ڈیپ سِیک نے اپنا نیا اے آئی ماڈل ریلیز کر دیا، ’چین امریکی ٹیکنالوجی چُرا رہا ہے‘
ڈیپ سِیک نے اپنا نیا اے آئی ماڈل ریلیز کر دیا، ’چین امریکی ٹیکنالوجی چُرا رہا ہے‘
جمعہ 24 اپریل 2026 8:36
چین کے نئے اے آئی ماڈل کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے ماڈل کا ’پری ویو‘ ورژن جاری کر دیا ہے جس کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب امریکہ نے چین پر اس کی اے آئی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیپ سیک نے ایک سال قبل 2025 کے اوائل میں ایک چیٹ بوٹ کے ذریعے کم لاگت رکھنے والی اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرا کے دنیا کو حیران کر دیا تھا جو امریکہ کی حریف کمپنیوں کے برابر کارکردگی کی حامل تھی۔
کمپنی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈیپ سیک وی فور جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا رہا تھا، میں کے سیاق و سباق کے حوالے سے ایک وسیع فیچر بھی موجود ہے جو 10 لاکھ الفاظ پر مشتمل ہےجس سے ملکی اور اوپن سورس دونوں شعبوں میں صلاحیتوں، دنیا کے بارے میں علم اور استدلال سے متعلق کارکردگی میں برتری حاصل ہوئی ہے۔
کمپنی کے مطابق ’پری ویو ورژن استعمال کے لیے اب دستیاب ہے۔‘
امریکہ نے چین پر اس کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام لگایا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ڈیپ سیک کے نئے ماڈل وی فور کو دو ورژنز میں جاری کیا گیا ہے جن میں ڈیپ سیک وی فور پرو اور ڈیپ سیک وی فور فلیش شامل ہیں، جن میں سے دوسرا ورژن ’زیادہ مؤثر اور کم لاگت والا‘ ہے کیونکہ یہ چھوٹے پیرامیٹرز رکھتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’عالمی علمی معیارات کی مناسبت سے ڈیپ سیک وی پرو دوسروں سے آگے ہے جبکہ گوگل کے جمنی پرو تھری پوائنٹ ون سے تھوڑا سا بہتر ہے۔‘
’چوری کے ثبوت موجود ہیں‘
وائٹ ہاؤس کی جانب سے چین کے اداروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر امریکہ کی مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی کو چوری کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی کوششوں کو روکنے کے لیے کارروائی کے عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
ڈیپ سیک نے اپنے ماڈل کو موجودہ ٹیکنالوجیز سے بہتر قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سائنس و ٹیکنالوجی کے سبراہ مائیکل کریٹسوئس نے جمعرات کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ غیرملکی ادارے، خصوصاً چینی ادارے امریکہ کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو چوری کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور بڑے پیمانے پر ڈسٹیلیشن کیمپینز چلائی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق ’ہم امریکی ٹیکنالوجی کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی کریں گے۔
ڈسٹیلیشن اے آئی کے میدان میں آگے بڑھنے سے متعلق ایک عام پریکٹس ہے، جس کے ذریعے عام طور پر کمپنیاں اپنے اے آئی ماڈلز کے سستے اور چھوٹے ورژنز بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔