Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قسطوں اور برائے ملکیت کرایہ والی گاڑیوں کی پنج سالہ انشورنس خلاف قانون

 دمام.... سعودی وکلاءاور ماہرین قوانین نے واضح کیا ہے کہ قسطوں اور برائے ملکیت کرائے والی گاڑیوں کی پنج سالہ انشورنس خلاف قانون ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ کار انشورنس پیکج حالات کے پیش نظر ہر سال ایک جیسا نہیں رہتا، تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ گاڑی کی مالیت بھی سال بہ سال کم ہوتی ہے۔ انہوں نے اس امر کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی کہ پیوستہ سالوں سے متعلق اقرار نامے درست نہیں ہوتے کیونکہ یہ اقرار نامے قبل از وقت دورانیے کی بابت تحریر کئے جاتے ہیں ۔ مکہ اخبار نے اس کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ قسطوں پر گاڑیاں فراہم کرنے والی کمپنیاں انشورنس پیکیج پہلی قسط کے مطابق ہی جاری کرتی ہے 5سالہ میعاد کے دوران ہر سال کی انشورنس کی رقم ایک ہی ہوتی ہے۔ قانونی مشیر ہشام حنبولی نے واضح کیا کہ پانچ برس کیلئے یکساں انشورنس خلاف انصاف ہے۔ انشورنس اسکیم کی دستایز ایک برس کیلئے ہوتی ہے لہذا 5برس کیلئے اس کو یکسانیت کے ساتھ قبول کرنا اپنے آپ میں ایک ظلم ہے۔ حنبولی نے مطالبہ کیا کہ دو ماہ تک قسط نہ دینے پر گاڑی اٹھوالینا اور ادا شدہ سابقہ رقم واپس نہ کرنا ظلم ہے، اس نکتہ پر نظرثانی ضروری ہے۔ بعض اوقات قسطوں پر گاڑی یا سامان خریدنے والا انتہائی مجبور حالات سے دوچار ہوجانے کے باعث قسط ادا نہیں کر پاتا ، ایسی صورت میں قسطوں پر گاڑی یا سامان خریدنے والے کے کم ازکم حقوق کا تحفظ لازم ہے۔ ایک اور وکیل مشعل الشریف نے کہا کہ گاڑیوں سے متعلق مالیاتی تنازعات کو جمع کرکے مزید قوانین بنائے جائیں۔ ساما کے ایک عہدیدار عماد الدین الحسینی نے کہاکہ گاڑی کی قیمت ہر سال 10 سے 15 فیصد تک گھٹ جاتی ہے جبکہ شورومز کا شیخ اپنے طور پر قیمت کا تخمینہ دے دیتا ہے اس حوالے اسے اصولوں کا پابند بنایا جانا ضروری ہے۔ 
 

شیئر: