فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں سپین کے خلاف شاندار کارکردگی دکھانے والے کیپ وردے کے 40 سالہ گول کیپر ووزینیا راتوں رات دنیا میں مقبول ہو گئے ہیں۔
کھیلوں کی خبریں دینے والے امریکی نشریاتی ادارے ای ایس پی این کے مطابق پیر کو سپین کے خلاف میچ سے قبل ووزینیا کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد تقریباً 56 ہزار تھی، تاہم میچ کے چند گھنٹوں کے اندر یہ تعداد اب تک 63 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
میچ کے دوران انہوں نے سپین کے متعدد گولز ناکام بنائے اور اپنی ٹیم کو ایک قیمتی پوائنٹ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں
-
فیفا ورلڈ کپ 2026: جاپانی شائقین سٹیڈیم کی صفائی کیوں کرتے ہیں؟Node ID: 905373
-
فیفا ورلڈ کپ 2026: ’سعودی ٹیم یوراگوئے کے خلاف پُراعتماد ہیں‘Node ID: 905374
بعدازاں ان کو ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ آخری سیٹی بجنے پر وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور میدان میں ہی آبدیدہ ہو گئے۔
کیپ وردے کے کوچ بوبستا کا کہنا ہے کہ ووزینیا جذبات سے مغلوب تھے کیونکہ انہوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے کئی برس جدوجہد کی ہے۔
ووزینیا کون ہیں؟
ووزینیا کیپ وردے کے شہر مینڈیلو میں پیدا ہوئے، جہاں کی آبادی تقریباً 70 ہزار ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ووزینیا ابتدا میں گول کیپر نہیں بلکہ فارورڈ کھلاڑی بننا چاہتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے گول کیپنگ کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے 25 برس کی عمر میں پیشہ ورانہ فٹ بال کا آغاز کیا۔ 2007 میں مقامی کلب باتوکے کے لیے ان کا ڈیبیو ہوا، اسی سال سپین کے نوجوان سٹار لامین یامال پیدا ہوئے تھے۔

ووزینیا کا فٹ بال سفر غیر معمولی رہا ہے۔ انہوں نے کیپ وردے، پرتگال، انگولا، مالدووا، قبرص اور سلوواکیہ کے مختلف کلبوں کی نمائندگی کی۔
ان کے کیریئر کا واحد بڑا اعزاز 2019 میں قبرص کپ کی فتح ہے جو انہوں نے اے ای ایل لیماسول کے ساتھ حاصل کی تھی۔
پچھلے دو برس سے وہ پرتگال کے دوسرے درجے کے کلب شاویش سے وابستہ ہیں۔
اگرچہ کلب فٹ بال میں ان کا سفر بہت نمایاں نہیں رہا، تاہم قومی ٹیم کے لیے ان کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔
ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں انہوں نے 10 میچوں میں سات کلین شیٹس رکھیں جبکہ مجموعی طور پر صرف آٹھ گول کھائے۔
’اس لمحے کے لیے پوری زندگی محنت کی‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے اپنی پوری زندگی اس لمحے کے لیے محنت کی ہے۔ میری عمر 40 سال ہے۔ میں نے کئی بار فٹ بال چھوڑنے کے بارے میں سوچا لیکن اپنے خواب کی وجہ سے کھیلتا رہا۔‘
ان کے مطابق ’مین آف دی میچ کا ایوارڈ میرے نام ہے، لیکن یہ کامیابی پوری ٹیم کی ہے۔ ساتھی کھلاڑیوں کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔‘
میچ کے بعد ووزینیا کیوں رو پڑے؟
اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا دادی چند برس قبل انتقال کر گئے تھے اور وہ اس تاریخی لمحے میں موجود نہیں تھے۔

ووزینیا نے کہا کہ ’میں اپنے دادا دادی کے ساتھ بڑا ہوا۔ وہ میری زندگی میں سب کچھ تھے، اسی لیے میں رو پڑا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی والدہ بھی میچ دیکھنے امریکہ نہیں آ سکیں کیونکہ ویزا کے اخراجات اور وقت کی کمی کے باعث ان کا سفر ممکن نہ ہو سکا۔
ایک میچ نے زندگی بدل دی
سپین کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد برازیل کے معروف نشریاتی ادارے کازے ٹی وی نے اپنے ناظرین سے ووزینیا کو انسٹاگرام پر فالو کرنے کی اپیل کی۔
اس کے بعد ان کے فالوورز کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی اور چند گھنٹوں میں وہ سوشل میڈیا پر چھا گئے۔












