Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا راؤ طلحہ جاوید واقعی پاکستان کے سب سے کم عمر سِول آفیسر ہیں؟

راؤ طلحہ جاوید نے 51ویں کامن میں اپنی ٹریننگ مکمل کی اور آج کل مظفر گڑھ میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں (فائل فوٹو: راؤ طلحہ)
اگر سوشل میڈیا آپ پر مہربان ہو اور بغیر کسی ذاتی تشہیر کے ہزاروں لاکھوں افراد آپ کو پہنچاننا شروع ہو جائیں اور یہ تشہیر گاہے بگاہے نئی شکل اختیار کر لے تو آپ کو کیسا محسوس ہو گا؟
کچھ یہی کہانی ہے جنوبی پنجاب کے نوجوان سی ایس ایس پاس کرکے ان لینڈ ریوینیو کے افسر راؤ طلحہ جاوید کی۔ ان سے متعلق ہر کچھ مہینوں بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہو جاتی ہے کہ وہ پاکستان کے کم عمر ترین وفاقی افسر ہیں۔
 آج کل یہ پوسٹ پھر وائرل ہے اور کئی سوشل میڈیا پیجز اسے مسلسل پوسٹ کر رہے ہیں۔
طلحہ جاوید آج کل ضلع مظفرگڑھ میں تعینات ہیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ ’یہ پوسٹ پچھلے تین برس میں وقفے وقفے سے وائرل ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے 22 سال اور کچھ مہینے کی عمر میں پہلی ہی کوشش میں سی ایس ایس پاس کر لیا تھا اور یہ فروری 2022 کی بات ہے لیکن یہ درست نہیں ہے پاکستان کی سول سروس میں، میں ہی واحد افسر ہوں جو اس عمر میں سول سروس میں بھرتی ہوا ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔‘
’شاید میں تصویر میں اپنی عمر سے کم دِکھتا ہوں اس لیے لوگ اس پوسٹ کو توجہ دیتے ہیں۔ مجھے نہیں پتا یہ پوسٹ کس نے بنائی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میرا اپنا سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی کم اور ذاتی نوعیت کا اور میری کوئی بھی سوشل میڈیا پروفائل پبلک نہیں ہے لیکن جس کسی نے بھی بنائی ہے میں لوگوں کو یہ بتاتا رہتا ہوں جو بھی پوچھتا ہے کہ کم سے کم میں سول سروسز جوائن کرنے والا میں اکیلا نہیں ہوں۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ ہے لوگ میں پہچانتے ہیں اور جب بھی فیلڈ میں جاتا ہوں تو کوئی نہ کوئی اس کا ذکر کر ہی دیتا ہے۔‘
کم عمری میں سول افسر بننے کی کہانی
اپنی کہانی سناتے ہوئے راؤ طلحہ کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور سے ہے۔ ان کا خاندان ایک درمیانہ زمیندار گھرانہ ہے جبکہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہیں۔
’میں نے 15 سال کی عمر میں میٹرک کیا تو مجھے انجینیئرنگ کا بہت شوق تھا، اس میں ایف ایس سی کی اور اس وقت میں نے اپنے ضلع لودھراں میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور نسٹ میں داخلہ لے لیا۔ جب بی ایس سی سول انجینیئرنگ مکمل کی تو میری عمر 22 سال کچھ مہینے تھی تو ایک خیال تھا کہ مزید پڑھنے کے لئے باہر چلا جاؤں تو گھر والے ذرا اس خیال سے ہچکچا رہے تھے ایک اکلوتا ہوں۔ اس لیے اپنے تین دوستوں کے ساتھ کوئی فیصلہ لینے سے پہلے سی ایس ایس کی تیاری شروع کر دی۔‘

راؤ طلحہ جاوید کا تعلق ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور سے ہے (فائل فوٹو: راؤ طلحہ)

’ہمارے پاس پانچ مہینے کا وقت تھا۔ جب رزلٹ آیا تو مجھے خود بھی یقین نہیں آیا کہ میں نے پاس کر لیا ہے میں 103 نمبر تھا لسٹ میں۔ باقی دونوں دوست میرے سے زیادہ قابل تھے وہ لسٹ میں نام نہیں بنا سکے اور اب وہ دنیا کی اچھی یونورسٹیوں میں پاکستان کا نام روش کر رہے ہیں اور میں نے سروس جوائن کر لی۔‘
راؤ طلحہ سال 2000 میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے عمومی تعلیمی نظام میں اپنی جگہ بناتے ہوئے بیچلرز مکمل کرتے ہی افسر بھرتی ہو گئے۔ ان کی خواہش تو ڈی ایم جی گروپ میں جانے کی تھی تاہم میرٹ لسٹ کے سبب ان کے حصے میں ان لینڈ ریوینیو کا محکمہ آیا۔
عام طور پر پاکستان میں نوجوان کئی کئی سال سی ایس ایس کی تیاریوں میں گزار دیتے ہیں لیکن وہ چند مہینوں میں ہی یہ سنگ میل عبور کر گئے۔ انہوں نے 51ویں کامن میں اپنی ٹریننگ مکمل کی اور آج کل مظفر گڑھ میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
ان کے والد پیشے کے لحاظ سے وکیل ہونے کے ساتھ کالم نویس بھی ہیں اور مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ رہے ہیں اور اب بھی وہ وکالت کے ساتھ  ساتھ صحافت بھی کر رہے ہیں۔
راؤ طلحہ کا کہنا ہےکہ وہ تشہیر کے بالکل بھی شوقین نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے اجتناب کرتے ہیں تاہم ان سے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہر کچھ عرصے بعد وائرل ضرور ہو جاتی ہے اور پھر اپنا سائیکل پورا کر کے ختم ہو جاتی ہے۔ 

شیئر: