Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر امریکی سفارت خانے کا ہنگامی الرٹ، عملے پر پابندیاں عائد

پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ’تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے مقامی میڈیا پر نظر رکھیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں قائم امریکی سفارت خانے اور لاہور، کراچی اور پشاور میں قائم قونصل خانوں نے ملک بھر میں متوقع احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے لیے ایک سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جمعے کو کہا گیا کہ ’پاکستان کے مختلف حصوں میں منصوبہ بند احتجاجی مظاہروں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر امریکی عملے کی نقل و حرکت پر 15 مارچ تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ ان مظاہروں کے باعث بڑے اجتماعات، ٹریفک کی روانی میں خلل اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری کی موجودگی متوقع ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مختلف مقامات پر سکیورٹی چیک پوسٹس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا بھی خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی بندش یا رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو ٹریفک میں تاخیر یا متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔‘
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ’ان احتجاجی مظاہروں کی شدت اور دورانیے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا‘ ، تاہم امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات اور ہجوم والے مقامات سے دور رہیں۔

سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ’بڑی ریلیاں اور جلوس کسی بھی وقت اپنی نوعیت تبدیل کر سکتے ہیں اور پرامن نظر آنے والے مظاہرے بھی اچانک پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں۔‘
پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ’تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے مقامی میڈیا پر نظر رکھیں اور اپنی ذاتی حفاظت کے حوالے سے الرٹ رہیں۔‘
سفارت خانے نے مزید زور دیا ہے کہ شہری اپنے ارد گرد کے حالات سے باخبر رہیں اور اپنی رجسٹریشن (STEP) کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان سے رابطہ کیا جا سکے۔
پاکستان میں جاری سکیورٹی صورتحال اور احتجاجی مظاہروں کے اس تناظر کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے بعد خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران پر ہونے والے حملوں اور اس کے جواب میں تہران کے ممکنہ اقدامات نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ اس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں بھی عوامی سطح پر شدید ردِعمل کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

شیئر: