سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کی تحلیل کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ’جنوبی یمن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اب ایک حقیقی راستہ موجود ہے، جس کی سرپرستی مملکت سعودی عرب کر رہی ہے اور جسے ریاض کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔ اس عمل کا مقصد ہمارے جنوبی بھائیوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ منصفانہ حل کے لیے ایک جامع وژن تشکیل دیا جا سکے، جو ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہو۔‘
اپنے بیان میں سعودی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب جنوبی شخصیات سے مشاورت کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دے گی، جو کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام کرے گی۔‘
مزید پڑھیں
-
تجزیہ: یمن کو ’سوڈانائز‘ کرنے کے خطراتNode ID: 898943
-
یمن کی جنوبی عبوری کونسل کا اپنی تنظیم تحلیل کرنے کا اعلانNode ID: 899253
انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس میں تمام جنوبی صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بغیر کسی امتیاز یا اخراج کے شرکت کا موقع دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مملکت کانفرنس کے نتائج کی مکمل حمایت کرے گی تاکہ انہیں یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے ہونے والے مکالمے میں پیش کیا جا سکے۔
اپنے بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ’جنوبی شخصیات اور قائدین کی جانب سے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے، جو جنوبی کاز کے مستقبل کے لیے تشویش اور ریاض کانفرنس میں وسیع تر جنوبی شمولیت کو فروغ دینے کی نیت سے کیا گیا ہے۔‘
قبل ازیں یمن کی علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اپنی تنظیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
أصبح لقضية الجنوب مسار حقيقي ترعاه المملكة ويدعمه ويؤيده المجتمع الدولي عبر مؤتمر الرياض، الذي نسعى من خلاله لجمع إخوتنا أبناء الجنوب؛ لإيجاد تصور شامل للحلول العادلة بما يلبي إرادتهم وتطلعاتهم.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) January 9, 2026












