Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صومالی لینڈ نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھول لیا

مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سے اقدام کی سخت مذمت کی ہے (فوٹو: ایکس، او آئی سی)
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ صومالی لینڈ نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھول دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے علیحدگی اختیار کرنے والے افریقی ملک کو تسلیم کیے جانے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے اپنے عزیز دوست صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی کے تاریخی دورے کے دوران ان کا استقبال کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جب انہوں نے یروشلم میں صومالی لینڈ میں سفارت خانے کا افتتاح کیا۔‘
یہ صدر عبدالرحمان کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔
گیڈون سار نے یہ بھی لکھا کہ ’میرے لیے یہ بھی فخر کی بات ہے کہ مجھے اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان تعلقات کی تاریخ کے پہلے صفحات لکھنے کا موقع ملا۔‘
اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
’یہ اقدام غیرقانونی، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی  ہے۔‘
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق او آئی سی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’قابض اسرائیل یروشلم پر حکومت کا حق نہیں رکھتا اور اس کی سیاسی، قانونی یا ڈیموگرافک حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے تمام فیصلے اور اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم اور بے اثر ہیں۔‘
صومالی لینڈ آٹھواں ملک ہے جس نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھولا ہے۔ اس سے پہلے جن ممالک نے وہاں سفارت خانے کھولے ان میں امریکہ، گوئٹے مالا، ہندوراس، کوسووو، پاپوا نیو گنی، پیراگوئے اور فجی شامل ہیں۔
اسرائیل میں زیادہ تر سفارتی مشنز تل ابیب میں موجود ہیں کیونکہ یروشلم کی حیثیت اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں دونوں ممالک درمیان پائے جانے والے سب سے پیچیدہ اور متنازع ترین ایشوز میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔
دسمبر میں اسرائیل اس پہلے ملک کے طور پر سامنے آیا تھا جس نے صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کیا تھا۔ 1991 میں خانہ جنگ کے بعد صومالیہ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کا اعلان کیا تھا۔

شیئر: