھی نیتن یاہو کو سزا دینے کی اپنی وجوہات ہیں۔ وہ غزہ میں ہونے والے مظالم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی انتہا پسندوں کی جانب سے برپا کی جانے والی دہشت گردی کی لہر کا ذمہ دار انہیں ٹھہراتے ہیں۔
صہیونی سیاست کے دونوں بڑے حریف دھڑوں کو توقع نہیں تھی کہ عرب جماعتیں اتنی بڑی کامیابی حاصل کریں گی۔ تاہم، اس غیرمعمولی کامیابی نے نیتن یاہو کے لیے تنہا حکومت بنانے کی راہ روک دی ہے۔ اُن کے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے آٹھ نشستیں کم ملی ہیں، جبکہ آئزنکوٹ کا دھڑا 13 نشستیں پیچھے ہے۔
عرب ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت نے دونوں دھڑوں کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے سے روک دیا ہے، لیکن دن کے اختتام پر اِس صورت حال سے آئزنکوٹ کو زیادہ نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اب بھی اپنے اتحاد سے باہر کی جماعتوں کو ساتھ ملانے کی امید کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس، آئزنکوٹ کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی نہ کسی صورت میں عرب جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

نیتن یاہو اگر نئی حکومت بنانے میں ناکام رہے تو وہ دوبارہ انتخابات کروانے کی کوشش کریں گے (فوٹو: اے پی)

اب اسرائیل کی سیاست میں جوڑ توڑ اور سودے بازی کا وہ مرحلہ شروع ہوگا جو یہاں کی سیاست میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ گادی آئزنکوٹ کے پاس حکومت بنانے کے لیے تین ممکنہ راستے ہیں۔
پہلا راستہ یہ ہے کہ وہ عرب جماعتوں کو اپنی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دیں، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اِس کا امکان کم ہے۔ اِن کے اتحادی، یعنی ایویگڈور لائبرمین اور نفتالی بینیٹ عرب جماعتوں کی حکومت میں براہِ راست شمولیت کو مسترد کر چکے ہیں۔
دوسرا ممکنہ راستہ باہمی مفاد پر مبنی ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت عرب جماعتیں حکومت میں شامل ہوئے بغیر آئزنکوٹ کی حمایت کریں اور پارلیمان میں اُن کی حکومت کو تحفظ فراہم کریں۔ جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی خواہش رکھنے والی کسی بھی حکومت کو عین یہی پیشکش کرچکے ہیں۔ دوسری جانب، راعم کے منصور عباس حقیقی شراکت داری چاہتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ دونوں سیاسی دھڑوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔
تیسرا راستہ ایک مخلوط حکومت کی تشکیل ہے، جس میں نیتن یاہو اور آئزنکوٹ ایک ساتھ حکومت کریں۔ اطلاعات کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض حلقے بھی اِس تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ کاغذی طور پر یہ اِمکان موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اِس میں شامل تمام فریق اسے قبول کریں گے یا نہیں۔ خصوصاً حزبِ اختلاف کے دھڑے میں اِس حوالے سے شکوک پائے جاتے ہیں، کیوں کہ آئزنکوٹ اور لائبرمین یہ عہد کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ سب سے پہلے کس جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے (فوٹو: روئٹڑز)

آئزنکوٹ اور عرب جماعتیں فوری طور پر ایک کام کرسکتی ہیں۔ وہ لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے موجودہ سپیکر کو تبدیل کرکے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر زور دے سکتی ہیں، جو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کی سلامتی میں ہونے والی ناکامیوں اور اِس میں نیتن یاہو کی ذمہ داری کا تعین کرے۔ وزیراعظم متعدد مواقع پر ایسی تحقیقات سے گریز کرتے رہے ہیں۔
اسرائیل میں کسی عرب جماعت کی حکومت میں شمولیت کی مثال پہلے بھی موجود ہے۔ سال 2021 میں منصور عباس نے نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے ساتھ ایک اتحادی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت عرب برادری کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ اِس معاہدے کے نتیجے میں عرب آبادی کے کئی دیہات کو سرکاری طور پر تسلیم بھی کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو نے خود بھی اِس سے پہلے منصور عباس کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، تاہم لیکوڈ اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ بہرحال، یہ معاہدہ اُس وقت طے نہ پاسکا جب بیزلیل سموٹریچ نے اس کی مخالفت کردی۔
نیتن یاہو کے لیے آئزنکوٹ اور اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے درمیان کسی بھی قسم کی شراکت داری اُن کی اقتدار میں واپسی کے اِمکانات کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ انتخابی جائزوں کے نتائج سامنے آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی شراکت داری کو غداری قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ ایسی جماعتوں کے تعاون سے بننے والی حکومت اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی۔
بدھ کے روز بعد ازاں لیکوڈ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ عرب جماعتوں نے انتخابات چوری کیے ہیں۔ اس نے عرب اکثریتی علاقوں کے پولنگ سٹیشنوں پر ووٹوں میں ردوبدل کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم، یہ محض الزامات ہیں، جن کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ نیتن یاہو کا اشتعال انگیز بیانیہ وہی ہے کہ عرب ووٹوں پر انحصار کرنے والی کسی بھی حکومت کو پہلے دن ہی سے ناجائز قرار دینے کی کوشش کی جائے گی۔

عرب جماعتوں نے 120 رُکنی اسرائیلی پارلیمان کی مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اسرائیل کے صدر جب تک یہ فیصلہ نہیں کرلیتے کہ کس جماعت یا اتحاد کو سب سے پہلے حکومت بنانے کی کوشش کا موقع دیا جائے، انتہائی دائیں بازو کی وہ جماعتیں، جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران عرب ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت کو خطرہ قرار دیا تھا، اب عرب سیاسی اثرورسوخ کو خطرے کے طور پر پیش کریں گی۔
بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ نیتن یاہو اگر نئی حکومت بنانے میں ناکام رہے تو وہ دوبارہ انتخابات کروانے کی کوشش کریں گے۔ اِس کے نتیجے میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی انتخابی شرکت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ایسا سال 2021 میں بھی ہوا تھا، جب مسلسل انتخابات کے بعد عرب ووٹرز کی شرکت متاثر ہوئی اور انتہائی دائیں بازو کو اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کے لیے نئی تقویت ملی۔
انتخابی کامیابی پر خوشی منانے والی عرب جماعتوں کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ وہ کسی بھی قسم کی حمایت کرنے سے پہلے جرائم کی روک تھام اور ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے ٹھوس ضمانتیں حاصل کریں۔ اِس طرح وہ اُن ووٹرز کے سامنے حقیقی نتائج پیش کرسکیں گی جنہوں نے بڑی تعداد میں نکل کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ سال 2019 اور سال 2021 کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسی کامیابیاں کتنی تیزی سے ضائع ہوسکتی ہیں۔
اِن انتخابات کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں نے تاریخ میں پہلی بار اِس قدر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ وہ اپنی اس غیرمعمولی سیاسی شرکت کے بدلے کیا حاصل کرپاتے ہیں۔

شیئر: