نصابی کتب پر سالانہ 460 ملین ریال خرچ کئے جاتے ہیں، وزارت تعلیم

ریاض... سعودی وزارت تعلیم سالانہ 460 ملین ریال نصابی کتابوں کی پرنٹنگ پر صرف کرتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کتب تعلیمی سال ختم ہونے کے بعد ضائع کردی جاتی ہیں۔ عکاظ اخبار میں شائع ہونے والے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی تعلیمی مرحلے کے 43 فیصد طلبہ سالانہ امتحان ختم ہوتے ہی پرانی کتابیں پھینک دیتے ہیں۔ سیکنڈری اسکول کے 40 فیصد جبکہ ہائی اسکول کے 17 فیصد طلبہ تعلیمی سال کے اختتام پر اپنی کتابیں ضائع کردیتے ہیں۔ قبل ازیں وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ کتابوں کے ضائع ہونے کے پیش نظر بعض کورسز کی کتابوں کی چھپائی روک دی گئی ہے ان کی جگہ ای بُکس کو متعارف کرایاگیاہے۔ نصابی کتابیں چھاپنے والے ایک ادارے کے سربراہ علی العماش نے کہا ہے کہ اس سے پہلے وزارت ہر سال 250 ملین ریال سے 300 ملین ریال تک نصابی کتابیں چھاپا کرتا تھا۔ استعمال شدہ کتابوں کو جمع کرکے انہیں دوبارہ قابل استعمال بنانے کی تجویز ناقابل عمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سال بھر استعمال ہونے والی کتابوں کی تجدید پر اس سے کہیں زیادہ اخراجات آئیں گے۔ اس سے بہتر ہے کہ کم خرچ پر نئی کتابیں پرنٹ کردی جائیں۔ سالانہ کتابیں چھاپنے سے بہتر ہے کہ بڑی تعداد میں ایک مرتبہ کتابیں پرنٹ کردی جائیں۔ اس سے اخراجات میں کافی حد تک کمی آئے گی علاوہ ازیں کئی سال تک یہ کتابیں استعمال میں لائی جاسکیں گی۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال کتابوں کی دوبارہ پرنٹنگ اس لئے بھی ضروری ہے کہ وزارت ہر سال نصاب تبدیلی کردیتی ہے۔ واضح رہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز ترین تبدیلی کے بعد وزارت تعلیم کے ماہرین پڑوسی ممالک کے طرز پر عمل کرتے ہوئے کتابیں چھاپنے کے بجائے طلبہ کو آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ کے ذریعے نصاب فراہم کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں۔ 

شیئر: