#ریڈیو_کا_عالمی_دن‎

ریڈیو کے عالمی دن کے موقعے پاکستانی ٹویٹر صارفین نے بھی ریڈیو کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد ٹویٹس کیے۔
منیر احمد نے ٹویٹ کیا : ‏آج ریڈیو کا عالمی دن  ہے مگر ریڈیو زوال پذیر ہے۔آزادی سے پہلے ہندوستان میں ایک ریڈیو تھا،برطانیہ میں ۵۰۰۰ ریڈیو اسٹیشن تھے۔امریکی صدر اب تک ریڈیو پر خطاب کرتا ہے۔جنگ ہو یا امن،ریڈیو  سنگ رہا۔ہم اسے بھول گئے۔
علی امتیاز وڑائچ نے لکھا :  ریڈیو پاکستان نے بین المذاہب ہم آہنگی، قومی ہم آہنگی، سیاست، معیشت، قومی سلامتی، حکومت کی بہتر کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، خارجہ پالیسی اور ملک کے سافٹ امیج  کو فروغ دینے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
زامش سید نے کہا : ‏نئی نسل یہ نہیں جانتی کہ کسی بھی زمینی یا قدرتی آفت کی صورت میں صرف ریڈیو ہی کارآمد ہوتا ہے باقی مواصلات کا سارا نظام درھم برھم ہو جاتا ہے۔
قیصر شریف نے ٹویٹ کیا : ‏ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر تمام ورکرز جو وہاں کام کرتے ہیں ان کو سلام۔
عثمان ملک نے لکھا : ‏آج ریڈیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔کمیونیشن کی زندگی میں بریک تھرو لانے والا یہ آلہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
نور الصباح کا کہنا ہے : ‏آج دنیا بھر میں ریڈیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ آج بھی اس ریڈیو کی فریکونسی بہت زبردست ہے ۔ ریڈیو وہ ادارہ ہے جو ہمیں الفاظ کے اتار چڑھاؤ اور تلفظ کی درست ادائیگی میں بہت مدد گار ثابت ہوا۔
دیا رحمن نے ٹویٹ کیا : ‏ریڈیو پاکستان وہ ادارہ ہے جو ہم لوگوں کو لفظوں کی ادائیگی کا ہُنر اور الفاظ کی حُرمت سکھاتا ہے ۔
طارق عزیز نے لکھا : ‏ریڈیو پاکستان کے اولین اناؤنسر تھے مصطفی علی ہمدانی جن کی آواز 13 و 14 کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان لاہور سے اس طرح سننے والوں کی سماعتوں سے ٹکرائی کہ یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے ، آہہہہہ کیا لمحات تھے وہ۔

شیئر:

متعلقہ خبریں