خادم رضوی اور افضل قادری کی ضمانت منظور

خادم حسین رضوی کی ضمانت کو مشروط نہیں رکھا گیا۔
پاکستان کے صوبے پنجاب کی ہائی کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی اور جماعت کے سابق سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ 
لاہور میں اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق منگل کو لاہورہائی کورٹ کے جسٹس قاسم علی خان اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دس مئی کو ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ منگل 14 مئی کو سنا دیا گیا۔ 
عدالت نے دونوں رہنماؤں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔ 
نامہ نگار کے مطابق عدالت نے پیر افضل قادری کی ضمانت 15 جولائی تک منظور کی ہے اور اگلی سماعت پر ان کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ خادم حسین رضوی کی ضمانت کو مشروط نہیں رکھا گیا۔ 

دونوں رہنماؤں پر عوام الناس کو اکسانے اور قومی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کرنے کے مقدمے درج کیے گئے تھے، بعد ازاں پیر افضل قادری نے جیل سے ایک ویڈیو پیغام اورخادم رضوی نے تحریر طورپر معافی مانگ لی اور یہ معافی نامے عدالت میں بھی جمع کروائے گئے۔ 
دونوں رہنماؤں پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ 
خیال رہے کہ ان مظاہروں میں تحریک لبیک پاکستان کے سینکڑوں مظاہرین کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

شیئر: