Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملزم تلاش کرنے تک واپس مت آئیں، شہباز

لاہور.... وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے آئی جی پنجاب اور ڈی جی فارنسک لیب کو فوری قصور جانے کی ہدایت کر دی۔ ملزم تلاش کرنے تک واپس مت آئیں۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس حکام کو دوٹوک ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ملزم تلاش کرنا پڑے گا، میں عوام کو جواب دہ ہوں، جو حالات اور واقعات سامنے آئے ہیں، سب جواب دہ ہیں۔ شہباز شریف نے آئی جی پنجاب پولیس سے کہا کہ قصور میں جو کچھ ہوا حکومت اور پولیس دونوں کٹہرے میں کھڑی ہیں، جو کچھ ہو رہا ہے۔ آپ اس کے ذمہ دار ہیں، جب میں پنجاب کے عوام کو جوابدہ ہوں تو پولیس کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا، کسی کی غفلت اور کوتاہی پر سخت ایکشن لوں گا۔ کمسن زینب قتل کیس میں تفتیشی ٹیمیں کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں اور واقعہ کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں تاہم تاحال قاتل قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ ذرائع کے مطابق قصور میں زیادتی کے قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے کیس میں یہ اہم انکشاف ہوا ہے کہ بچی کو قتل کرنے والا ملزم اکیلا نہیں تھا بلکہ کم از کم تین افراد ملوث ہیں۔ سیکورٹی اداروں کو مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز موصول ہو گئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ بچی کو لے جانے والے ملزم کے ساتھ اس کے ساتھی بھی موجود تھے۔ تحقیقاتی اداروں نے 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے تاہم بچی کو لیجانے والے مرکزی ملزم کی گرفتاری تاحال باقی ہے۔ زینب کی ڈی این اے رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ آخری ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف میڈیا بریفنگ میں عوام کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

شیئر: