Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دمشق مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے: شامی وزیر خارجہ

شام کا کہنا ہے اتحاد میں شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔( فوٹو: اے ایف پی)
شام کے اعلی سفارتکار نے سنیچر کو کہا ہے کہ دمشق اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا نیٹو طرز کے دفاعی اتحاد میں شامل ہوا جائے جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان شامل ہیں۔
سعودی عرب جو یمن کے حوثی باغیوں کی شدید حملوں کی زد میں ہے، شام کی اس حکومت کا اہم سپورٹر ہے جو دسمبر 2024 میں سابق حکمراں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد برسراقتدار آئی۔
بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ اسعد الشعبانی نے کہا کہ ’ ابھی مکہ اتحاد میں شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔‘
اگست میں سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ نے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر ہونے والے حملے کو تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان اور ترکیہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف کسی قسم کے حملے کا اعلان نہیں کیا ہے۔
اس ماہ میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے ریاض کا دورہ کیا اور بتایا کہ فرانس نے سعودی عرب کے ایک اہم آئل ٹرمینل کو حوثی حملوں سے بچانے میں مدد کے لیے فوجی دستے بھیجے ہیں۔
اسی طرح اکتوبر میں برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کو ان حملوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کے لیے اپنے لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔

 

شیئر: