پاکستانی خواتین بھی شمشیر زنی کے میدان میں

فینسنگ یعنی شمشیر زنی کا فن ہزاروں سال پرانا ہے جو میدان جنگ سے نکل کر اب کھیل کے میدان میں زندہ ہے۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں اس فن کو باقاعدہ کھیل کا درجہ دیا گیا۔
شمشیر زنی اولمپکس مقابلوں کا حصہ بننے والے اولین کھیلوں میں سے ایک ہے۔
یورپ کے بعد شمشیر زنی کا کھیل پاکستان میں بھی مقبول ہو رہا ہے۔ چند برس قبل متعارف ہونے والے اس کھیل میں اب صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔
شمشیر زنی خطرے سے خالی نہیں، اس لئے اسے جدید انداز میں مخصوص لباس، ماسک اور دستانے پہن کر کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کو تین مختلف کیٹگریز ایپے، فوئل اورسیبرمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر کیٹگری میں حفاظتی ڈھال پہنے کھلاڑی ایک دوسرے کے جسم کے مخصوص حصوں پر تلوار سے وار کرتے ہیں۔
شمشیر زنی کو فروغ دینے کے لئے کوئٹہ میں تیسری قومی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا جس میں چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان، واپڈا اور ریلوے کی ٹیموں کے سو سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ان کھلاڑیوں میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی حصہ لیا۔
چیمپئن شپ میں پنجاب نے چار گولڈ میڈلز کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ بلوچستان دو گولڈ میڈلز حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہا۔
مقابلوں میں حصہ لینے والی بیوٹمز یونیورسٹی کوئٹہ کی طالبہ مشعل سعید نے بتایا کہ شمشیر زنی انتہائی دلچسپ کھیل ہے۔ بلوچستان کی خواتین کو پہلی بار اس کھیل میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔
مشعل سعید نے کہا کہ ہم نے چیمپئن شپ میں ملک بھر سے آنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور بہت کچھ نیا سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اس کھیل میں بلوچستان اور ملک کے باقی علاقوں کی خواتین بھی حصہ لیں تاکہ شمشیر زنی کو مزید فروغ مل سکے۔ 
پنجاب کی کھلاڑی سعدیہ نے بتایا کہ شمشیر زنی جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے بہت اچھا کھیل ہے، اس سے خواتین ذاتی دفاع کیلئے اپنی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
ایپے کیٹگری میں گولڈ میڈل جیتنے والے برطانوی نژاد پاکستانی ذیشان اقبال چیمپئن شپ میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر لندن سے پاکستان آئے۔ انہوں نے بلوچستان کے کھلاڑیوں کی کوچنگ کے فرائض بھی سرانجام دیے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ دو برس سے شمشیر زنی کر رہے ہیں اور انہوں نے برطانیہ سے اس کھیل کی خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔ ذیشان اقبال نے کہا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ اب پاکستان میں بھی یہ کھیل کھیلا جاتا ہے اور اس کے قومی مقابلے ہو رہے ہیں تو وہ بھی حصہ لیے بغیر نہ رہ سکے۔
ذیشان اقبال نے کہا کہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر میں اس کھیل کا بہت ٹیلنٹ موجود ہے۔ خواتین بھی اس کھیل میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ اگر وسائل، سہولیات اور تربیت یافتہ کوچز کی خدمات فراہم کی جائیں تو پاکستان عالمی سطح پر اس کھیل میں اپنا نام پیدا کرسکتا ہے۔ 
مقابلوں میں شریک لاہور کے کھلاڑی حمزہ نصیر خان نے بتایا کہ بلوچستان کی ٹیم کی کارکردگی متاثر کن تھی۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ بلوچستان جیسے صوبے سے خواتین غیر روایتی کھیلوں میں بھی سامنے آرہی ہیں۔

شیئر: