Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ :سفیر پاکستان کا شمیسی ترحیل کا دورہ ، ہم وطن قیدیوں سے ملاقات

 قیدیوں نے سفیر پاکستان کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ،قونصلیٹ ترحیل میں قید پاکستانیوں کو ہر ممکن قانونی ا مداد کرے ،خان ہشام بن صدیق
جدہ ( ارسلان ہاشمی) سفیر پاکستان خان ہشام بن صدیق نے "شمیسی سینٹر" کا دورہ کیا اور موجود پاکستانی قیدیوں سے حالات دریافت کئے۔اس موقع پر قونصل جنرل شہریار اکبر خان اور قونصل محمد حسن بھی انکے ہمراہ تھے۔ تفصیلات کے مطابق شمیسی ڈیپوٹیشن سینٹرکے ڈائریکٹر جنرل نے انکا استقبال کیااور سینٹر میں موجود پاکستانی قیدیوں اور وہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں سفیر پاکستان اور قونصل جنرل کو بریفنگ دی گئی۔ انکو بتایا گیا کہ حراست میں لئے گئے افراد کو جلد از جلد اپنے ممالک بھجوانے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے سعودی حکومت نے مختلف اقدامات کئے ہیں۔سفیر پاکستان نے زیر حراست افراد کیلئے ہاﺅسنگ، طبی اور خوراک کے اچھے انتظامات کی تعریف کی اور سعودی حکومت شکریہ ادا کیا۔سینٹر کی انتظامیہ نے بتایا کہ اس وقت تقریبا ً1500 افراد زیرحراست ہیں جن پر مملکت کے اقامتی قانون کی خلاف ورزی ریکارڈ کی گئی ۔ خان ہشام بن صدیق نے اپنے وفد کے ہمراہ شمیسی سینٹر میں مختلف بیرکس کا دورہ کیا اور پاکستانی قیدیوں سے بات چیت کی۔ پاکستانی قیدیوں نے سفیر کو اپنے مسائل سے آگا ہ کیا۔ سفیر پاکستان نے قیدیوں کو سفارتخانے اور قونصلیٹ کی جانب سے ہر ممکن ا مداد کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سفیر پاکستان نے قونصل جنرل اور ان کے عملے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ پاکستانی قیدیوں کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرنے کےلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں۔ خان ہشام بن صدیق نے قونصلیٹ کو، تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، پاکستانیوں کی مدد کرنے کی ہدایت کی ۔ واضح رہے شمیسی ڈیپوٹیشن سینٹر میں مملکت میں اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو رکھا جاتا ہے بعدازاں ان سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد انہیں ملک بدر کیاجاتا ہے ۔ مملکت کے قانون کے مطابق سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر قیام کرنا جرم تصور کیاجاتا ہے خلاف ورزی کرنے والوں کو قید اورجرمانے کی سزا بھی دی جاتی ہے ۔ ایسے افراد جو غیر قانونی طور پر مملکت میں قیام کرتے ہیں گرفتاری کی صورت میں انہیں سعودی عرب اور گلف ممالک کے لئے بلیک لسٹ کر دیاجاتا ہے اور وہ آئندہ 3 برس تک مملکت میں کسی بھی ویزے پر نہیں آسکتے ۔

شیئر: