Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنوبی یمن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ایس ٹی سی کی تحلیل جُرات مندانہ قدم ہے: سعودی وزیر دفاع

کونسل نے ریاض میں مذاکراتی کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی تحلیل کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ’جنوبی یمن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اب ایک حقیقی راستہ موجود ہے، جس کی سرپرستی مملکت سعودی عرب کر رہی ہے اور جسے ریاض کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔ اس عمل کا مقصد ہمارے جنوبی بھائیوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ منصفانہ حل کے لیے ایک جامع وژن تشکیل دیا جا سکے، جو ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہو۔‘
اپنے بیان میں سعودی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب جنوبی شخصیات سے مشاورت کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دے گی، جو کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام کرے گی۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس میں تمام جنوبی صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بغیر کسی امتیاز یا اخراج کے شرکت کا موقع دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مملکت کانفرنس کے نتائج کی مکمل حمایت کرے گی تاکہ انہیں یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے ہونے والے مکالمے میں پیش کیا جا سکے۔
اپنے بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ’جنوبی شخصیات اور قائدین کی جانب سے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے، جو جنوبی کاز کے مستقبل کے لیے تشویش اور ریاض کانفرنس میں وسیع تر جنوبی شمولیت کو فروغ دینے کی نیت سے کیا گیا ہے۔‘
قبل ازیں یمن کی علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اپنی تنظیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
جنوبی یمن میں بدامنی کے خاتمے سے متعلق بات چیت کے لیے ایس ٹی سی کے کئی ارکان اس وقت ریاض میں موجود ہیں۔
 یمن کے ایس ٹی سی کے ارکان نے جمعے کے روز ریاض سدرن ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران خطاب کیا تھا۔
اجلاس کے دوران کونسل کے ارکان نے کہا کہ حضرموت اور المہرہ میں کی گئی فوجی کارروائیوں نے یمن میں جنوبی کاز کو نقصان پہنچایا۔  کونسل کا کہنا تھا کہ وہ حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں کے فیصلے میں شامل نہیں تھی۔ کونسل نے ریاض میں مذاکراتی کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

شیئر: