Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بائبل کا گمشدہ قبیلہ‘، انڈیا سے اڑھائی سو سے زائد افراد کی اسرائیل منتقلی کا عمل شروع

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریاست منی پور گزشتہ تین برسوں سے نسلی تناؤ کی لپیٹ میں ہے (فائل فوٹو: روئٹرز
بائبل میں مذکور اسرائیل کے ایک قدیم ’گمشدہ قبیلے‘ سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے اڑھائی سو سے زائد انڈین باشندے جمعرات کو تل ابیب کے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان افراد کی انڈیا سے اسرائیل منتقلی حکومت کے ایک خصوصی آپریشن کا حصہ ہے۔
یہ ’بنی مناشے‘ (یعنی مناشے کے بیٹے) برادری کے وہ پہلے افراد ہیں جو حکومت کے نومبر میں کیے گئے اس فیصلے کے بعد اسرائیل پہنچے ہیں جس کے تحت انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور سے قریباً 4600 افراد کی نقل مکانی کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
اس برادری کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق بائبل کے اسرائیل کے ان ’گمشدہ قبیلوں‘ میں سے ایک کے جدِ امجد مناشے سے ہے جنہیں 720 قبل مسیح میں آشوری فاتحین نے جلاوطن کر دیا تھا۔
گمشدہ قبیلوں کے آثار تلاش کرنے والی تنظیم ’شاوی اسرائیل‘ کے مطابق سنہ 1990 کی دہائی سے اب تک قریباً 4000 ’بنی مناشے‘ اسرائیل آ چکے ہیں جبکہ اب بھی سات ہزار کے قریب افراد انڈیا میں مقیم ہیں۔
اس برادری کی زبانی تاریخ کے مطابق وہ صدیوں تک فارس، افغانستان، تبت اور چین سے گزرتے ہوئے یہاں پہنچے اور اس طویل سفر کے دوران بھی وہ ختنہ جیسی یہودی مذہبی روایات پر کاربند رہے۔
تاہم 19ویں صدی میں عیسائی مشنریوں کی کوششوں سے انڈیا میں اس برادری کے کئی افراد عیسائیت میں تبدیل ہو گئے تھے۔
اسرائیل کی وزارتِ انضمام کے مطابق جمعرات کو پہنچنے والے یہ اڑھائی سو افراد شمالی اسرائیل میں آباد کیے جائیں گے جہاں اسرائیلی شہری بننے کے لیے انہیں باضابطہ طور پر یہودی مذہب قبول کرنا ہوگا۔
ہوائی اڈے پر نئے آنے والوں کا استقبال کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ امیگریشن اوفیر سوفیر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ایک ’تاریخی لمحہ‘ ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک ایسے آپریشن کا آغاز ہے جس کے تحت پوری کمیونٹی کو انڈیا سے اسرائیل منتقل کیا جائے گا اور اس کا ہدف سالانہ 1200 افراد کی منتقلی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریاست منی پور گزشتہ تین برسوں سے نسلی تناؤ کی لپیٹ میں ہے۔
وہاں اکثریتی ہندو میتی برادری اور بنیادی طور پر عیسائی کوکی برادری کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک 18000 سے زائد یہودی اسرائیل منتقل ہو چکے ہیں تاہم یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 18 فیصد کم ہے۔

 
 

شیئر: