Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی، ’اُتار چڑھاؤ وقتی لیکن محفوظ سرمایہ کاری‘

سونا اور چاندی محض زیورات یا تجارتی دھاتیں نہیں بلکہ انہیں صدیوں سے تحفظ، اعتماد اور مستقبل کی مالی منصوبہ بندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 
گھریلو سطح پر یہ دھاتیں نہ صرف شادی بیاہ اور سماجی تقریبات سے جُڑی ہیں بلکہ معاشی غیر یقینی کے ادوار میں عوام کے لیے محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔
تاہم حالیہ دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اُتار چڑھاؤ اور اب نمایاں کمی نے عام خریداروں، سرمایہ کاروں اور صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ صورتِ حال عارضی ہے یا آنے والے دنوں میں مزید کمی دیکھنے میں آسکتی ہے؟ 
عام شہری جہاں خریداری کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں، وہیں سرمایہ کار مارکیٹ کی سمت جانچنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔
عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خاص طور پر امریکہ کے معاشی حالات میں آنے والی تبدیلیوں کے اثرات براہِ راست پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کی پالیسی، مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں اور ڈالر کی قدر میں اُتار چڑھاؤ نے عالمی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں کو دباؤ میں رکھا ہے۔
قیمتوں میں نمایاں کمی
صرافہ مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق حالیہ دنوں میں مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ’فی تولہ سونا 30 ہزار روپے سے زیادہ سستا ہو کر 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے پر آگیا ہے۔‘
’اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 25 ہزار روپے سے زائد کی کمی آئی ہے اور اب اس کی قیمت 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے ہو گئی ہے۔ یہ حالیہ مہینوں کے دوران سب سے نمایاں کمی قرار دی جا رہی ہے۔‘
سونے اور چاندی کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ عالمی مارکیٹ میں کمی کا رُجحان پہلے سے موجود تھا، تاہم مقامی مارکیٹ میں اس کا اثر کچھ تاخیر سے سامنے آیا۔‘ 

 سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اُتار چڑھاؤ نے صرافہ مارکیٹ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق نہ صرف عالمی ریٹس بلکہ ڈالر کی قدر، درآمدی لاگت اور حکومتی پالیسیوں سے بھی جُڑا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں کمی یا اضافے کا عمل فوری ظاہر نہیں ہوتا۔‘
عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں فی اونس سونا 355 ڈالر کم ہو کر 5 ہزار 150 ڈالر پر آگیا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ’اس کمی کی ایک بڑی وجہ امریکی معیشت سے جُڑی مالیاتی پالیسیاں اور سرمایہ کاروں کا رویہ ہے۔ علاوہ ازیں عالمی سطح پر معاشی سُست روی کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔‘
چاندی کی قیمتیں بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہیں۔ صرافہ مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت ایک ہزار 106 روپے کم ہو کر 11 ہزار 69 روپے پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی 949 روپے سستی ہو کر 9 ہزار 489 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 105.94 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ چاندی کو چوں کہ ایک صنعتی دھات بھی سمجھا جاتا ہے، اس لیے عالمی صنعتی سرگرمیوں میں سُست روی کا اثر اِس کی قیمت پر بھی پڑتا ہے۔

سرمایہ کار کہتے ہیں کہ ’سونے اور چاندی کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ کے بجائے طویل المدت رُجحان کو دیکھنا چاہیے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جیمز اینڈ جیولری کمیٹی کے سابق کنوینر عدنان قادری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’موجودہ اُتار چڑھاؤ اور حالیہ کمی کی بنیادی وجہ عالمی معاشی حالات ہیں، جن میں امریکہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔‘
’غیر یقینی حالات ہوں تو سونا عام طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے، تاہم بعض اوقات بڑے سرمایہ کار منافع سمیٹنے کے لیے سونا فروخت کر دیتے ہیں، جس سے قیمتوں میں عارضی مگر نمایاں کمی آجاتی ہے۔‘
عدنان قادری کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں قیمتوں کا تعین صرف عالمی ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ڈالر کے نرخ، حکومتی پالیسیوں، درآمدی اخراجات اور مقامی طلب و رسد بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔‘
’جب ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو تو عالمی سطح پر کمی کے باوجود مقامی مارکیٹ میں قیمتیں زیادہ کم نہیں ہو پاتیں، جس سے عام خریدار کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ عالمی اور مقامی مارکیٹ کے درمیان فرق کیوں ہے۔‘
سرمایہ کار کیا کہتے ہیں؟
سرمایہ کاروں کا موقف مجموعی طور پر محتاط مگر پُرامید نظر آتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی میں طویل المدت سرمایہ کاری ہمیشہ محفوظ ثابت ہوئی ہے اور وقتی کمی یا اُتار چڑھاؤ سے گھبرانے کے بجائے طویل المدت رُجحان کو دیکھنا چاہیے۔

’چاندی کی فی تولہ قیمت ایک ہزار 106 روپے کم ہو کر 11 ہزار 69 روپے پر آگئی ہے‘  (فائل فوٹو: ایس پی اے)

ایک سرمایہ کار انور خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’سونے اور چاندی میں فوری طور پر منافع حاصل ہونا ممکن نہیں بلکہ یہ طویل المدت سرمایہ کاری ہے، چنانچہ روزانہ کی قیمتوں کی بنیاد پر فیصلے اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشی بحران، افراطِ زر یا کرنسی کی قدر میں کمی آئی، سونے اور چاندی نے اپنی قدر برقرار رکھی یا اس میں اضافہ ہوا۔
بعض سرمایہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کی وجہ سے خوف کی فضا بن جاتی ہے، جس سے عام لوگ گھبرا کر جلد بازی میں فیصلے کر لیتے ہیں۔
سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کرنے والے محمد وسیم کے مطابق ایسے حالات میں بڑے سرمایہ کار کم قیمت پر خریداری کا موقع تلاش کرتے ہیں، جبکہ چھوٹے سرمایہ کار نقصان میں فروخت کر کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سونا اور چاندی ہی محفوظ سرمایہ کاری ہیں۔ بازار میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، جو اِن مشکل حالات میں نہ گھبرائے تو وہ فائدے میں رہتا ہے۔‘
زیورات کی فروخت پر اثر
دوسری جانب جیولرز کا کہنا ہے کہ سونے اور چاند کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ اور حالیہ کمی نے زیورات کی فروخت کو بھی متاثر کیا ہے۔ 

’فی تولہ سونا 30 ہزار روپے سے زیادہ سستا ہو کر 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے پر آگیا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید بتایا کہ شادی بیاہ کے سیزن کے باوجود کئی خریدار محتاط دکھائی دیتے ہیں اور خریداری مؤخر کر رہے ہیں۔ 
جیولرز کہتے ہیں کہ ’بعض خریدار سونے اور چاند کی قیمتوں میں مزید کمی کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد فوری ضرورت کے تحت محدود خریداری کر رہے ہیں۔‘
تاہم جیولرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پاکستان میں سونا محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور سماجی ضرورت بھی ہے، اس لیے اس کی طلب مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی۔‘
ان کے مطابق جیسے ہی مارکیٹ میں استحکام آئے گا تو سونے اور چاندی سے بنے زیورات کی فروخت میں بھی بہتری آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی عالمی سیاسی و معاشی حالات، امریکی مالیاتی پالیسی، ڈالر کی قدر اور مقامی مارکیٹ کے نفسیاتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
جیولرز اور سرمایہ کار دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ یہ اُتار چڑھاؤ وقتی ہے اور سونا اور چاندی طویل مدت تک اپنی اہمیت برقرار رکھیں گے۔

شیئر: