مسرور انور پاکستانی فلم انڈسٹری کے گوہر نایاب

شائستہ جلیل۔ کراچی
پاکستان کی فلمی دنیا کے معروف نغمہ نگارمسرور انور کو ہم سے بچھڑے 23  برس گزر گئے لیکن ان کے تحریر کردہ گیت ’’اکیلے نا جانا ہمیں چھوڑ کر‘‘ اور’’ کوکوکورینا‘‘ آج بھی مقبول ترین گیت مانے جاتے ہیں تو’’وطن کی مٹی گواہ رہنا‘‘ اور’’ اپنی جان نذر کروں‘‘ جیسے لازوال ملی نغمات کے خالق بھی ہیں۔مسرور انور نے پاکستان فلم انڈسٹری کی اہم ترین شخصیات وحید مراد، سہیل رانا، ،پرویز ملک کے ساتھ لازوال خدمات پیش کی ہیں۔
کراچی کے علاقے جیکب لائن کے انور علی ' مسرور انور کینام سے ریڈیو اور فلم انڈسٹری کی مقبول ترین شخصیت مانے جاتے ہیں۔
لالی وڈ فلموں کے معروف نغمہ نگار نے ریڈیو پاکستان سے کیرئیر کی شروعات کی معروف پاکستانی صداکار اور اداکار قاضی واجد، مقبول علی اور  مسرور انور نے ملکر ریڈیو پر کئی ڈرامے پیش کیے۔

فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد مسرور انورانڈسٹری کے لیے "گوہر نایاب" ثابت ہوئے ان کے قلم سے لکھے گیتوں نے بڑے بڑے اداکاروں کی شہرت میں بے پناہ اضافہ کیا۔
 مسرور انور کا تحریر کردہ فلم ارمان کا گیت اکیلے نا جانا ہمیں چھوڑ کر" اور کوکوکورینا' آج بھی مقبول ترین گیت مانے جاتے ہیں۔
 مسرور انور کے گیتوں کی شہرت نے فلم کو بے پناہ شہرت دلوائی فلم ارمان' پاکستان سینما انڈسٹری  کی "پہلی اردو پلاٹینم جوبلی" فلم تھی۔جو 48 برس تک مقبول ترین فلم رہی۔
ریڈیو پاکستان کی معروف براڈکاسٹر اور مصنفہ عارفہ شمسہ کا مسرور انور کے ریڈیو سے کیرئیر کے آغاز سے لیکر زندگی کے آخری برس تک ایک بیلوث دوست کی حیثیت سے ساتھ رہاہے۔

عارفہ شمسہ نے مسرور انور کی ذاتی و فنی زندگی پر اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا "مسرور انور کے پاس خیالات کا خزانہ تھا وہ آگے سے آگی بڑھنا چاہتیتھے، ہم دوست بہت اچھے تھے میری بڑی بہن نجم آرا اور مسرور انوراور دیگر ایکساتھ شام کی چائے پر ساتھ بیٹھک لگاتے۔ مسروراکثر اپنے نئے گیتوں کے بارے میں بات کرتے وہ  بہت لکھتے تھے جب تک کہ بہترین گیت تیار نہیں ہوجاتے۔
  • مسرور انور ایک محب وطن شاعر
عارفہ شمسہ نے مزید بتایا کہ مسرور کو ملی نغمات  لکھنے اور ملک کے لیے خدمات دینے کا بیحد شوق تھا جب بھی بیٹھا کرتے تو کہتے میں پاکستان کے لیے ایسا نغمہ لکھوں گا، مسرور انور کو پاکستان سے عشق تھا"۔
سوہنی دھرتی جیسے لازوال ملی نغمات کے خالق مسرور انور کے اس گیت سے نا صرف پاکستانوں میں حب الوطنی کا اجاگر کیا وہیں کئی گلوکاروں جیسے شہناز بیگم، حبیب ولی محمد اور صبیحہ رضا کی وجہ شہرت بھی بنامسرور انور کے قلم نے اس گیت میں وہ تاثیر رکھی الفاظ کا خوبصورت چناو نے  اس گیت کو ملی نغموں میں سرفہرست بنایا، دیگر  نغمے اپنی جاں نذر کروں، وطن کی مٹی گواہ رہنا،جگ جگ جئے میرا پیارا وطن، لب پہ دعا ہے دل میں لگن جیسیمشہورگیت تحریر کیے۔

  • مسرور انور ایک برجستہ گو شخصیت
عارفہ شمسہ نے اردو نیوز کو بتایا " مسرور انور کی شخصیت کا اہم پہلو ان کی برجستہ گوئی تھی۔ دوستوں میں بیٹھ کر ایسے شاندار اور حاضر جوابات پیش کرتے کہ سب دنگ رہ جاتے اور ایک خاص بات یہ تھی کہ ہر وقت کچھ نا کچھ لکھنے کی جستجو میں لگے رہتے تھے،ان کا کمال یہ تھا کہ وہ کیفیت میں ڈھل جانیوالے شاعر تھے،مسرور انور پہلے دھن بناتے پھر اس پر شاعری لکھتے باریک  او رگہرے لفظوں کے انتخاب نے ان کی شاعری سے گیتوں کو شہرت دلوائی، سہیل رانا، وحید مراد،پرویز ملک، مسرور انور کی ٹیم نے ملکر فلموں پر کام شروع کیا اور ہیرا اور پتھر سمیت لگ بھگ ًًٍ سے زائد فلموں کیلئے گیت لکھے اور پچاس سے زائد فلمو ں کی کہانیاں لکھیں۔

  • فلمی دنیا سے جڑے مسرور انور کے رشتے
عارفہ شمسہ مسرور انور کی فلمی شخصیات سے جڑے رشتے پر بتاتی ہیں کہ پرویز ملک مسرور انور کو بہت چاہتے تھے اداکاروحید مراد  مسرور انور کو اپنا بہترین دوست مانتے تھے۔ "مسرور انور مجھ سے پوچھتے تھے کہ  لوگ مجھے  کہتے ہیں کہ تم بہت باصلاحیت ہو لوگ میری بہت تعریف کیاکرتے ہیں۔کیا میں واقعی ایسا ہوں؟۔اتنے اہم فنی خدمات پیش کرنیوالے فنکار نے انھوں نے کبھی اپنے آپ پر غرور نہیں کیا  اتنے بڑے منصب پر پہنچ جانے کیبعد بھی انھوں نے سب دوستوں کو یاد رکھا۔
  • معروف شاعر احمد فراز سے لگاو
براڈکاسٹر عارفہ شمسہ نے بتایا  کہ لولی وڈ فلموں  کے نامور شاعر اور مصنف مسرور انور پاکستان کے مشہور شاعر احمد فراز کو بیحد پسند کرتے تھے ان کی شاعری سے انھیں بیحد لگاو تھا فراز کی شاعری سے متاثر ہوکر کئی گیت لکھے نا صرف یہ بلکہ اپنے بیٹے کا نام بھی احمد فراز پسندیدہ شاعر کینام پر رکھا ہے۔
دوستوں کےنام مسرور کا خصوصی پیغام
عارفہ شمسہ اردو نیوز کو مسرور انور کے آخری ایام کیبارے میں رنجیدہ ہوگئیں وہ  کہتی ہیں ان کی وفات سیایک دن قبل میں نے مسرور سے ملاقات کے لیے لاہور جانے کا پروگرام بنایا، مسرور انور کو شوگر کا اٹیک ہوا تھا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ عارفہ شمسہ نے اردو نیوز سے مسرور انور کا تحریر کردہ ایک پیغام جو انھون ے اپنے کراچی کے دوستوں کیلئے اپنی وفات سے ایک برس قبل کراچی آمد پر تحریر کیاتھا۔
ریڈیو پاکستان کراچی کے سٹیشن ڈائریکٹر نوراللہ بگھیو  نے اردو نیوز سے مسرور انور کی فنی خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "مسرور انور کی فلمی دنیا اور ریڈیو کے لیے  بے پناہ خدمات رہی ہیں،ان کے تحریر کردہ گیتوں کی شاعری نے فلموں کی کہانی سے ایسا جوڑ پید اکیا کہ فلموں کی وجہ شہرت مسرور انور کے گیت بنے ،مسرور انور  نے فلموں کی موسیقی کو بہتر بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیاہے"۔
نامور پاکستانی گلوکار نعیم عباس روفی نے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں مسرورانور کی فلمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا  کہ ہمارے لیجنڈز کی خدمات کا آج کے دور سے موازنہ کرنا مشکل ہے۔ماضی کے دورکی ہر فلم میں سب ایکساتھ ملکر کام کرتے فیملی فلم بناکرتی تھیں پھر نتائج بھی بہترین ملتے تھے۔اب فلمیں صرف آئٹم گیت پر منحصر کرتی ہیں، گیتوں کو ہٹ بنانے کیلئے گلیمر اور جاذب نظر چہروں اور رقص کا سہارا لیاجاتاہے ۔ 
اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کرتم "جیسے مقبول ترین گیتوں کے خالق مسرور انور  یکم اپریل 1996 کوحرکت قلب بندہوجانے کیباعث  دنیا سے رخصت ہوگئے تھے 23 برس بعد  کی خدمات کو سنہرے الفاظ سے یاد کیاجاتاہے۔مسرور انور کو کئی نگار ایوارڈز ملے ان کی وفات کیبعد حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں  صدارتی تمغہ حسن کارکردگی ے نوازا گیاتھا۔ان کے گیت آج بھی سننیوالون میں مقبولیت رکھتے ہیں۔

 

 

شیئر: