Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں نئے دور کا آغاز

***سید شکیل احمد*** 
وفاقی کا بینہ کے آج رات 12بجے تحلیل ہو جانے سے ایک سیا سی ہنگامہ پر ور وقت کا خاتمہ ہو گیا اب ایک نئے دور کا آغاز ہو نے جارہا ہے مگر اس نئے دور کے آغاز سے قبل عوامی احتساب کی کڑی آزمائش سے عوام کو بھی گزر نا ہے اور ان طا قتو ں کو بھی جن میں سیا سی طا قتیں بھی شامل ہیں اور حکومت کی ما تحت طا قتوں کے نا م بھی نتھی ہیں ۔ دیکھا جا ئے تو 2018ء کے انتخاب احتسابی انتخابات کہلا ئیں گے کیو نکہ اس مر تبہ سیا سی جما عتیں زیا دہ تر اپنے منشور کا پھرا اڑانے کی بجا ئے کرپشن ، نا اہلی ، بدعنو انی وغیر ہ وغیر ہ کے پھریرے لیتی رہیں گی ۔ اس حکومت کی رخصتی تاریخ کا ایک اہم با ب ہے۔ اس میں امپائر کی انگلی کے اشارو ں کا بھی چر چا بہت رہا اور اب بھی خلا ئی مخلو ق کا ذکر ہو رہا ہے ۔ عدلیہ بھی بہت ہی مستعد نظر آئی اور انتخابی مہم سے کچھ ہی پہلے نیب بھی آگے بڑھی ہو ئی نظر آرہی ہے۔ ملک کے جس ماتحت ادارے کی طر ف نظر پڑ تی ہے وہا ں بس ایک ہی جما عت کی یا لیڈر شپ کی آلو دہ پرچیا ں چسپا ں نظر آتی ہیں ۔ خیر اب عوام کے ہا تھ میں ہے کہ وہ کس کا کس بنیا د پر احتساب کر تی ہیں تاہم اس امر کا ہنو ز یہ خدیشہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کوئی ایسی مخلو ق بھی ہے جو اپنی مر ضی کا احتسا ب چاہتی ہے ۔دیکھئے کہ اس میں کون کا میاب ہو تا ہے تاہم ملک کی 3 بڑی جما عتو ں میں انتخابی رن پڑے گا ۔تینو ںجماعتیں5 سا ل کیلئے  پھریرا لے کر نکلیں گے ۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان میں دوسری مر تبہ منتخب حکومت اپنے اقتدار کے 5 سال پو رے کرکے سنگھا سن سے اتر گئی ہے  البتہ یہ بات بھی توجہ رکھتی ہے کہ اسکے باوجود کسی منتخب وزیر اعظم نے اقتدا ر کی مدت کے 5سال پو رے نہیں کئے۔ اب نئے دور کی تبدیلی یہ نظر آرہی ہے کہ اقتدار کھینچ لینے کی بجا ئے نا پسندیدہ شخصیت کو کھینچ دیا جا ئے ۔ پی پی کے دور میں بھی اور مسلم لیگ ن کے دور میں بھی عدلیہ سے کا م لیا گیا لیکن نیب بھی ہا تھ بٹا تا ہو انظر آرہا ہے ۔
مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کا انتخابی جو ڑ زوروں پر پڑے گا چنا نچہ اگر ان 2جماعتوں کا مو ازنہ کیا جا ئے تو یہ عیا ں ہے کہ کا رکر دگی کی کمی یا تجر بہ کا ری کی نااہلی میں پی ٹی آئی کے نمبر زیا دہ ہیں ۔مسلم لیگ نے چلتے چلتے پنجا ب اور وفاق میں بجٹ بھی اپنی پسند کے منظور کر الیے جبکہ پی ٹی آئی ایسا نہیں کر پائی۔ صوبہ کے پی کے وزیر خزانہ جن کا جماعت اسلا می سے تعلق ہے، وہ یہ بجٹ پیش کرنے کی حسرت لے کر رخصت ہوئے حالا نکہ انھوں نے دن رات کی مشقت سے بجٹ تیار کیا تھا  ۔ایسی حسرت عمران خان اور پر ویز خٹک کے دلو ں میں بسی رہ گئی کہ جا تے جا تے وہ جنگلہ بس کا افتتاح نہ کر پائے ۔ یہ منصوبہ بھی ان کی نا تجر بہ کا ری کا نمونہ قرا ر پا گیا ۔
صوبہ کے پی کے کی رخصت ہو نے والی صادق امین حکومت کی ایسی بہت ساری نا کامی یا نا تجر بہ کا ریا ں ہیں ۔اس وقت انتخابی مہم اس آزمائش سے گزررہی ہے کہ کوئی بھی سیا سی جماعت نہیں چاہتی کہ کوئی ایسا اسکینڈل یا غلطی ، سامنے آجائے جس سے ان کی انتخابی مہم  متاثر ہوجائے چنا نچہ گزشتہ3 ما ہ سے ہی سیا سی جما عتیں انتخابی مہم کے آغا ز کی منصوبہ بندی میں سوچ وبچار میں مگن ہیں۔ طرح طرح کی آزمائش کررہی ہیں ۔ نو از شریف کے ممبئی حملے کے بیانیہ سے ایک نئی صورتحال ایسی پید ا ہو گئی تھی جس کو مسلم لیگ ن کے لیے بھاری گردانا جارہا تھا ۔مسلم لیگ کے لیڈر بھی اس بیانیہ پر دل مسوس کر رہ گئے تھے کہ الیکشن میں کیسے اس بیانیہ کا سامنا کر یںگے مگر مسلم لیگ ن نے ثابت کر دیا کہ وہ سیا ست کی الف بے سے خوب واقف ہے۔ اس جا نب تیر چلنے نہیں دیں گے۔  قدرتی طور پر یہ بھی ہو گیا کہ سابق ڈائر یکٹر جنرل آئی ایس آئی اسد درانی کی پاکستان کی انتہائی دشمن ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھی کتا ب منظر عام پر آگئی چنا نچہ اس میں نو از شریف کا بیانہ دھندلا گیا ۔اس وقت جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب زیر بحث نہیں البتہ یہ بات غور وفکر کی ہے کہ پاکستان کی انٹلیجنس ایجنسی جو اپنی کا رکردگی میں دنیا کی بہترین ایجنسیو ں کو پیچھے دھکیلے ہوئی ہے، وہ کیسے اس معاملے میں نا کا م رہ گئی کہ یہ کتاب ایک رات میں تحریر نہیں ہوئی ۔اس کے لیے جنرل (ر) اسد درانی دشمن ملک کے خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ سے خفیہ ملا قاتیں کر تے رہے ہیں۔ ان ملا قاتو ں کے بارے میںکہا جا تا ہے کہ یہ ترکی ، سنگا پور اور دوسرے ممالک میں ہو تی رہی ہیں، کتا ب کی منصوبہ بندی ہوئی ۔
اس وقت نا تجر بہ کا ری کا ظن پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑ تا ہو انظر آرہاہے ۔عبو ری وزرائے اعلیٰ کی نا مز دگی پر یو ٹرن لینا ہے۔ عجیب ناتجر بہ کا ری ہے کہ خود ہی ناصر کھو سہ کو نا مزد کیا پھر رات بیتے ہی اس سے ہا تھ اٹھالیا۔  وجہ کیا ہے؟ محمود الر شید جن کے ہا تھو ں یہ نا مزد گی ہوئی تھی وہ جو ا زدے رہے ہیں کہ عوام کا انتہائی شد ید رد عمل آنے کی وجہ سے نا مزدگی واپس لے رہے ہیں۔ عوام کا شد ید رد عمل کہا ں اور کب آیا ؟جب ایک صحا فی نے استفسار کیا کہ پاکستان کے کسی شہر کا بتا دیں جہا ں لوگ اس نا مزدگی پر سڑکو ں پر نکل کھڑے ہوئے تو محمود الرشید کا فطین جوا ب تھا کہ سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر شدید ترین احتجا ج ہو ا ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے عہد ے کا اعلان پہلے  سے سوچ بچار کے بعد کیا جا تا ہے۔ علاوہ ازیں انھو ں نے یہ بھی فرما دیا کہ نو از شریف نے اس بندے کی تعریف کی ہے کہ وہ ان کا اسٹاف آفیسر رہا ہے۔ اچھا بندہ ہے ۔کیا پر ویز خٹک کے اسٹاف میں جو سرکا ری ملا زم رہے ہیں وہ سیا سی طو ر پر مشکو ک قر ار دیئے جا سکتے ہیں پھر کے پی کے نا مزد وزیر اعلیٰ میں تو کج نہیںنکلا البتہ یہ با ت قابل اعتراض تھی۔ جس روز منظور آفریدی کی نا مزدگی پر اتفاق ہوا، اس رات بنی گالہ میں منظور آفریدی نے عمر ان خان کے ساتھ عشائیہ بھگتایا تھا جو غیر جا نبداری کو چھبی تھی ، گویا رات کا کھا نا قائد پی ٹی آئی کے ساتھ تنا ول کر نا نااہلی کا باعث ہے ۔بہر حال کچھ ا خلا قیا ت کے تقاضے ہو تے ہیں۔ دونو ں افراد کے ساتھ جو سلوک پی ٹی آئی کی قیادت نے کیا ان کی عزت کو خاک میں ملا نے کے متر ادف بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کی ناتجر بہ کا ری کی دلیل بھی ہے اور اس سے پا رٹی کی ساکھ مجر وح ہوئی ہے ۔ 
عبوری وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی کو عوامی حلقے ایک اور نکتہ نگا ہ سے بھی دیکھ رہے ہیں ، پنجا ب اور کے پی کے میں یہ معاملہ خوش اسلو بی سے نمٹ گیا تھا مگر سندھ اور بلو چستان بھنو رمیں ہیں۔ بلو چستان کی حکومت نے تو 2ما ہ کے لیے انتخابات لیٹ کر نے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمر ان خان نے یو ٹر ن امپائر کی انگلی کے اشارہ پر کیا ہے تاکہ یہ مسئلہ الجھ جا ئے اور جیسا کہ عوامی حلقے گما ن کر رہے ہیں کہ اس کے ذریعے جو نا دید ہ طا قتیں انتخابات ملتوی کر انے کی خواہش رکھتی ہیں کا میا ب رہیں ۔غالباًجا تے جا تے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو بروقت 60 دنو ں میں انتخابات نہ کر ائیں تو ان کے خلا ف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت کا رروائی ہونا چاہیے ۔   60 رو ز میں انتخابات کر انا آئینی طور پر لا زم ہے۔ اگر 5سال کی مدت ختم ہو نے پر مقررہ دورانیہ میں انتخابات نہ منعقد کر ائے گئے تو یہ یقینی طو رپر آئین کی خلا ف ورزی ہوگی۔  چیف الیکشن کمشنر بار بار یقین دلا رہے ہیںکہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہو ں گے اس لیے یقین کر لینا ہی چاہیے ۔
           
 
 

شیئر: