بلوچستان میں انتخابات اور جمہوریت کے ثمرات

کراچی (صلاح الدین حیدر ) بلوچستان پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ ہے جو کہ آبادی میں تو کم لیکن رقبہ کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے،  تقسیم ہند سے پہلے سے آزادی کے متوالے خود مختار علاقے کے حامی تھے جہاں لسانی بنیادوں پر اس کی جغرافیائی حیثیت کو تسلیم کیا جائے ،پاکستان کے قیام کے بعد ےہ مطالبہ مختلف اشکال میں ابھرا، اس مطالبے کی شدت میں کمی زیادتی ضرور ہوتی رہی لیکن کئی مرتبہ تو بغاوت کی تحریکیں انتہاتک پہنچ گئی لیکن جمہوریت اور 25جولائی کے انتخابات کو کہ اب ساری تخریبی کارروائیاں دم توڑ چکی ہیں۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ شاہ زین بگٹی ، نوابزادہ غزن مری کا سوئٹزرلینڈ سے آکر کئی ایک حلقوں سے جمہوری روایات کو پروان چڑھانا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کے حقوق اور مسائل اگردماغی ، ذہانت اور اصولوں کی بنیاد پر حل کئے جائیں تو نتائج اچھے نکلتے ہیں۔ بلوچستان کی سیاست کو سمجھنے کے لئے اس کی تحریک پر طائرانہ ہی سہی مگر نظر دوڑانا ضروری ہے۔عبدالغفار خان جنہیں سرحدی گاندھی بھی کہا جاتا ہے، نے کانگریس کے ساتھ مل کر 1947کی تقسیم کے وقت صوبے کی خود مختاری بلوچستان اور خیبر پختون خوا جو اس وقت شمالی مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا، کے لئے 1920سے مہم چلائی۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہمیں ہمیشہ اس بات پر دکھ رہے گا کہ بلوچستان کے عوام کے مطالبات بغور سننے کی بجائے، ایوب خان ، ذوالفقار علی بھٹو ، جنرل پرویز مشرف نے فوجی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی، بمباری تک اس کے لوگوں پر کی ایک بارنہیں بارہا کی گئی،جس کا نتےجہ ظاہر ہے ، بغاوت کے جذبے کو جلا ملی ، لیکن مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے کی طرح آزادی کی تحریک بلوچستان میں کامیاب ہونے کے مواقع تقریباً نا پید تھے۔کسی بھی علاقے کو ملک سے الگ کرنے کے لئے سب سے بڑی وجہ قومی فوج کی شکست ہوتی ہے، جو کہ بنگلہ دیش میں ہوئی،اس لئے کہ وہ ملک کادوسرا حصہ تھا۔ مغربی پاکستان سے اس کی حفاظت کرنا مشکل تھی۔درمیان میں اےک ہزار میل کا طویل فاصلہ ہندوستان کا تھا۔یہ پس منظر صرف اس لئے پیش کیا گیا کہ بلوچستان کے لوگوں کے جذبات کو سمجھنے میں آسانی ہو اور جو زیادتیاں وہاں کے عوام کے ساتھ مستقل طور پر رواءرکھی گئیں۔اس کا ازالہ کیاجاسکے،بلوچستان میں کئی محرکات بیک وقت برسرِ پیروکار ہیں، جنہیں یکجا کرکے ہی سمجھنا پڑے گا ،  قبائلی رسمیں ، بلوچ اور پٹھان آبادی کے ابد کے رشتے ، لسانیت سے پیدا ہونے والے مسائل،جغرافیہ ، ترقیاتی کاموں کا نا ہونا،پانی کے مسائل ،لق ودق صحرا ،بارش کی کمی سے کاشتکاری کے لئے نہروں کی کمی، سب مل جل کر نئی صورت پیدا کرتے ہیں، جنہیں بیٹھ کر، آپس میں بات چیت سے ہوشمندی سے کام لیتے ہوئے حل کرنے میں ہی عافیت ہے۔ نئی مردم شماری کے بعد صوبے کی قومی اسمبلی کی کل تعداد 15اور صوبائی اسمبلی کی 51بنتی ہے۔ریزرو نشستوں پر الیکشن کے بعد ظاہر ہے اس میں اضافہ ہوگا۔ بلوچستان اب جب کہ طلال بکٹی نے پاکستان کی حمایت میں اپنے خیالات بدل دئیے ہیں۔شاہ زین بگٹی اور غزن مری جو سوئٹزرلینڈ میں بیٹھ کر بیرونی ممالک میں آزادی کی تحریک چلارہے تھے۔واپس آکر انتخابات میں کئی ایک حلقوں سے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ظاہر ہے ان پر غلط الزام لگایا جاتا تھا، جمہوریت عوامی مسائل کا حل ہے، جمہوریت کو جب موقع دیا گیا بیرونی سرگرمیاں خود بخود دم توڑ گئیں۔کوئی آزاد بلوچستان کانعرہ نہیں لگتا۔گفتگو لمبی نہ ہو اس لئے احتیاط سے کام لیتے ہوئے اتنا ہی کہا جاسکتاہے کہ بلوچستان جو پشتون اور بلوچ آبادیوں پر مشتمل ہے۔ دونوں کے قبائلی رسم و رواج علیحدہ علیحدہ ہیں ، سب ہی مل کر اب ایک قوم کے لئے اپنی صوبے کی بھلائی کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، بہت خوش آئند بات ہے۔ بلوچستان میں جہاں اب بھی ذرائع آمد رفت ملک کے دوسرے علاقوں سے بہت کم ہے، ہر قبیلہ ، بلوچ ہو یا پٹھان، نے کئی ایک حلقوں سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ان میں محمود خان اچکزئی ، نواب لشکری رئیسانی،اسلم خان رئیسانی، صدر ثنا اللہ ظاہری، شہزاد صالح بھوٹانی،مولانا عبدالغور حیدری،اختر مینگل، شیر افضل خان ، سردار یار محمد رند، سرفراز احمدبگٹی جو حال ہی میں تحلیل ہونے والی حکومت میں وزیر داخلہ تھے، حافظ حسین احمد،سردار محمد یعقوب ناصر، ڈاکٹر عبداللہ حئی بلوچ،سردار مری باز کھترن،صفدر فتح،محمد حسنی، محمود خان اچکزئی، انتخابات کی دوڑ میں آگے آگے ہیں، یہ سب وہ حضرات ہیں جو کہ کئی دہائیوں سے سیاست میں براجمان ہیں اور کوئی نا کوئی عہدہ یا کسی نا کسی حکومت میں رہ چکے ہیں، اُمیدواروں کی بھرمار ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی ،بلوچستان عوامی پارٹی ، متحدہ مجلس عمل، جمہوری وطن پارٹی، اور درجنوں آزاد امید وار بھی میدان میں ہیں۔ ویسے تو پسماندہ ہونے کے باوجود تقریباً درجن بھر خواتین نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں، لیکن ان میں سب سے محترم نام زبیدہ جلال کا ہے جو جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں وفاقی وزیر رہ چکی ہیں، تو ےہ کہنا کہ قبائلی رسم رواج ، خواتین کو پردہ میں رکھنے کے قائل ہیں ، بات غلط ثابت ہوجاتی ہے، بلوچستان کی سڑکیں، گلیاں، بازار ، خاص طور پر کوئٹہ، مستونگ ، قلات ، اور لسبیلہ، جس کی سرحد کراچی سے ملتی ہے، فلک شگاف نعروں سے گونج رہا ہے۔ ڈھولکیوں پر رقص ہوتے دکھائی دیتے ہیں ،  سب ملکی سلامتی کےلئے بہت خوش آئند ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی توہین آمیز تقاریر کا نوٹس

شیئر: