Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مولانا سمیع الحق کی شہادت، پاکستان کیلئے دھچکا

کراچی(صلاح الدین حیدر)جمعیت علمائے اسلام (س) کے چیئرمین مولانا سمیع الحق کی شہادت پاکستان کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ وہ طالبان کے استاد کا درجہ رکھتے تھے بلکہ خود انہی کے الفاظ تھے کہ طالبان انہیں اپنے استاد کی طرح مانتے ہیں۔ان کی اس دنیا سے واپسی پاکستان اور افغانستان میں امن مذاکرات کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے پاکستان خاصے پریشر میں ہے کہ طالبان سے مذاکرات شروع کرائے جائیں۔ اسلام آباد نے اس معاملے میں ایک نہیں، کئی مرتبہ کوششیں کیں، تاہم کبھی کابل کو اعتراض ہوا تو کبھی امریکہ کو۔ظاہر ہے کہ جب تک نشانِ منزل کا صحیح اندازہ نہ ہو، کسی بھی ملک کی حکومت صحیح طور پر کام نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے ایک نہیں، کئی مرتبہ امریکہ اور کابل کو سمجھایا کہ آپ پہلے فیصلہ کر لیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟۔ کبھی طالبان سے رابطہ کیا گیا، امریکہ نے اسے رد کر دیا، کبھی کابل کے صدر اشرف غنی نے اس کی نفی کر دی۔ پاکستان کرے تو کیا کرے۔ اس کی ہر کوشش کو رد کر دیا جاتا ہے۔امریکہ کے ذہن میں آخر کیا ہے۔یہی تو پتہ نہیں چلتا۔ روس نے بھی طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پر غصہ ہو گئے تو پھر دنیا کرے تو کیا کرے؟امریکہ کو اپنی پالیسی کی وضاحت کرنا ہو گی وگرنہ مسئلہ اپنی جگہ ویسے کا ویسا رہے گا۔ مولانا سمیع الحق ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔ناصرف طالبان ان کی ہر بات مان جاتے تھے بلکہ پاکستانی حکام کو بھی ان پر بہت اعتماد تھا۔ وہ واحد شخصیت تھے جو افغانستان میں امن کے لئے انتہائی موزوںتھے اور سب کے لئے قابل قبول بھی۔ ان کی شہادت شائد اب کوئی مسئلہ کھڑا کر دے۔

شیئر: