اقوام متحدہ اور او آئی سی کشمیر میں مظالم کا نوٹس لیں، شاہ محمود

اسلام آباد... پاکستان نے کشمیر میں ہندوستانی جارحیت سے نوجوانوں کی شہادت کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے معاملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر ، سیکرٹری جنرل او آئی سی اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو لکھے گئے خطوط میں مطالبہ کیا ہے کہ اجلاس بلاکر ظلم کا فوری نوٹس لیا جائے ۔ اتوار کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ کشمیر کے علاقے پلوانہ میں جو قتل عام ہوا اس نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔یہ جو ظلم کی داستان 2016 میں شروع ہوئی ۔2018 میں اس میں شدید شدت آئی ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز جو نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھایا گیا انتہائی افسوسناک ہے۔ احتجاج کر نےو الوں کے خلاف اس طرح کے بہیمانہ قتل عام ایک خبط کو ظاہر کرتا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک 500 بے گناہ کشمیریوں کو اسی سال شہید کیا گیا۔نومبر میں 18 نہتے کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔18 ماہ کی بچی کو پلٹ گن کی گولی آنکھ میں لگی ۔انہوںنے کہاکہ کسی کی جان لے لینا، اپاہج کر دینا اس سے بڑا انسانی حقوق کا مسئلہ کیا ہو سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پریس کانفرنس میں آنے سے قبل او آئی سی کے جنرل سیکرٹری سے بذریعہ فون بات بھی کی کہ اسلام آباد میں او آئی سی کا وزارتی اجلاس منعقد کیا جائے۔پاکستان اس کی میزبانی کرنے کو تیار ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیاکی ترجیحات میں کشمیر نہیں لیکن دنیا اتنی بے حس اور لاتعلق نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ کو کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھاتے ہوئے دقت ہے تو انسانیت پر آواز اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیںہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر ایشو پر تمام سیاسی جماعتیں ایک موقف رکھتی ہیں۔ تمام جماعتوں سے کہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہو ئے کشمیر کے نہتے شہریوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف نکلیں۔ 

شیئر: