مودی کی الیکشن مہم میں بالی وڈ کا کردار کیسا رہا؟

رواں سال کے آغاز میں ہندوستانی فلم انڈسٹری بالی وڈ کے تقریباً ایک درجن معروف اداکاروں نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ مْلاقات کے  لئے  ایک نجی طیارے کے ذریعے ممبئی سے دارالحکومت نئی دہلی کا سفر کیا۔   
ملاقات کے فوراً بعد انسٹاگرام پر2 کروڑ سے زائد فالورز کے حامل اداکار رنویر کپور نے مودی کے ساتھ گلے ملنے کی ایک تصویر شائع کی جس کو 30 لاکھ سے زائد صارفین نے پسند کیا۔ 
10 جنوری کو ہونے والی اس ملاقات کے منتظم معروف فلم پروڈیوسر ماہا سنگھ کے مطابق مودی نے فلمی ستاروں کو  ہندوستانی رسم و روایت اور حب الوطنی پر بات کرنے کو کہا۔ 
 ماہا سنگھ کے بقول ’مودی کو بالی وڈ کی طاقت اور لوگوں کے ذہنوں پر اس کے اثرات کا بخوبی اندازہ ہے۔‘
 
انڈیا کی ایک ارب 30 کروڑ افراد پر مشتمل آبادی کا لگ بھگ دو تہائی حصہ 35 سال یا اس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جن میں سے لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ افراد جمعرات 11 اپریل کو شروع ہونے والے عام انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال پہلی مرتبہ کریں گے۔
ایسے میں فلمی ستاروں کی جانب سے مودی کی حمایت اْن کی جیت  میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ 
2014 کے انتخابات میں مودی نے واضح برتری حاصل کی تھی تاہم دیہی علاقوں میں بڑھتی محرومیوں اور روزگاری کی شرح میں مسلسل کمی کے باعث اس مرتبہ مودی کی جماعت کے  لئے انتخاب جیتنا نسبتاً مشکل ہوگا۔
گذشتہ چند مہنیوں کے دوران مودی نے بالی وڈ کی مشہور شخصیات کے ساتھ کم از کم چار ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں شریک ہونے والی زیادہ تر شخصیات نے مودی کے ساتھ لی گئیں سلیفیاں اْن کی تعریفیں لکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر شائع کیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق معروف ڈائریکٹر کرن جوہر نے انسٹاگرام پر مودی اور فلمی ستاروں کے ساتھ لی گئی ایک تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ ’بدلتے ہوئے  ہند میں ہم سب مل کر مثبت تبدیلیاں لائیں گے۔‘
10 لاکھ صارفین کی جانب سے پسند کی جانے والی اس تصویر کے ساتھ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ہم فلموں کے ٹکٹوں پر ٹیکس کم کرنے پر حکومت کے شْکرگْزار ہیں۔ ‘ 
امریکہ کی میشیگن یونیورسٹی کے پروفیسر اور 2009 سے مودی کے سوشل میڈیا فیڈ کا تجزیہ کرنے والے جویو جیت پال کا کہنا ہے کہ ’بھارت کی سیاسی تاریخ میں کوئی بھی ایسا سیاستدان نہیں گْزرا جو سوشل میڈیا پر مودی کی طرح ’سلیبرٹی‘ بننے میں کامیاب رہا ہو۔‘ 
امریکی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ ہمیشہ بائیں بازو کی لبرل سیاست اور سیاستدانوں، خاص طور پر ڈیموکریٹس کی حامی رہی ہے تاہم اس کے بالکل برعکس بالی ووڈ نے مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو گلے لگانا مناسب سمجھا ہے۔
سیاست اور فلمیں 
سوشل میڈیا سے ہٹ کر بات کریں تو بالی وڈ رواں سال اب تک وزیرِ اعظم کے کرداروں پر مبنی تین مختلف فلمیں ریلیز کر چْکی ہے۔ 
’اوڑی: دی سرجیکل سٹرائیک‘ نامی فلم بھارتی باکس آفس میں ساڑھے تین کروڑ روپے کے کاروبار کے ساتھ سال کی سب سے بہترین فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں مودی اور ان کے سیکیورٹی مشیر اجیت دوول  کی جانب سے 2016 میں پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کو سراہا گیا ہے۔ بھارت کے مطابق ان حملوں میں اْس کی فوج نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردوں کے مبینہ کیمپوں پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کی پاکستان نے سختی سے تردید کی تھی۔
مودی اور اْن کے وزرا اپنی تقاریر میں لوگوں کو یہ فلم دیکھنے کا مشورہ بھی دیتے رہے ہیں۔
تاہم فلم کے ڈائریکٹر ادیتیا دھار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فلم کے پیچھے ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ یہ اْن جوانوں کے متعلق ہے جنہوں نے ملک کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی۔‘ 
حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی اجازت کے بغیر لکھی گئی سوانح عمری پر بننے والی فلم ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ اور ’اوڑی: دی سرجیکل  اسٹرائیک‘ ایک ہی ہفتے میں ریلیز ہوئی تھیں۔
تاہم منموہن سنگھ پر بننے والی فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ اس فلم میں منموہن سنگھ کی کْھلی توہین کرتے ہوئے انہیں ایک ناکام اور کانگریس کے سربراہ گاندھی خاندان کے سامنے جھکنے والا سیاستدان دیکھایا گیا ہے۔
 معروف فلمی نقاد راجیو ماسند کے مطابق ’آپ واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈہ فلمیں ہیں اور ان کا ایک خاص ایجنڈا ہے۔‘ 
دوسری جانب انڈین  الیکشن کمیشن نے مودی کی زندگی پر بننے والی فلم ’پی ایم نریندرا مودی‘ کی ریلیز پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم مودی کی زندگی پر بننے والی ویب سیریز ابھی بھی آن لائن چل رہی ہے۔
مودی کے مخالف کیا کہتے ہیں؟
مذکورہ صورتِ حال کے باوجود بھارت میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے 800 سو سے زائد اداکاروں اور فنکاروں نے شہریوں سے مودی کو ووٹ نہ ڈالنے کی درخواست کی ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر اداکار ایسے ہیں جن کے نام بالی وڈ کی اے کیٹیگری یعنی نامی گرامی اداکاروں میں نہیں آتے۔ 
ان فنکاروں نے آرٹسٹ یونائیڈ نامی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اْس آدمی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں جسے 5 سال قبل قوم کا نجات دہندہ کہا جا رہا تھا۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں وہ اپنا ووٹ پیار، برابری اور انصاف کے  لئے  ڈالتے ہوئے اندھیروں اور بربریت کی طاقتوں کو شکست دیں۔‘
اْدھر ذرائع کے مطابق کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے بھی بالی وڈ اداکاروں اور انڈسٹری کی دیگر شخصیات سے ملاقات کی ہے لیکن اس ملاقات کا ایجنڈا ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا۔  راہول گاندھی کے دفتر سے بھی کوئی اس حوالے سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 
’مائی نیم از راگا‘ یعنی میرا نام راگا ہے کے نام سے گاندھی پر بننے والی نسبتاً ایک غیر معروف فلم بھی اس ہفتے ریلیز ہونے جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ روایتی طور پر، بالی ووڈ کے ستارے بھی معاوضہ لے کر سیاسی جلسوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکھٹا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
فلم اور ٹیلی ویڑن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا میں بطور پروفیسر خدمات سرانجام دینے والے پروفیسر سندیپ چیترجی کہتے ہیں ’یہ سب بہت خطرناک ہے کیونکہ انڈین  سینما اچھا خاصا اثرورسوخ رکھتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ لوگ جو دیکھتے ہیں اْس کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں مگر آپ عام شہریوں خاص طور پر نوجوانوں پر  انڈین سینما کے اثر کو جھٹلا نہیں سکتے۔‘
 

شیئر: