اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
جمعرات 18 دسمبر 2025 15:35
فیصلے کے مطابق ’جب طارق جہانگیری وکیل بننے کے اہل نہیں تھے تو ہائی کورٹ کا جج بننے کے اہل بھی نہیں ہو سکتے تھے‘ (فائل فوٹو: آئی ایچ سی)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
عدالت نے میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جمعرات کو محفوظ فیصلہ سنایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ’طارق محمود جہانگیری جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اس وقت وہ دُرست اور قابلِ قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھے۔ بعدازاں مستقل جج بننے کے وقت بھی طارق محمود جہانگیری دُرست اور قابلِ قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھے۔‘
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’جب طارق محمود جہانگیری وکیل بننے کے اہل ہی نہیں تھے تو آرٹیکل 175 اے کے تحت ہائی کورٹ کا جج بننے کے اہل بھی نہیں ہو سکتے تھے۔‘
’طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تقرری اور ترقی غیرقانونی اختیار کے تحت کی گئی، طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔‘
جسٹس طارق محمود جہانگیری کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈیڑھ سال سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ڈگری جعلی ہے جبکہ آج رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے یہاں تسلیم کیا کہ ایل ایل بی پارٹ ون ٹو تھری میں موجود تھے۔‘
’رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے یہ کہا ہے کہ ان کی ڈگری کے پراسس میں بے ضابطگی تھی، کراچی یونیورسٹی نے تسلیم کیا کہ یہ ڈگری جاری کی گئی جس کو بے ضابطگی پر منسوخ کیا گیا۔‘
انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ’یہ ابھی طے ہونا ہے کراچی یونیورسٹی 40 سال بعد سچ کہہ رہی ہے یا نہیں، رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے سندھ ہائی کورٹ کے سامنے حکمِ امتناع پر اعتراض نہیں کیا۔‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا (فائل فوٹو: آئی ایچ سی)
’کراچی یونیورسٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا لیکن یہ چھپایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈیکلریشن معطل کر رکھا ہے، رجسٹرار کراچی یونیورسٹی کے حقائق چھپانے پر ان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔‘
بیرسٹر صلاح الدین نے کیس کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کے لیے عدالت سے 30 دن کا وقت مانگا۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ’یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار ہے اور اس عدالت کے سامنے قابل سماعت نہیں ہے۔ُ
اس سے قبل 15 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری خود پیش ہوئے۔
انہوں نے عدالت میں اپنے خلاف دائر درخواست پر کہا کہ ’میں حلفاً بتانے کو تیار ہوں کہ میری سند اصل ہے۔ کراچی یونیورسٹی نے کہیں نہیں لکھا کہ میری ڈگری جعلی ہے۔‘
طارق جہانگیری نے اپنے خلاف دائر درخواست پر کہا کہ ’میں حلفاً بتانے کو تیار ہوں کہ میری سند اصل ہے‘ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
درخواست گزار میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ بھی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ جسٹس طارق جہانگیری کے انرولمنٹ فارم تک بوگس تھے، اگر وہ سچے ہیں تو ایل ایل بی پارٹ 1 اور پارٹ 2 کی مارکس شیٹس لے کر آئیں۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح مجھے کام سے روکا گیا ایسے کسی پٹواری کو بھی نہیں روکا جاتا اور نہ ہی کبھی پہلے ایسے ہوا ہے، میں آپ کا ساتھی ہوں اور بطور جج کام کر رہا ہوں۔‘
عدالت نے جمعرات کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد تمام متفرق درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’جسٹس طارق محمود جہانگیری کے پاس ایل ایل بی کی ڈگری نہیں، لہٰذا وہ جج کے عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں۔‘
فیصلہ سنانے کے وقت کمرہ عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ اور وکلا کی کثیر تعداد موجود تھی۔
عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے فُل کورٹ تشکیل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے تک کیس ملتوی کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے بینچ پر اعتراض کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وزارتِ قانون کو انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا۔