شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ

  کراچی (صلاح الدین حیدر) ہر نئے دن کے ساتھ شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔جیل کی کال کوٹھری میں سابق وزیر اعظم ، بیٹی مریم اور داماد کیپٹن صفدر ایک ساتھ جیل میں تو ہیں۔ساتھ دوپہر کا کھانا بھی کھاتے ہیں،لیکن اہل خانہ کو شکایت ہے کہ انہیں جیل میں سہولتیں میسر نہیں ۔ان اُمید وں پر کہ ان کے وکلاءانہیں ضمانت پر رہائی دلوا دیں گے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی تمام درخواستوں پر نا صرف حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کردیا بلکہ پورے کا پورا کیس جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردیا۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ عدالت عالیہ کے دونوں ججوں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس گل حسن نے وکلا کی استدعا مسترد کرکے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ دیگر 2ریفرنسز پر بھی کل سے سننا شروع کردیں۔ جج محمد بشیر نے ہائی کورٹ سے مشورہ مانگا تھا کہ چونکہ نواز شریف کے وکلا ءنے ان پر اعتراض کیا اسلئے اب وہ کیا کریں۔ پہلی خبر کے جج بشیر نے مزید کیسز سننے سے معذرت کرلی ہے غلط ثابت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج جنہوںنے نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدرکو 10 سال ، اور اےک سال کی سزا اور لاکھوں پونڈ ز کا جرمانہ عائد کیا تھا لند ن فلیٹس رکھنے پر نے آج تو کیس ملتوی کردیا تھا لیکن جسٹس کیانی نے ےہ کہہ کر کہ اس کا فیصلہ چیف جسٹس انتظامی امور کے تحت فیصلہ کرےں گے، ظاہر ہے انہیں کیسز سننے کی پابندی سے آزاد کردیا۔ عدالت عالیہ کا کمرہ وکلا اور لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سینیٹر اور سابق وزیر پرویز رشید ، راجہ فضل الحق، اور بیرسٹر ظفر شامل تھے مایو س نظر آئے کہ عدالت نے نیب پر نوٹس جاری کرنے کے کچھ اور نہیں کیا۔ نواز شریف ، مریم یا صفدر میں کسی کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ماہرین قانون کل تک یہی سمجھتے رہے تھے کہ پہلے دن ہائی کورٹ صرف اپیل کی مندرجات سنے گی۔ایسا ہی ہوا اس میں کہیں عدالت نے قانون سے لا پرواہی نہیںبرتی، جج حضرات کا عمل قانون اور آئین کے عین مطابق تھا۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف جنہیں اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ بڑے بھائی ان سے سخت ناراض تھے کہ آخر 13جولائی کو وطن واپسی پر لوگوں کا مجمع ایئرپورٹ تک کیوں نہیں پہنچا۔خفت مٹانے کےلئے پیر کی رات دیر سے احتجاج کیا کہ نواز کو جیل میں بستر صاف نہیں مہیا کیا گیا، گندگی ہے۔ غسل خانے میں تعفن ہے، ایسا ہی شکوہ ان کے بیٹے حسن نواز نے لندن سے ٹوئٹ کے ذریعے کیا۔ لیکن جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل کے قوانین اور اصولوں کے تحت جو کچھ انہیںدیا جانا چاہیے تھا۔ سب کچھ فراہم کردیا گیا۔نواز اور مریم کو (بی )کلاس دی گئی۔ صفدر اور باپ بیٹی سب مل کر دوپہر کاکھانا ساتھ کھاتے ہیں۔ مریم عورتوں اور بچوں میںگھل مل کر دن گزارتی ہیں۔ نواز شریف دن میں جب قیدیوں کے سیل کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں صحن میں چہل قدمی کرتے ہیں۔لوگوں سے تبادلہ خیالات بھی کرنے کا موقع ملتاہے۔سورج ڈوبنے کے ساتھ ہی سیل کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ پھرجیل اور تنہائی، لیکن اکثر لوگ ان اوقات میں قرآن پاک اور مکتوب کا مطالبہ کرکے علم میں اضافہ کرتے ہیںیا پھر اللہ کے حضور پابندی سے نمازادا کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ نواز شریف اگر ایم اے یعنی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلےتے تو انہیں اے کلاس مل جاتی ،لیکن گریجویٹ ہونے کے ناتے بی کلاس پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔ ایک مبصر نے تبصرہ میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ شہباز شریف ،10 سال تک مسلسل پنجاب کے چیف منسٹر رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہونے کے ناتے ان کے زیرِ انتظام تھی کیوں نہیں کوئی وی آئی پی وارڈ بنا ڈالا۔ اگر شفقت محمود، مولا بخش چانڈیو یا زعمیم قادری اس بات پر خوش ہوںکہ13جولائی کو شہباز شریف چند ہزار سے زیادہ مجمع اکٹھا(نواز شریف کے استقبال کیلئے) نہیں اکٹھا کر سکے تو ےہ سیاسی بیان سمجھاجائے گا ۔ اسلئے کہ اب ن لیگ کے مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں لیکن نوجوان وکیل ، اور تجزیہ نگار منیب فاروق نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ شہباز شریف فیل ہوگئے۔زعمیم قادری جو کہ اےک ماہ پہلے تک ن لیگ کے ساتھ تھے اور پنجاب حکومت کے ترجمان ،نے  کہہ دیا کہ 5000سے زیادہ لوگ نہیںتھے۔ اکثر پارٹی ٹکٹ ہولڈرز جو نواز شریف کا دم بھرتے نظرنہیں آتے تھے، اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے رہے۔ پی ایم ایل این ،کے کے پی ،کے صدر امیر مقام پہلے نکلتے تو شاید لاہور کے اجتماع کو تقویت پہنچتی ،ن لیگ کا مستقبل اب کچھ اچھا نظر نہیں آتا۔
 

شیئر: