Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’والد کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھی‘، کوئٹہ کی کھلاڑی آرزو، جن کی آرزو پوری نہ ہو سکی

18 سالہ آرزو حیدر کراٹے کی ابھرتی ہوئی کھلاڑی اور بلوچستان چیمپئن تھیں (فوٹو: غلام علی ہزارہ)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ آرزو حیدر کراٹے کی ابھرتی ہوئی کھلاڑی اور بلوچستان چیمپئن تھیں جو نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی پہچان بنا رہی تھیں۔
وہ درجنوں مقامی مقابلے جیت چکی تھیں اور ان کا خواب پاکستان بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا تھا۔
آرزو حیدر اپنے ٹیکسی ڈرائیور والد کی مدد کرنا چاہتی تھیں اور اسی مقصد کے لیے وہ کھیلوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں تاکہ سپورٹس کوٹے کے ذریعے ملازمت حاصل کر سکیں۔
یہی خواب آنکھوں میں لیے وہ چار روز قبل کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں منعقدہ کراٹے چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے گھر سے روانہ ہوئیں مگر راستے میں پیش آنے والا ایک حادثہ ان کی زندگی کا سفر ختم کر گیا۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

خاندان کے مطابق آرزو حیدر سنیچر کی صبح اپنی ایک ساتھی کے ساتھ ہزارہ ٹاؤن میں واقع گھر سے ایوب سٹیڈیم جا رہی تھیں۔ اسپنی روڈ پر زیر تعمیر کام کے باعث سڑک پر موجود ملبے سے بچنے کی کوشش کے دوران ان کی موٹر سائیکل بے قابو ہو کر پھسل گئی۔
حادثے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں ان کے سر پر گہری چوٹ آئی۔ انہیں فوری طور پر ٹراما سینٹر اور پھر ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا۔
نیورولوجسٹ کے مطابق حادثے کے وقت آرزو کی دل کی دھڑکن رک گئی تھی جسے تقریباً چھ منٹ تک سی پی آر کے ذریعے بحال کیا گیا  تاہم اس دوران ان کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا اور انہیں برین ڈیڈ قرار دیا گیا۔
وہ کئی روز تک وینٹی لیٹر پر انتہائی نگہداشت میں رہیں اور جانبر نہ ہو سکیں۔

بلوچستان کراٹے چیمپیئن آرزو حیدر سکوٹی پر سٹیڈیم جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئیں (فوٹو: غلام علی ہزارہ)

آرزو کے بھائی جاوید علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارا خاندان غریب ہے ، والد ٹیکسی چلاتے ہیں میں انگلش پڑھا کر والد کی مدد کرتا ہوں۔ نجی ہسپتال کا علاج بہت مہنگا تھا ایسے میں ہمارے لیے  علاج کے اخراجات خاندان کے لیے  برداشت کرنا مشکل  ہوگئے تھے۔‘
 ان کے مطابق ’بعد ازاں محکمہ کھیل نے مالی مدد فراہم کی اور علاج سرکاری خرچ پر کیا گیا ۔خاندان اس تعاون پر سیکریٹری کھیل اور صوبائی حکومت کا شکر گزار ہے۔‘
جاوید علی نے بتایا کہ ان کے والد نے غربت اور معاشی مشکلات کے باوجود ہمیشہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور کھیل کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ گھر میں آر زو تین بہنوں میں سے ایک تھیں جو گزشتہ دو سالوں سے مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔
 ’آرزو نہایت خوددار اور خودمختار کھلاڑی تھیں، انہیں دوسروں پر انحصار کرنا اچھا نہیں لگتا تھا اس لیے وہ اکثر خود موٹر سائیکل چلا کر ٹریننگ اور مقابلوں کے لیے جاتی تھیں اس روز بھی وہ موٹر سائیکل لے کر گھر سے نکلی تھیں۔‘
آرزو حیدر جاپانی سٹائل مارشل آرٹس ’شوتوکان کراٹے ‘میں مہارت رکھتی تھیں اور براؤن بیلٹ کی حامل تھیں۔
ان کے کوچ سینسی غلام علی ہزارہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ  بلوچستان کی ٹاپ کھلاڑیوں میں شمار ہوتی تھیں  اور کئی مقابلوں میں گولڈ میڈلز جیت چکی تھیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے پچھلے نیشنل گیمز کے لیے بھی منتخب ہوئی تھیں تاہم مالی مشکلات کے باعث شرکت نہ کر سکیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’صوبائی اور قومی سطح کے بیشتر مقابلوں میں کھلاڑیوں کو خود اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے آرزو جیسی باصلاحیت کھلاڑی بھی کئی مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔‘

آرزو حیدر کئی روز تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہیں مگر جانبر نہ ہو سکیں (فوٹو: غلام علی ہزارہ)

خواب جو ادھورے رہ گئے

آرزو کی قریبی دوست نرگس ہزارہ کا کہنا ہے کہ ’وہ نہایت محنتی ، باہمت  اور پُرعزم کھلاڑی تھیں۔ وہ  غریب مگر بہت خودار تھیں۔ پچھلے سال نیشنل گیمز مقابلوں کے لیے کوالیفائی کرنے کے باوجود وہ شریک نہیں ہوئیں بعد میں  دوستوں  نے پتہ کیا تو  اس کے پاس اتنے اخراجات ہی نہیں تھے کہ وہ دوسرے شہر جا سکتیں، دوستوں نے پیشکش بھی کی  مگر وہ کسی سے مالی مدد نہیں لینا چاہتی تھی۔‘
ان کے ٹیچر غلام علی ہزارہ کے مطابق آر زو چند ماہ قبل ہی 18 سال کی ہوئی تھیں، شناختی کارڈ بنواتے ہی انہوں نے  واپڈا سمیت مختلف اداروں میں کھیلوں کے کوٹے کے تحت ملازمت کے لیے بھی کوشش شروع کردی تھیں تاکہ ٹیکسی ڈرائیور والد کا سہارا بنیں لیکن زندگی نے انہیں مہلت ہی نہیں دی۔
جاوید علی کے مطابق ’آرزو حیدر صرف کراٹے ہی نہیں بلکہ بیڈمنٹن اور تھرو بال جیسے کھیلوں میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں تاہم انہیں سب سے زیادہ کراٹے پسند تھا۔‘

آرزو حیدر کی قریبی دوست نرگس ہزارہ کا کہنا ہے کہ ’وہ نہایت محنتی ، باہمت  اور پُرعزم کھلاڑی تھیں (فوٹو: غلام علی ہزارہ)

’انہوں نے کم عمری میں ہی بلوچستان کی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا خواب دیکھتی تھیں وہ کئی مہینوں سے تیاری کررہی تھیں، وہ  بہت پر اعتماد تھیں کہ اس بار ضرور نیشنل گیمز جیتیں گی۔‘
آرزو کے والد حیدر علی کا کہنا ہے کہ ان کی دو اور بیٹیاں بھی مارشل آرٹس کی کھلاڑی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنی بیٹیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح کے چیمپئن بنا سکیں۔
غلام علی ہزارہ کا کہنا ہے کہ آرزو کی موت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات اور سرپرستی کب ملے گی۔
ان کے مطابق ’بلوچستان میں لڑکیوں کے لیے کھیل تک پہنچنا ہی ایک مشکل سفر ہے  اور جو آگے بڑھتی ہیں وہ اکثر وسائل کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اب حکومت کو آرزو کے خاندان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ ان کی باقی بہنیں اپنے کیئریئر پر توجہ دے سکیں اور اپنے اور آرزو کے ادھورے خواب پورا کر سکیں۔

 

شیئر: