پاکستانی صحافی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ سے کیسے بچتے ہیں؟

*** شاہد عباسی ***
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیا ٹائم لائنز پرسیاسی و گروہی مخالفین کے خلاف تنقید ایک معمول سمجھا جاتا ہے۔ گاہے بگاہے یہ تنقید مذاق اڑانے یا ٹرولنگ کی شکل اختیار کر کے کچھ ایسے لوگوں کو بھی نشانہ بنا لیتی ہے جو بظاہر معاملہ کے فریق نہیں ہوتے۔
پاکستانی صحافی بھی ان افراد میں شامل ہیں جو خبر دینے یا حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد شدید تنقید یا ٹرولنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔
گزشتہ چند روز کے دوران وزیراعظم عمران خان اور پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کے درمیان موجود کشیدگی سے متعلق گفتگو نے سوشل میڈیا کا رخ کیا تو اسے رپورٹ کرنے یا متعلقہ حقائق کا ذکراورتجزیہ کرنے والے صحافی پھر نشانہ بن گئے۔
اس مرتبہ ٹرولنگ کے نتیجے میں مختلف افراد کے ناموں کے ساتھ ٹرینڈز  بنے تو بڑی تعداد میں ایسے صارفین بھی سامنے آئے جنہوں نے انداز گفتگو اور تنقید کے طریقہ کار پر تنقید کی۔
معروف کامیڈین اور گلوکارعلی گل پیر نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اپنے رہنماؤں کی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، وہ انسان ہیں جن سے غلطی ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے حامیوں کو عمران خان کے بیان کا دفاع کرنے پر متعدد صارفین کے طنز کا سامنا کرنا پڑا۔ جبران صدیقی نامی صارف نے لکھا ‘فاروق ستار نے کبھی بھائی (الطاف حسین) کی اتنی لمبی صفائی نہیں دی ہو گی۔‘
اردو نیوز نے حالیہ ٹرولنگ کا نشانہ بننے والے کچھ صحافیوں سے گفتگو کر کے ان سے پوچھا کہ وہ ان حالات کا سامنا کیسے کرتے ہیں اور اس کا کیا حل ہوسکتا ہے؟
سوشل میڈیا پر فعال ترین پاکستانی صحافیوں میں سے ایک عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ ٹرولنگ سنجیدہ مسئلہ ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ حکومتی سطح پر سوشل میڈیا کی نگرانی کے خیال سے متفق نظر نہیں آئے۔
سوشل میڈیا پر بدزبانی یا حد سے بڑھتی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ گالیوں کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ایسے میں ٹرولنگ کرنے والوں کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔
عمر چیمہ کے مطابق گالیاں دینے والے مخالفین کو نیچا دکھانے کے علاوہ ٹرولنگ کر کے اپنے حامیوں کی توجہ اصل معاملے سے ہٹائے رکھتے ہیں۔
ٹرولنگ کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی صحافی کا کہنا تھا کہ وہ کمنٹس نہیں پڑھتے البتہ ری ٹویٹس دیکھ لیتے ہیں تاکہ عوامی جذبات کا اندازہ ہو سکے۔
عمر چیمہ سے پوچھا گیا کہ آپ پر بھی الزام ہے کہ سخت زبان استعمال کرتے ہیں۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اپنے خیالات اور حقائق بیان کرنے کے لیے کبھی بھی بدذبانی نہیں کی۔ میں اگر اظہار رائے کو اپنے لیے حق سمجھتا ہوں تو دوسروں کو بھی اس پر عمل کی اجازت دیتا ہوں یہی وجہ ہے کہ کسی صارف کو بلاک نہیں کرتا۔
کالم نگار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ماروی سرمد بھی وزیراعظم عمران خان کے ایک حالیہ بیان پر تنقید کے سبب نئے سرے سے ٹرولنگ کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہیں۔
اردو نیوز نے ان سے استفسار کیا کہ ٹرولنگ جیسے مشکل مرحلہ کا سامنا کیسے کرتی ہیں؟ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ سیلف سنسرشپ کرتی ہوں لیکن بعض اوقات معاملہ برداشت سے باہر ہو جاتا ہے تو اس پر گفتگو لازم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی ٹویٹس چبھتی ہوئی ہوتی ہیں لیکن لوگوں کے ضمیر کو جگانے کے لیے بات کرنا ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے کے ذاتی تجربہ کا ذکر کرتے ہوئےا نہوں نے کہا کہ وہ ابتدا میں بدزبانی سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوتی تھیں، خصوصاً جب لوگوں کی جانب سے ذاتی کردار پر بات کی جائے اور آپ کو اندازہ ہو کہ اہلخانہ بھی اس گفتگو کو دیکھ سکتے ہیں تو ان مراحل کا سامنا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماضی کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ماروی سرمد نے کہا کہ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں میری گفتگو کے بعد جو تنقید ہوئی اس نے مجھے رونے پر مجبور کر دیا۔ شوہر اور سسر نے معاملہ جاننے کی کوشش کی اور میری ہمت بندھائی جس کے باوجود ایک ماہ تک بے چین اور ذہنی دباؤ کا شکار رہی۔ اس مرحلہ پر میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ آئندہ چپ نہیں رہوں گی چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔
وہ پر امید ہیں کہ جوں جوں سوسائٹی سچ قبول کرنے کے قابل ہوتی جائے گی ٹرولنگ کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔
حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے نگرانی کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متنفر کرنے اور کسی کو خطرے میں ڈالنے والی گفتگو سے احتراض کیا جائے۔
 

شیئر: