Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اے آر رحمان جن کی موسیقی نے ایک دنیا کو سحرزدہ کر دیا

اے آر رحمان آج ہی کے روز 6 جنوری 1967 کو چنئی میں پیدا ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
یہ 1980 کی دہائی کے وسط کا زمانہ تھا۔ 19 برس کا ایک نوجوان جو ایک موسیقار خاندان سے تعلق اور اپنی صلاحیتوں پر گہرا یقین تھا۔ مگر ایک رات ایک محفل کے شور اور بے خودی کے عالم میں کہے گئے چند تلخ الفاظ نے اس کے اندر ایسا اضطراب پیدا کیا جس نے اسے خود سے سوال کرنے پر مجبور کر دیا۔
وہ لمحہ محض ایک ذاتی دکھ کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے تخلیقی سفر کا نقطۂ آغاز بھی ثابت ہوا جس نے اسے اپنی موسیقی پر ازسرِنو غور کرنے اور اپنی ایک الگ پہچان تلاش کرنے پر آمادہ کیا۔
یہ کہانی ہے بے مثل موسیقار اے آر رحمان کی جو آج ہی کے روز 6 جنوری 1967 کو چنئی (اس وقت مدراس) میں پیدا ہوئے۔ والد آر کے شیکھر بھی موسیقار تھے تو یوں بچپن سے ہی موسیقی میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اے آر رحمان جو اس وقت دلیپ کمار کے نام سے جانے جاتے تھے، ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے نہ صرف منفرد پہچان بنائی بلکہ ان کی موسیقی نے ایک دنیا کو سحرزدہ کر دیا۔
موسیقار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میں چند موسیقاروں کے ساتھ کام کیا کرتا تھا اور ایک بینڈ کا حصہ بھی تھا۔ ایک بار، جب میں کم عمر تھا اور بینڈ کا گٹارسٹ نشے میں تھا تو اس نے میری جانب دیکھ کر کہا کہ ’تم یہ کیا بجا رہے ہو؟ یہ تو فلمی موسیقی ہے۔‘ اس نے میرے موسیقی کے انداز پر نہایت حقارت آمیز اور نفرت انگیز تبصرہ کیا۔‘
موسیقار پر اس وقت تو اس طنزیہ جملے کا اثر نہیں ہوا، مگر چند ہفتوں بعد ہی اُنہیں رفتہ رفتہ یہ احساس ہونے لگا کہ یہ بات دراصل درست تھی۔ چنانچہ اُنہیں اس تبصرے کے اثر سے نکلنے میں اچھا خاصا وقت لگ گیا۔
اے آر رحمان نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اُس وقت مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے، مگر چند ہفتوں بعد یہ بات میرے ذہن پر ضرب کی طرح لگی اور مجھے احساس ہوا کہ اس کی بات درست تھی۔‘
’میں نے جب اپنے بارے میں اس کے تبصرے پر گہرائی سے سوچا تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں اُن موسیقاروں سے متاثر ہو رہا تھا جن کے ساتھ میں کام کر رہا تھا۔ چناں چہ میں نے شعوری طور پر خود کو ان کے اثر سے الگ کرنا شروع کیا اور یوں میری ذہنی جستجو کا آغاز ہوا کہ ’میرا اپنا انداز کیا ہوگا یا کیسا ہونا چاہیے؟‘

موسیقار کی روحانی جستجو کا آغاز اس وقت ہو گیا تھا جب وہ ابھی لڑکپن کی عمر سے گزر رہے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

اے آر رحمان نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ ’مجھے اس میں لگ بھگ سات سال لگ گئے، اور میں نے خود کو مکمل طور پر ساتھی موسیقاروں کے اثر سے آزاد کر لیا۔۔۔ بعض اوقات کچھ باتیں دل پر اس قدر گہرا نقش چھوڑ جاتی ہیں کہ وہ آگے بڑھنے اور پرانے سانچوں سے نکل آنے کی ایک مثبت قوت بن جاتی ہیں۔‘
دوبارہ دلیپ کمار یعنی اے آر رحمان کی ابتدائی زندگی کا رُخ کرتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ انہوں نے اسلام کیوں قبول کیا اور اپنا نام اے آر رحمان ہی کیوں رکھا؟
موسیقار کی روحانی جستجو کا آغاز اس وقت ہو گیا تھا جب وہ ابھی لڑکپن کی عمر سے گزر رہے تھے اور ان کے والد ایک موذی مرض میں مبتلا تھے۔ اُس کٹھن دور میں ایک بزرگ نے نہ صرف ان کے والد کی تیمارداری میں اہم کردار ادا کیا بلکہ خاندان کا سہارا بھی بنے۔ والد کے انتقال کے کئی برس بعد موسیقار کے خاندان کی ان بزرگ سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔
موسیقار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ملاقات محض ایک اتفاق نہیں تھی بلکہ میرے لیے زندگی کا نیا راستہ ثابت ہوئی۔‘
 اے آر رحمان کے مطابق ’ہم سات آٹھ برس بعد دوبارہ ان سے ملے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب میرا روحانی سفر شروع ہوا، ایک ایسا سفر جس نے مجھے اندرونی سکون عطا کیا۔‘
معروف مصنفہ نسرین منی کبیر اپنی کتاب ’اے آر رحمان: موسیقی کی روح‘ میں لکھتی ہیں کہ موسیقار سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا اسلام قبول کرنے سے ان کے سماجی تعلقات پر کوئی اثرات مرتب ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ’موسیقار خاندان سے ہونے کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک منفرد مقام حاصل رہا۔‘

اے آر رحمان کے والد خود بھی موسیقار تھے (فوٹو: دی پرنٹ)

 انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے اردگرد کسی کو واقعی کوئی پروا نہیں تھی۔ موسیقار ہونے کی وجہ سے ہمیں معاشرے میں ایک خاص طرح کی آزادی حاصل تھی۔‘
انہوں نے اپنے نام کی تبدیلی کے حوالے سے بھی وضاحت کی اور کہا کہ ’ان کی والدہ نے ان کا نام ’اللہ رکھا‘ ایک خواب دیکھنے کے بعد منتخب کیا، جب کہ خاندان کے دیگر ارکان نے ’رحمان‘ بطور نام تجویز کیا۔‘
وہ نسرین منی کبیر کی کتاب میں یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ’وہ اپنے پیدائشی نام دلیپ کمار سے مطمئن نہیں تھے۔ مجھے اپنا نام کبھی پسند نہیں رہا۔ مشہور اداکار دلیپ کمار سے معذرت کے ساتھ یہ نام میرے اپنے تصور کردہ خود کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔‘
اے آر رحمان کے والد چوں کہ خود بھی موسیقار تھے تو وہ بچپن میں ہی مختلف سازوں کے جادوئی اثر سے آگاہ ہوگئے اور انہوں نے صرف چار برس کی عمر میں پیانو بجانا شروع کر دیا لیکن ان کے لیے ان کے والد کی وفات ایک جاں گسل حادثہ تھا چنانچہ وہ اس بارے میں بات کرنے سے گریز پا رہتے ہیں۔
انہوں نے انڈیا کے معتبر جریدے ہفت روزہ ’دی ویک‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان (والد) کا انجام خوشگوار نہیں تھا، وہ ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئے تھے۔ میں مگر یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی محنت ہمارے لیے ایک نعمت تھی۔ میری والدہ بہت مضبوط اعصاب کی مالکہ تھیں جو صبر اور حوصلہ انہوں نے ہم چار بہن بھائیوں کو پالنے میں دکھایا، تو یہ چیز میں نے اپنی والدہ سے سیکھی ہے۔‘

اے آر رحمان نے اپنا سٹوڈیو بنایا تو ان کے پاس ایمپلی فائر یا ایکولائزر خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’میرے ابتدائی بچپن کی جو واحد یاد مجھے صاف طور پر یاد ہے، وہ ہسپتالوں کے بار بار چکر لگانا ہے۔ میرے والد اے آر شیکھر، جو ایک معروف موسیقار تھے، اکثر پیٹ کے شدید درد کے باعث ہسپتال میں داخل رہتے تھے۔ ڈاکٹروں نے ان کا تین مرتبہ آپریشن کیا، مگر وہ کوئی واضح بیماری تشخیص نہ کر سکے۔ میں جب صرف نو برس کا تھا تو وہ انتقال کر گئے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’والد کی وفات کے بعد والدہ اور تین بہنوں کی کفالت کی ذمہ داری مجھ پر آن پڑی۔ مجھے اپنا تعلیمی سلسلہ ادھورا چھوڑنا پڑا اور میں نے گزر بسر کے لیے کی بورڈ بجانا شروع کر دیا۔‘
اے آر رحمان چوں کہ موسیقاروں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے تو ان کے والد نے ترکے میں موسیقی کے بہت سے ساز چھوڑے جنہیں اب اے آر رحمان نے استعمال کرنا تھا۔ اُن کی زیادہ دلچسپی گٹار بجانے میں تھی، مگر گھر میں چوں کہ موسیقی کے مختلف ساز موجود تھے تو والدہ کے کہنے پر انہوں نے یہ سب بجانا سیکھے یا یوں کہہ لیجیے کہ ان سب سے واقفیت حاصل کی جو آگے چل کر ان کی فنی زندگی میں اُن کے بہت کام آئی۔
زندگی مگر ان کے لیے آسان نہیں تھی۔ انہوں نے اپنا سٹوڈیو بنایا تو ان کے پاس ایمپلی فائر یا ایکولائزر خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے۔ ان کے سٹوڈیو میں بس ایک اے سی، ایک شیلف اور قالین تھا مگر وہ پر امید تھے۔ ان حالات میں ان کی والدہ نے اپنے زیور گروی رکھے اور یوں اے آر رحمان اپنا سٹوڈیو بنانے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے ان دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے اس لمحے اپنے اندر ایک طاقت سی محسوس ہوئی۔ مجھے اپنا مستقبل صاف نظر آنے لگا، اور یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب میری زندگی نے نیا رُخ اختیار کیا۔‘

روجا فلم کی موسیقی غیرمعمولی طور پر کامیاب رہی جو انڈین سنیما کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھی (فوٹو: اے ایف پی)

اے آر رحمان نے ابتدا میں مختلف دستاویزی فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی اور اشتہارات و بھارتی ٹیلی وژن چینلز کے لیے جِنگلز بنائے۔ انہوں نے بہت سے اشتہارات کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی جو بعد میں غیرمعمولی طور پر مقبول ہوئے، جن میں ٹائٹن واچز کا مشہور جِنگل بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے موزارٹ کی سمفنی نمبر 25 کی تھیم استعمال کی تھی۔
ان کی زندگی میں اس دوران ایک اور فیصلہ کن موڑ اُس وقت آیا جب انہوں نے معروف ہدایت کار منی رتنم کی تمل زبان کی فلم ‘روجا‘ کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ اس فلم کی موسیقی غیرمعمولی طور پر کامیاب رہی جو انڈین سنیما کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھی، اور ایسی موسیقی اس سے قبل کبھی سننے کو نہیں ملی تھی۔ ان کی موسیقی میں ایسی تازگی اور جذباتی گہرائی تھی جو نوجوانوں اور بزرگوں دونوں کے دلوں میں اتر گئی۔
’روجا‘ کے اس شاہکار میوزک البم نے فلم کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا اور اسی برس اے آر رحمان کو بہترین موسیقار کا نیشنل ایوارڈ بھی مل گیا۔
اس کامیابی نے اے آر رحمان کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور وہ جلد ہی بالی وڈ اور کولی وڈ کے مصروف ترین موسیقاروں میں شمار ہونے لگے۔ ’روجا‘ کے بعد ان کی نمایاں فلموں میں ’بمبئی‘، ’دل سے’، ’لگان‘ اور ’تال‘ شامل ہیں جن کے گیت آج بھی زوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔ یوں وہ موسیقی کے منظرنامے پر چھا گئے۔
سال 2008 میں فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کی ریلیز کے ساتھ ہی اے آر رحمان کی موسیقی کی گونج ہالی وُڈ اور عالمی سنیما تک جا پہنچی جسے بے پناہ سراہا گیا اور اے آر رحمان پر ایوارڈز کی برسات ہوگئی۔ انہوں نے گولڈن گلوب ایوارڈ کے علاوہ دو گریمی ایوارڈز، بافٹا ایوارڈ اور سب سے بڑھ کر دو آسکر ایوارڈ حاصل کیے۔

اے آر رحمان کی موسیقی محض آوازوں کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات کی ترجمان بھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اے آر رحمان کی موسیقی کی کامیابی کی اور بہت سی وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنی موسیقی میں ٹیکنالوجی کا بے باک اور شعوری استعمال کیا۔ وہ انڈیا کے ان اولین موسیقاروں میں شامل تھے جنہوں نے موسیقی کے جدید آلات استعمال کیے۔ خاص طور پر سنتھیسائزر کے استعمال نے انڈیا میں موسیقی تخلیق کرنے کے انداز کو یکسر بدل دیا اور میوزک پروڈکشن کے معیار کے لیے نئے پیمانے مقرر کیے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چنئی میں واقع  اے آر رحمان کا اے ایم سٹوڈیو ایشیا کے جدید ترین ریکارڈنگ سٹوڈیوز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ آج بھی آوازوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں، جو ان کی تخلیقی جستجو اور جدت پسندی کا واضح ثبوت ہے۔
اے آر رحمان کی موسیقی محض آوازوں کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات کی ترجمان بھی ہے۔ ان کی دھنوں میں ایک گہری روحانیت اور انسان دوستی کی جھلک ملتی ہے، جو سامعین کے دلوں پر براہِ راست اثر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کا گیت ’لُکا چھپی‘، جسے لتا منگیشکر اور خود اے آر رحمان نے گایا، ایک ماں کے اُس کرب اور دکھ کی دل ہلا دینے والی تصویر ہے جو بیٹے کی جدائی کے بعد اس کے دل میں بس جاتا ہے۔ اس گیت میں آواز، دھن اور لفظوں کا نہایت نازک اور حسین امتزاج ہے۔
اسی طرح فلم ’راک سٹار‘ کا گیت ’کن فیکون‘ صوفیانہ تصوف اور جدید دھنوں کا ایک مسحور کن اور طاقت ور امتزاج ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال گیت کے درمیان صرف گٹار کا بجایا جانا ہے، جو اس تخلیق کو روحانی بلندی عطا کرتا ہے اور سامع کو ایک وجدانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
موسیقار کی نجی زندگی بھی کسی حد تک ڈرامائی رہی۔ ان کی شادی ارینج تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آر رحمان اور سائرہ بانو کے خاندان ایک دوسرے کو پہلے سے نہیں جانتے تھے۔ سائرہ بانو گجرات اور اے آر رحمان سائوتھ انڈین ہیں تو ان کا ثقافتی پس منظر بھی مختلف تھا۔ 

اے آر رحمان کی سائرہ سے پہلی ملاقات 6 جنوری 1995 کو ان کی 28 ویں سالگرہ کے دن ہوئی (فوٹو: پیپل)

اے آر رحمان کی والدہ کریمہ بیگم اور بہن فاطمہ چنئی میں زیارت کے دوران سائرہ کے خاندان سے ملیں۔ دونوں خاندانوں میں جلد ہی گہری شناسائی پیدا ہو گئی۔
اے آر رحمان کی سائرہ سے پہلی ملاقات 6 جنوری 1995 کو ان کی 28 ویں سالگرہ کے دن ہوئی۔ وہ ان کے حسن اور خوش گفتاری سے بے حد متاثر ہوئے۔ اس مختصر ملاقات کے بعد دونوں کے درمیان فون پر رابطہ قائم ہوا، اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اے آر رحمان نے سائرہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔
اور جلد ہی 12 مارچ 1995 کو دونوں کی چنئی میں شادی ہو گئی۔ یہ تقریب اسی عمارت میں منعقد ہوئی جہاں بعد میں موسیقار نے 2006 میں اے ایم سٹوڈیوز قائم کیا۔
اے آر رحمان نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’تقریب کے دوران وہ مسلسل مسکرا رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ تین گھنٹے کی اس تقریب کے اختتام پر میرا چہرہ دُکھنے لگا تھا۔‘
تقریباً تین دہائیوں پر محیط اس رشتے کے دوران یہ جوڑا بڑی حد تک میڈیا سے دور رہا۔ دونوں نے طلاق کے بعد بھی ایک دوسرے کے ساتھ گزارے گئے برسوں کے لیے دوطرفہ احترام اور شکرگزاری کا اظہار کیا۔ ان دونوں کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔
اے آر رحمان اپنی کچھ ہم عصر مشہور شخصیات کی طرح آسکر ایوارڈز کو دروازوں کے ہینڈل کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔ ان کی والدہ نے انہیں کبھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اے آر رحمان موسیقی کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر خوف زدہ نہیں ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے ’فلم کمپینین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ان کی مرحومہ والدہ کریمہ بیگم نے ان کے تمام بین الاقوامی ایوارڈز دبئی میں اپنے گھر میں تولیے میں لپیٹ کر رکھے تھے کیوں کہ وہ یہ سمجھتی تھیں کہ یہ سونے کے بنے ہوئے ہیں۔‘
اے آر رحمان عموماً رات کے وقت اپنا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ہفت روزہ ‘دی ویک‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں جب دن کے وقت کام کرتا ہوں تو مجھے بہت ساری فون کالز آتی ہیں اور کئی فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس لیے مجھے اپنے تخلیقی ماحول سے باہر آنا پڑتا ہے۔ چنانچہ رات کا وقت میرے لیے زیادہ موزوں ہے۔ زیادہ تر جب میں اوورڈبز یا دیگر تکنیکی کام کرتا ہوں تو وہ دن کے وقت ہوتا ہے، مگر جو اصل تخلیقی کام میں کرتا ہوں یعنی لکھنا اور موسیقی تخلیق کرنا تو وہ زیادہ تر رات کے وقت ہی کرتا ہوں۔‘
اے آر رحمان تخلیقی عمل اور خاص طور پر موسیقی کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر خوف زدہ نہیں ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ ’اے آئی ماسٹرنگ کے عمل میں مدد دیتی ہے، مگر دھن تخلیق کرنا اب بھی انسانی دل اور فلسفیانہ سوچ کا کام ہے۔ مستقبل حقیقی موسیقاروں کا ہوگا، جو سٹیج پر گٹار بجائیں گے اور گیت گائیں گے… اور میں محسوس کرتا ہوں کہ ڈیجیٹائزیشن کے اس دور میں، ہم خامیوں کو اور زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے کہ ‘دیکھو، یہ حقیقی ہے، اس کی دھن تھوڑی اِدھر اُدھر ہے۔‘
اے آر رحمان اب وہ کام کر رہے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ موسیقی کا ہر بڑا ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں اور تین نسلوں کے پسندیدہ موسیقار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب اُنہیں اپنی قابلیت ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی چناں چہ وہ اب صرف ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو انہیں خوشی دیتے ہیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں نے آسکر کافی عرصہ پہلے جیت لیا تھا، مگر اب، کسے پروا ہے؟ میں وہ کام کر رہا ہوں جو میرے دل کے قریب ہے اور جو آنے والی نسلوں کے لیے تحریک کا باعث بنے گا۔‘

 

شیئر: