Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرکٹر محسن خان سے شادی کرنے والی انڈین اداکارہ رینا رائے:’شیشہ ہو یا دل ہو، آخر ٹوٹ جاتا ہے‘

رینا رائے نے باوقار، مضبوط، اور دیرپا اثر چھوڑنے والے کردار ادا کیے: فوٹو بالی وڈ شادیز
یوں تو کھیل اور انٹرٹینمنٹ کا پرانا رشتہ ہے لیکن کرکٹ اور انڈین فلمی دنیا ’بالی وڈ‘ کا رشتہ کچھ زیادہ ہی گہرا نظر آتا ہے۔
ان دونوں شعبوں کے درمیان محبت کی کئی داستانیں عوامی یادداشت کا حصہ ہیں لیکن ان میں سے بعض ایسی ہیں جو شادیوں تک پہنچیں۔ ان میں سب سے بڑی اور کامیاب شادی نواب پٹودی اور شرمیلا ٹیگور کی مانی جاتی ہے۔
اسی طرح محمد اظہرالدین اور سنگیتا بجلانی، وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کی شادی ہو یا ظہیر خان اور ساگریکا گھٹکے، کے ایل راہل اور عطیہ شیٹی کی شادیاں ہیں جبکہ یوراج سنگھ اور ہیزل کیچ اور ہربھجن سنگھ اور گیتا بسرا کی شادیاں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔
ان سب میں ایک اور نام ہے جس پر آج کی نئی نسل کی نظر کم ہی جاتی ہے۔ اور یہ شادی اپنے زمانے کی سٹار رینا رائے اور پاکستان کے اوپنر بیٹس مین محسن خان کی شادی ہے۔
یہ شادی اپنے زمانے میں کئی لحاظ سے اہم تھی کیونکہ نہ صرف یہ کرکٹ اور فلم کی دو بڑی شخصیت کے رشتہ ازدواج میں بندھنے کی بات تھی بلکہ یہ انڈیا اور پاکستان کے دو سٹار کے درمیان ہونے والی شادی بھی تھی۔ اس کے بعد جس شادی کا سب سے زیادہ چرچا رہا وہ شعیب ملک اور ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کی شادی تھی۔
بہر حال ہم آج ان شادیوں پر نہیں بلکہ رینا رائے کو ان کے یوم پیدائش کے موقعے پر یاد کر رہے ہیں جنہوں اپنے فلمی کریئر کے عروج پر نہ صرف محسن خان سے شادی کی بلکہ فلم انڈسٹری کو بھی خیرباد کہ دیا۔
علم نجوم میں دلچسپی رکھنے والے بتاتے ہیں کہ برج جدی یعنی کیپریکورنز بظاہر بہت کم تیاریوں کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن جب مقابلے کی بات ہو تو وہ بازی لے جاتے ہیں۔ ایسی ہی بازی مارنے والی خاتون سائرہ علی تھیں جو بعد میں رینا رائے بنیں۔
انڈین سینما میں نام بدلنے کی روایت بھی پرانی ہے کیونکہ تقسیم ہند کے بعد یا اس سے قبل بھی ایسے ناموں کو ترجیح دی جا رہی تھی جو یا تو اکثریتی طبقے کو قابل قبول ہو یا بہت سیکولر ہو۔
چنانچہ اس ضمن میں یوسف خان کا دلیپ کمار کہلانا، مہجبین کا مینا کماری ، ممتاز جہاں بیگم دہلوی کا مدھوبالا ہونا بڑی مثالیں ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ صرف مذہب کی بنیاد پر ہی ایسا ہوتا تھا بلکہ مشکل نام کو آسان اور زبان زد نام میں بدلنے کا بھی رواج رہا ہے۔ ایسے میں سادھنا، اشوک کمار، گرودت وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
بہر حال جاڑے کا موسم جب کہرے کی دبیز چادر اوڑھے آتا ہے اسی موسم میں گہرے کردار ادا کرنے والی رینا رائے نے 7 جنوری 1957 کو اداکار صادق علی اور اداکارہ  شاردا رائے کے ہاں آنکھیں کھولیں۔
کہا جاتا ہے کہ رینا رائے نے فلمی دنیا میں قدم محض شہرت کے لیے نہیں رکھا تھا، بلکہ گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اُن کے کاندھوں پر تھا۔
کم عمری میں ہی وہ اپنے خاندان کے لیے سہارا بن گئیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فلمی سیٹ پر ہمیشہ وقت کی پابند رہیں اور انہیں خاموش طبع اور کام پر پوری توجہ دینے والی اداکارہ کے طور پر جانا گیا۔
انہوں نے اپنی اس گہری شخصیت کو پردۂ سیمیں پر زندہ کیا اور باوقار، مضبوط، اور دیرپا اثر چھوڑنے والے کردار ادا کیے۔

رینا رائے نے فلمی کریئر کے عروج پر نہ صرف محسن خان سے شادی کی بلکہ فلم انڈسٹری کو بھی خیرباد کہ دیا: فوٹو بالی وڈ شادیز ڈاٹ کام

رینا رائے نے ایسے دور میں ہندی فلمی دنیا میں قدم رکھا جب ہیروئن کو اکثر صرف زیب و زینت تک محدود سمجھا جاتا تھا۔
اگرچہ رینا رائے نے بی گریڈ فلموں سے اپنے کریئر کی ابتدا کی مگر ابتدا ہی سے یہ واضح ہو گیا کہ وہ اس دائرے میں قید رہنے والی نہیں ہیں۔
1975 میں آنے والی فلم ’زخمی‘ میں اُن کی پہلی جھلک نے ایک ایسی اداکارہ کا تعارف کرایا جس کے اظہار میں گہرائی، آنکھوں میں درد، اور لہجے میں وقار تھا۔
1976 میں آنے والی ہٹ فلم ’ناگن‘ سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ اکثر بیان کیا جاتا ہے۔ شوٹنگ کے دوران رینا رائے جذباتی مناظر کی بار بار مشق پر زور دیتی تھیں، چاہے سیٹ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہی کیوں نہ ہو۔ یہی محنت اُن کی اداکاری میں ایسی تاثیر لے آئی جس نے فلم کو لازوال بنا دیا اور خود رینا رائے کو صفِ اوّل کی اداکاراؤں میں شامل کر دیا۔
فلم ’ناگن‘ کی ہی بات کر لیں کہ انہوں نے اپنے کردار کی پراسرار کیفیت کو اُجاگر کرنے کے لیے سانپوں کی حرکات، آنکھوں کے تیز تاثرات اور جسمانی توازن پر خاص محنت کی۔ اُس زمانے میں ویژول ایفیکٹس محدود تھے، اس لیے کردار کا زیادہ تر اثر اداکارہ کی باڈی لینگویج پر منحصر تھا۔
سن 1970 اور 1980 کی دہائی اُن کے فن کا سنہرا دور تھی۔ فلم ’کالی چرن‘ کے ساتھ ہی ان کی اداکار شتروگھن سنہا کے ساتھ کامیاب جوڑی بنی جو کہ سیٹ سے باہر بھی گفتگو کا باعث رہی۔
فلم ’نانگن‘ اور ’کالی چرن‘ کے علاوہ ’جانی دشمن‘، ’آشا‘، ’اپناپن‘ اور ’ارپن‘ جیسی فلموں میں اُنہوں نے ایسی عورتوں کے کردار ادا کیے جو دکھ سہتی ہیں مگر شکست قبول نہیں کرتیں۔ ناظرین نے اُن میں صرف رومانوی ہیروئن نہیں بلکہ ایک باہمت اور حقیقت پسند عورت کی جھلک دیکھی۔
رینا رائے اور شتروگھن سنہا کی فلمی جوڑی اپنے وقت کی نمایاں جوڑیوں میں شمار ہوئی کیونکہ دونوں کے درمیان موجود فطری ہم آہنگی اس بات کا ثبوت تھی کہ فن میں توازن اور سادگی کتنی بڑی طاقت ہو سکتی ہے۔
لیکن اسی دوران شتروگھن سنہا نے رینا کے بجائے پونم سنہا سے شادی کر لی جس نے رینا رائے کو توڑ دیا۔ اور فلم ’ارپن‘ کے گیت ’شیشہ ہو یا دل ہو آخر ٹوٹ جاتا ہے‘ گیت کی طرح انہوں نے خود کو سمیٹ لیا۔
اسی زمانے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کے تعلقات اپنے عروج پر تھے اور یکے بعد دیگرے کئی سیریز ہوئیں جن میں رینا کی ملاقات محسن خان سے ہوئی اور دونوں نے سن 1983 میں شادی کر لی۔
رینا رائے کے زیر اثر محسن خان نے بھی فلم انڈسٹری میں نظر رکھا لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ ان کی  شادی نو سال تک چلی اور محسن خان سے ان کو ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام پہلے جنت لیکن پھر علیحدگی کے بعد بدل کر صنم رکھ دیا گيا۔
اپنی شہرت کے عروج پر رینا رائے نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے ذاتی زندگی کو ترجیح دی۔ یہ فیصلہ غیر متوقع مگر باوقار تھا۔ فلمی دنیا میں اُن کی غیر موجودگی نے اُن کی مقبولیت کو کم نہیں کیا، بلکہ یادوں کو مزید گہرا کر دیا۔ بعد ازاں جب وہ ٹیلی وژن یا عوامی تقریبات میں نظر آئیں تو اُن کی صاف گوئی اور سادگی نے ایک بار پھر لوگوں کے دل جیت لیے۔

رینا رائے اور شتروگھن سنہا کی فلمی جوڑی اپنے وقت کی نمایاں جوڑیوں میں شمار ہوئی: فوٹو بال ویڈ شادیز

ہدایت کاروں کے مطابق رینا رائے کا کمال یہ تھا کہ وہ لمبے مکالموں کے بغیر بھی منظر کو بھی اپنے جذبات کے اظہار کے ساتھ مؤثر بنا دیتی تھیں۔ ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک فلم کے دوران ہدایت کار نے اُن سے مکالمہ کم کر کے صرف تاثرات پر منظر ادا کرنے کو کہا اور نتیجہ اتنا پُراثر نکلا کہ وہ منظر فلم کا یادگار حصہ بن گیا۔
عروج کے دنوں میں بھی رینا رائے کو فلمی تقاریب میں نمود و نمائش سے دور رہنے والی اداکارہ سمجھا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر شوٹنگ مکمل ہونے کے فوراً بعد خاموشی سے واپس چلی جاتیں، نہ محفلیں، نہ تشہیر بلکہ صرف کام۔
رینا رائے اور شتروگھن سنہا کے بارے میں فلمی حلقوں میں یہ بات مشہور تھی کہ دونوں ایک دوسرے کی اداکاری کا بے حد احترام کرتے تھے۔ شوٹنگ کے دوران اگر کسی منظر میں بہتری کی گنجائش ہوتی، تو رینا رائے بلا جھجھک مشورہ دیتیں اور وہ مشورہ اکثر قبول بھی کیا جاتا۔
جب رینا رائے نے فلمی دنیا سے فاصلہ اختیار کیا، تو یہ فیصلہ بہت سوں کے لیے حیران کن تھا۔ مگر اُنہوں نے کبھی واپسی کے لیے بے قراری یا شکایت کا اظہار نہیں کیا۔ بعد کے انٹرویوز میں اُن کا کہنا تھا کہ ’زندگی میں ہر مرحلے کا اپنا وقت ہوتا ہے۔‘ ان کی یہ سوچ اُن کی فطری سنجیدگی اور توازن کی عکاس ہے۔

جب وہ ٹیلی وژن یا عوامی تقریبات میں نظر آئیں تو اُن کی صاف گوئی اور سادگی نے ایک بار پھر لوگوں کے دل جیت لیے: فوٹو اے ایف پی

جب وہ برسوں بعد فلم ’آدمی کھلونا ہے‘ یا پھر سنہ 2000 کی فلم ’ریفیوجی‘ کے ساتھ عوامی سطح پر نظر آئیں، تو نہ پرانی شہرت کا شکوہ، نہ نئے دور سے شکایت بلکہ ایک طرح کی شکرگزاری اور سکون ان میں دیکھا گيا۔ یہی وصف اُنہیں محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ایک باوقار شخصیت بناتا ہے۔
انہیں ’آشا‘ اور ’ناگن‘ فلموں میں ادکاری کے لیے فلم فیئر ایوارڈ کی بہترین اداکارہ کیٹگری میں نامزد کیا گیا لیکن انہیں یہ انعام نہیں مل سکا۔ بہر حال انہیں فلم ’اپنا پن‘ کے لیے بہترین معاون اداکارہ کے انعام سے نوازا گیا جسے انہیں لینے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں انہیں یہ ایوارڈ بہترین اداکارہ کے زمرے میں دیا جانا چاہیے تھا۔
شتروگھن سنہا نے بعد میں دو خواتین سے بیک وقت رشتہ رکھنے پر افسوس کا اظہار کیا لیکن رینا رائے نے اپنے گہرے رنگ اور گہری شخصیت کے ساتھ اس پر کہرے کا دبیز پردہ رہنے دیا۔
ہر سال جب بھی 7 جنوری کا دن آتا ہے، تو یہ محض ان کی سالگرہ کا دن نہیں ہوتا بلکہ اُن کے اس سفر کی یاد دہانی بن جاتا ہے جس میں رینا رائے نے انڈین سینما میں عورت کی طاقت، صبر اور خودداری کو نئی شناخت دی۔ اُن کے کردار آج بھی فلمی گیتوں، مناظر اور ناظرین کی یادوں میں زندہ ہیں۔

 

شیئر: