مفلسی سے ہالی وڈ کی چکاچوند تک، اداکار پیٹرک سٹیورٹ چل بسے
مفلسی سے ہالی وڈ کی چکاچوند تک، اداکار پیٹرک سٹیورٹ چل بسے
جمعہ 30 اکتوبر 2026 8:06
ہالی وڈ کے مشہور اداکار پیٹرک سٹیورٹ 86 سال کی عمر میں چل بسے، ان کا شمار تھیٹر، ٹی وی اور فلم کے معروف اداکاروں میں ہوتا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پیٹرک سٹیورٹ کے قریبی ساتھ کیل بش نوواک کا کہنا ہے کہ ان کا انتقال بدھ کو لاس اینجلس میں ہوا۔ ان کو الزائمر اور لیوی باڈی ڈیمینشیا جیسے امراض کا سامنا تھا۔
اس سے قبل ان کی بیماریوں کو کبھی منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا۔
ایکس مین فلموں میں ان کے ساتھ کام کرنے والے اداکار ہیو جیک مین نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’آج سٹیج اور فلم کی دنیا نے ایک عظیم فنکار کو کھو دیا ہے۔‘
انہوں نے پیٹرک سٹیورٹ کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور وہ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
پیٹرک سٹیورٹ کو فلمی دنیا میں ایکس مین کے پروفیسر چارلس زیویئر اور سٹار ٹریک سیریز کے کیپٹن جین لوک پیکارڈ کے کرداروں سے خاص شہرت ملی، تاہم ان کے کیریئر کا بڑا حصہ تھیٹر میں گزرا۔
انہوں نے شیکسپیئر کے کئی مشہور ڈراموں میں کام کیا، جن میں ہیملٹ اور میکبتھ بھی شامل ہیں۔
وہ اکثر کرسمس کی مشہور کہانی اے کرسمس کیرول بھی اکیلے سٹیج پر پیش کرتے تھے۔ انہوں نے اداکار ایان میک کیلن کے ساتھ لندن اور براڈوے میں بھی کئی ڈراموں میں کام کیا۔
پیٹرک سٹیورٹ نے تین اولیویئر ایوارڈز جیتے۔ انہیں 1996 میں آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے کہانی سنانے کے بہترین البم پر گریمی ایوارڈ بھی ملا تھا۔
2007 میں انہوں نے پہلی بار شیکسپیئر کے ڈرامے میکبتھ میں مرکزی کردار ادا کیا جو انگلینڈ کے شہر چیچسٹر میں پیش کیا گیا، بعد ازاں لندن، نیویارک اور براڈوے تک پہنچا۔ اس کردار پر انہیں ٹونی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔
پیٹرک سٹیورٹ نے ’ایکس مین‘ اور ’سٹار ٹریک‘ سے بے پناہ شہرت پائی (فوٹو: شوبز نیوز)
اس وقت ناقدین نے ان کی اداکاری کو بے حد سراہا۔ لندن کے اخبار ٹائمز نے ان کی اداکاری کو کمزوریوں، خواہشات، خود پسندی اور تلخ مزاح کا دلکش امتزاج قرار دیا، جبکہ نیویارک ٹائمز نے اس ڈرامے کو ضرور دیکھنے کے قابل قرار دیا۔
پیٹرک سٹیورٹ نے 2008 میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ وہ تقریباً 50 سال سے میکبتھ کا کردار ادا کرنے کے منتظر تھے۔
’جب میں 14 برس کا تھا تو میں نے اس ڈرامے کے کئی مکالمے یاد کر لیے تھے کیونکہ وہ مجھے بہت پسند تھے اور آج بھی یاد ہیں۔‘
پیٹرک سٹیورٹ شمالی انگلینڈ کے علاقے یارکشائر میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور کافی مشکل حالات میں پرورش پائی۔
ان کے مطابق ادکاری میں مشہور ہو جانے تک ان کے چھوٹے سے گھر میں ٹائلٹ نہیں تھا۔
انہوں نے 12 برس کی عمر میں شوقیہ ڈرامہ گروپ میں شمولیت اختیار کی اور نوعمری میں شیکسپیئر کے ڈراموں کے مکالمے شوق سے یاد کیے۔ بعد ازاں انہیں برسٹل اولڈ وِک تھیٹر اسکول میں داخلے کے لیے سکالرشپ ملا، جس کے بعد ان کے اداکاری کے کیریئر کا آغاز ہوا۔
سٹار ٹریک میں ان کے کپٹین کے کردار کے علاوہ ڈائیلاگ ’میک اٹ سو‘ بھی بہت مشہور ہوا (فوٹو: سی بی سی)
پیٹرک سٹیورٹ 19 برس کی عمر سے گنجے پن کا شکار تھے جو کہ ان کے خاندانی میں موروثی تھا۔
انہوں نے اپنی سوانح عمر میں لکھا کہ شیکسپیئر سے محبت نے کیپٹن پیکارڈ کے کردار میں کامیابی دلائی۔
ان کے مطابق تھیٹر ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوا، جہاں وہ حقیقی زندگی کی مشکلات سے دور ہو کر کسی دوسرے شخص کا کردار ادا کر سکتے تھے اور ایک مختلف جگہ اور زمانے میں زندگی گزارنے کا تصور کر سکتے تھے۔
انہیں رائل شیکسپیئر کمپنی میں کام کرنے کا موقع ملا جس سے وہ 14 سال تک وابستہ رہے۔ اس دوران انہوں نے مارک انتھونی، ہنری چہارم، شائیلاک اور اوبرون سمیت کئی مشہور کردار ادا کیے۔
انہوں نے خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ کمپنی سے باہر کے لوگ اکثر انہیں مشورہ دیتے تھے کہ اب کہیں اور کام کرنا چاہیے بعد ازاں انہوں نے مختلف نوعیت کے کرداروں کی تلاش میں تھیٹر چھوڑ دیا اور 1981 میں انہیں فلم ‘ایکسکیلیبز‘ ملی۔
تاہم اصل شہرت انہیں سائنس فکشن ہالی وڈ سیریز سٹارک ٹریک سے ملی جو سات سال تک چلی اور ان کا ڈائیلاگ ’میک اٹ سو‘ ان کے کردار کی پہچان بن گیا۔