دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

***سید شکیل احمد***
            سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میںسیاست ایسی الٹ پلٹ ہو رہی ہے کہ سیا سی جما عتو ں میں  ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔حکومت سازی  ہوچکی ہے۔ اس ضمن میں مو رثی سیا ست کا ر فرما ہے یعنی روایات پر عمل ہو رہاہے جیسا کہ ما ضی میں بھان متی کا کنبہ جو ڑ کر حکمر انی کی جا تی تھی اب  بھی ویسا ہی حال ہے نئے پاکستان میں سیا سی چال بازی میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔گزشتہ دنوں 3 صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی اسمبلی کے چیئر مینوں کے انتخابات کا مر حلہ بہر حال گزر گیا لیکن اس سے پہلے ایک دن کی اہم ترین بات پر بات ہو جا ئے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے وہ صدر مملکت کا یوم آزادی کی سالگر ہ کے مو قع پر خطاب ، پا کستان کے صدر جو بنیا دی طور پر مملکت کا سربراہ ہو تا ہے مگر کہا یہ ہی جاتا ہے کہ یہ عہدہ علامتی ہے اختیا رات سب کے سب چیف ایگزیکیٹیو کے پا س ہی ہو تے ہیں گو وہ پاکستان کی مسلح افواج کا آئینی طور پر سپریم کما نڈر ہے  مگر یہ بھی رسمی سا عہد ہ ہے چنا نچہ ایسی تقاریب میں صدر مملکت کا خطا ب بھی روایتی جا نا جا تا ہے ۔ اس مرتبہ صدر مملکت ممنو ن حسین نے بین السطور میں ایسی بات بیا ن کر دی کہ جمہوریت  سے کھلواڑکر نے والو ں کی سوچ کو بھک سے اڑا کر رکھ دیا ہو گا ۔
صدر ممنون حسین نے تقریب سے اپنے خطا ب میں واضح طور پر کہا کہ ملکی نمائندے وہی ہیں جنہیں ووٹر سند دیں۔ پاکستان کی قسمت کے فیصلے ووٹ کی پرچی سے ہونگے۔ انھوں نے اپنے خطا ب میں مزید کہا کہ پاکستان کے نمائندے وہی ہو ں گے جنہیں ووٹر منتخب کریں گے ۔ادارو ں کو بااختیا ر بنا نا نا گزیر ہے ، انھو ں نے مزید کہا کہ قیا م پا کستان کا مقصد یہ تھا کہ انسانو ں کو انسانو ںکی غلا می سے نکالا جائے تاکہ بندگا ن خدا اپنی آزادی سے زندگی گزار سکیں ، ہم ابھی اپنی منزل کو نہیں پہنچے۔ ممنو ن حسین نے حال ہی میں منعقدہ عام انتخابات کا ذکر بھی کیا اورکہا کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت اور حزب اختلا ف نے انتہا ئی عرق ریزی سے انتخابی اصلا حا ت تیا ر کیں جن کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو وسیع تر اختیارات دیے گئے۔ اس کے باوجود مختلف حلقو ںکی جانب سے بے اطمینانی محسو س کی جا ئے تو یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے رفع کرے۔ صدر مملکت کی تقریر میں اور بھی فکر انگیز باتیں بھی تھی جو بہت گیر ائی رکھتی ہیں مگر محولہ باتو ں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ تازہ ترین حالا ت سے مطا بقت رکھتی ہیں ۔
            کہنے کو تو یہ ہے کہ صدر کی تقریر آئینی صدر کی تقریر کا تسلسل ہی تھا جو ایسے مو قعوں پرکی جا تی ہے جس کا گراف کو ئی بلند نہیںہو ا کرتا مگر صدر ممنون حسین کی تقریر کا گراف بھی اونچا رہا اور گہر ائی وگیرائی بھی خوب رہی ہے۔ یہ تقریر ان عنا صر کے لیے پیغام ہے جو پا کستان میں غیر جمہوری کھیل کھیلا کر تے ہیں اس کے ساتھ ہی انھو ں نے الیکشن کمیشن کی کا رکردگی پر بڑی خوبصورتی سے عدم اعتما د کا بھی اظہا ر کر دیا ، بات تو درست تھی کہ جب پارلیمنٹ نے اصلا حات کے ذریعے کمیشن کو بہت ہی بااختیار بنا دیا ہے کہ آئندہ یہ رونا ہی نہ رہے کہ بے بسی ملک میں شفاف انتخابات کرانے میں ناکا م رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طر ح الیکشن کمیشن کی دستا ویزات کچرے یا تندور وں پر پڑی مل رہی ہیں ، تو انتخابات کی شفافیت پر پھر سوال تو اٹھیں گے اور دھا ندلی کے الزام کو تقویت ملے گی۔ صدر مملکت کا یہ کہنا درست ہے کہ شکایت کنندگا ن کو مطمئن کیا جا ئے ۔
              الیکشن میں دھاندلی کا رونا پیٹنا کوئی انہونی نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسے الزامات زیا دہ تر امید وار امید وارو ں پر لگا یا کر تے تھے ، پہلی مرتبہ حکومت پر الزام کھل کر بھٹو مر حوم کی حکومت پر عائد ہو ا کہ براہ راست حکومت ملوث ہے اور اس مبینہ دھا ندلی کے خلا ف پاکستان قومی اتحاد نے زبردست تحریک چلا ئی جو جنرل ضیا ء الحق اچک لے گئے اور 11 سال تک اپنی مطلق العنا ن حکومت قائم رکھی یا تا دم مرگ حکمر ان بنے رہے ۔ انہی دنو ں  ہند میں بھی انتخابات ہوئے تھے ، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی جو سیا سی جماعتوںکو ملغوبہ تھی اس نے انتخابات میں کانگریس کی کرسی اقتدار کو الٹ دیا ، کانگریس نے آزادی ہند میں اہم کر دار ادا کیا تھا عوام نے بھی 35،40  سال تک کانگریس کو حکمر انی کا حق دئیے رکھا اور کا نگر یس ہی نے  ہند کو جہا ں مضبوط معیشت دی وہا ں جمہوری آئین دے کرہند کو دنیا کی سب سے بڑی جمہو ری مملکت میں تبدیل کر دیا۔ جب تک پنڈت نہر و زندہ رہے کانگریس حکومت بھی مستحکم رہی مگر مسز اندرا گاندھی کی دور میں کانگر یس کی کشتی ڈگمگائی کہ اب تک اس کا سر نہیں اٹھ پا رہا ہے حالانکہ اندرا گاندھی نے ہندکیلئے کئی کا رنامے انجا م دیئے۔ اس کے باوجو دعوام نے ووٹ کی پرچی سے اس کو ٹھوکر ما ردی کیوں کہ مسز اندراگاندھی کا واحد قصور یہ تھا کہ اس نے ملک میں ایمر جنسی نا فذکر کے اپنی آمریت قائم کی تھی ، اسی زما نے میں ایک لطیفہ عام ہو ا تھا کہ مسز اندراگاندھی نے بھٹو مر حوم کو پیش کش کی ہے کہ ہند، کشمیر پاکستان کو دینے کو تیا ر ہے بشرطیکہ پاکستان بدلے میں اپنا چیف الیکشن کمشنر ہند کو دید ے ۔بھٹو مرحوم کے زما نے میں جسٹس (ر) سجاد چیف الیکشن کمشنر تھے جو پاکستان کی سینٹ کے طویل عرصہ تک رہنے والے چیئر مین وسیم سجا د کے والد محتر م تھے ۔ بقول سابق وزیر اعلیٰ بلو چستان رئیسانی دھاندلی دھاند لی ہو تی ہے چاہے وہ چیف الیکشن کمشنر سجا د احمد کے دور کی ہویا کسی اور دور میں ہو ۔
            اس نئے پاکستان میں جو باعث حیر ت بات ہے کہ سیاست میں کوئی نیا پن دیکھنے میں نہیں آیا ، تحریک انصاف جس کی کا میابی کی شہنائیا ں اس سر میں بج رہی ہیںکہ اس نے کا میابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں کہ ایک انقلا ب برپا ہو گیا ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ،وہی جو ڑ توڑ  لین دینے کی سیا ست ہو رہی ہے۔ وہ پرانے سیا سی رشتو ں کا بازار گرم ہے۔ عہد و ں کی بندر بانٹ کا بازار اسی طر ح سجا ہو ا ہے کبھی حصول اقتدار کے نگ (نگینے نہیں ) جوڑنے کے لیے دو دو چار چا ر کو پا لش کیا جا رہا ہے۔ ووٹر پھسل رہے ہیں۔  وزیر اعظم کے چناؤ کے مر حلے میں صورت حال دلچسپ سی ہو گئی ۔ پی پی جو حز ب اختلاف کی ایک جماعت ہے جس نے حزب اختلا ف کے اتحاد سے  چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کے ووٹ اتحا دی جما عتو ں سے سمیٹ لئے ہیں۔  وزیر اعظم کے انتخاب میں وہ مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے سے انکا ری ہو گئی ۔اسپیکر   قومی اسمبلی کے انتخاب کے مو قع پر مسلم لیگ نے ایک تگڑا سا احتجا ج کیا تو اس مو قع پر پی پی ہونٹ پر انگلی رکھ کر بیٹھ گئی اور خود کو الگ تھلگ رکھا ۔ گمان یہ تھا کہ پی پی اور دیگر سیا سی جما عتیں اس معاملے میں ایک دوسرے کی ساتھی رہیں گی مگر ایسا نہیں ہو ا جہا ں تک پی پی کا تعلق ہے تو اسکی بے رخی سمجھ میں آنے والی ہے کیو ں کہ ان کے قائد اور ہمشیر ہ قائد اس وقت نیب کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ ان پر منی لا نڈر نگ کا سنگین ترین الزام لگا ہے جس کی تفتیش ہورہی ہے۔ ایسے موقع پر پی پی کی سیا ست کی ترجیح اپو زیشن نہیںہو سکتی ۔مفاہمت ہی ہو سکتی ہے جس کا منظر اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر عمر ان خان کا خود قریب جا کر بلا ل بھٹو اور آصف زرداری سے مصافحہ کر تے ہوئے مسکر اہٹوںکا تبادلہ ہوا ۔ عمر ان خان نے ویسے تو شہبا ز شریف سے بھی ہا تھ ملا یا مگر دیکھنے والو ں کا کہنا ہے کہ عمر ان خان نے آنکھیںچار نہیںکیں نگاہیں نیچی کیں۔اس موقع پر کئی افراد نے  احمد فراز کو اس کے اس شعر کے ساتھ یا د کیا کہ 
                   ’’تم  تکلف  کو  بھی  اخلاص  سمجھتے  ہو  فراز  ‘‘
                   ’’  دوست   ہو تا   نہیں  ہر  ہا تھ  ملا نے  والا   ‘‘
               
                
 

شیئر: